وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی مذہب کا پیروکار ہونے سے پہلے انسان کا انسانیت پہ ایمان لانا لازم ہے۔ کیونکہ اگر آپ انسان کے شرف اور رتبے کے قائل ہی نہیں تو آپ کسی بھی مذہب کو تسلیم کر لیں یا لامذہب رہیں حقوق انسانیت کی دھجیاں ہی اڑائیں گے۔

حقوق کیا ہیں؟ سب سے پہلے کسی کو انسان تسلیم کرنا ، جیسے آپ جینے کا حق رکھتے ہیں وہی حق دوسرے کو بھی دینا بنیادی حق ہے۔ حقوق بہت سے ہیں مگر آج ہم بات کر رہے ہیں حقوق نسواں کی، تو کیا تمام ممالک کی عورتوں کے حقوق ایک جیسے ہوں گے؟ تمام مذاہب کی عورتوں کے حقوق ایک جیسے ہوں گے؟ ایران میں اگر بے پردگی پہ سزا ہے تو فرانس میں پردہ کرنے پر پابندی۔ امریکہ میں اگر کوئی خاتون ٹوپی والا برقعہ پہن کر پھرے تو اتنی ہی حیرت سے دیکھا جائے گا جتنا پاکستان میں اسکرٹ پہننے پر۔ہر ملک میں قانونی، معاشرتی، مذہبی مسائل پائے جاتے ہیں۔

اب ہم بات کرتے ہیں پاکستان کی جس میں اکثریت کا مذہب اسلام ہے جس میں بیٹی کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اس کی پیدائش پہ خوش ہوا جائے۔ مگر ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ بیٹی کی پیدائش پر سوگوار چہرہ بنا لیتے ہیں جبکہ رسول پاک نے بیٹی کو رحمت کہا، جناب فاطمہؓ تشریف لاتیں تو اپنی جگہ سے اٹھ جاتے اور اپنی بیٹی کو اپنی جگہ بٹھاتے۔

دوسرا حق بیٹی کو تعلیم دینا اچھی تربیت دینا مگر افسوس ہمارے معاشرے کچھ لوگ اس حق کو بھی بیٹوں کے لیے مخصوص رکھتے ہیں جبکہ اسلام میں مرد و عورت دونوں پر علم حاصل کرنا واجب ہے۔

تیسرا حق بیٹی کی شادی میں اس کی رضا مندی پوچھنا۔ ہمارے معاشرے میں کتنی بیٹیاں غیرت کے نام پہ اس لیے قتل کر دی جاتیں ہیں کیونکہ وہ اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ والدین پر فرض ہے کہ شادی کے مقدس فریضے میں اپنی اولاد خاص کر بیٹی کی پسند کو مقدم جانیں۔ رسول پاک کی خدمت میں جب حضرت علیؓ بی بی فاطمہؓ کی خواستگاری لیے آئے تو رسول پاک نے فرمایا کہ فاطمہؓ کی رضا مندی جان کر ہی جواب دوں گا۔ نکاح میں بھی ایجاب و قبول کی غرض سے نکاح خواں پہلے لڑکی سے اجازت لینے جاتا ہے ۔ یہ اصول ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا نے عورت کی مرضی کو نکاح میں مقدم جانا ہے۔

مرد کی چار شادیوں کی اجازت کو بھی کچھ مرد خوب ناجائز استعمال کرتے ہیں جبکہ اللہ نے اس کی اجازت صرف اس صورت میں دی کہ اگر تم انصاف کر سکتے ہو نہ کہ واجب کر دی۔ اس سہولت میں بھی مصلحت ہے کہ اگر ایک بیوی سے اولاد نہ ہو یا کوئی بھی ایسی صورتحال جس میں ضروری ہو تو دوسری شادی کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی عورت کو خلع کا حق دیا مگر یہاں مردوں کو چار شادیاں تو یاد رہیں مگر خلع کا نام سنتے ہی خون کھول جاتا ہے۔

گھریلو کام کاج میں بھی تمام ذمہ داریاں عورت پہ ڈال دینا نامناسب ہے۔ سیرت علیؓ اور فاطمہؓ کا مطالعہ کریں تو حضرت علیؓ گھریلو کام کاج میں بی بی فاطمہؓ کا ہاتھ بٹاتے اس کے علاوہ بی بی فضا جو کہ بی بی فاطمہؓ کی خادمہ تھیں ، ایک دن فضا گھر کا کام کرتیں اور بی بی فاطمہؓ بچوں کی دیکھ بھال کرتیں اور دوسرے دن فضا بچوں کو سنبھالتیں اور بی بی فاطمہؓ گھر کا کام کرتیں۔ اس سے ہمیں خواتین گھریلو ملازمین کے حقوق کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ہم ملازمہ رکھ کر تمام بوجھ اس پہ ڈال دیتے ہیں جبکہ وہ بھی تو عورت ہیں،  اپنے گھر کے کام کے ساتھ ساتھ وہ ہماری خدمت گزار بھی ہیں تو کیا یہ مناسب ہے کہ تمام گھریلو کام ان پہ ڈال کر ہم عیش و آرام کریں۔

جائیداد میں بھی عورت ایک طرح سے دگنا حق رکھتی ہے، ایک والدین کی طرف سے اور دوسرا شوہر کی جانب سے مگر یہاں حق کو کچھ ایسے سلب کیا جاتا ہے کہ کبھی قرآن سے شادی کی رسم بنا کر تو کبھی ڈرا دھمکا کر جائیداد سے لاتعلقی کے دستخط کروا لیے جاتے۔

اس کے علاوہ بہت سے مسائل پاکستانی خواتین کو درپیش ہیں جیسا کہ ریپ، تیزاب گردی، جنسی اور نفسیاتی تشدد اور دفتر، بازار، سڑک یا گھروں میں ہراسانی۔ ان تمام میں قانونی سزاؤں اور حکومتی سطح پر سختی نہ ہونے کے باعث اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا پاکستان میں حکومتی اور قانونی سطح پر خواتین کے حقوق کے مکمل اطلاق کے لیے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔

ان تمام حقوق میں نہ صرف پاکستانی مسلمان خواتین شامل ہیں بلکہ غیر مسلم خواتین کے حقوق کا دفاع بھی لازم ہے۔

عورت کو اپنے حقوق کا دفاع تعلیم سے کرنا ہو گا کیونکہ جہالت اور ظلم کو ختم کرنے کا یہی بہترین راستہ ہے۔ عورت کمزور نہیں یہ مرد سے زیادہ طاقتور ہے اس کی طاقت اور خوبصورتی کی مثال اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ آدم نے حوا کے بنا خود کو نامکمل محسوس کیا، عورت جو کبھی آسیہ کی صورت میں نبوت کو بچا لائی تو کبھی زینب کی سیرت میں امامت کی محافظ بنی۔ خدا نے اپنے بعد کسی کو تخلیق کی صلاحیت سے نوازا تو وہ عورت ہے۔ اسی سلسلے میں اقبال کا یہ شعر عورت کی پذیرائی میں اپنی مثال آپ ہے:

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply