سلطان ٹیپو کی افغانستان اور نپولین سے امیدیں کیوں پوری نہ ہوئیں؟
اٹھارہویں صدی کے اختتام پر ہندوستان میں انگریزوں کا تسلط تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اس پیش رفت کی راہ میں حیدر علی اور سلطان ٹیپو کی ذات ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ 4 مئی 1799 کو سلطان ٹیپو کی شہادت کے ساتھ میسور میں ہونے والی مزاحمت کا خاتمہ ہو گیا۔
ایسے تاریخی واقعات کا بار بار تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کون سے عوامل ان نتائج پر اثر انداز ہوئے۔ انگریزوں سے مقابلہ کے لئے سلطان ٹیپو نے ہندوستان سے باہر سے بھی مدد لینے کی کوشش کی تھی۔ اور اس سلسلہ میں افغانستان اور فرانس سے سفارتی رابطے بھی ہوئے تھے۔ جیسا کہ خاکسار پہلے ایک کالم میں جائزہ پیش کر چکا ہے کہ اس سلسلہ میں سلطان ٹیپو نے 1788 میں اپنے سفیر پیرس بھی بھجوائے تھے۔
اس کالم میں یہ مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا کہ جب انگریزوں اور سلطان ٹیپو کے درمیان آخری معرکہ ہوا تو اس وقت ان رابطوں کے کیا نتائج سامنے آئے۔ اس وقت افغانستان پر زمان شاہ کے حکومت تھی۔ پہلے 1792 میں سلطان ٹیپو نے اپنے سفیر افغانستان کے بادشاہ زمان شاہ کی طرف بھجوائے۔ اور پھر 1796 میں ایک بار پھر سلطان ٹیپو کے سفیر قیمتی تحائف کے ساتھ افغانستان کے بادشاہ زمان شاہ کے دربار میں پہنچے۔ یہ سفراء فقیروں کا بھیس بدل کر افغانستان پہنچے تھے لیکن آخر کار انگریزوں کو ان مذاکرات کی خبر مل گئی تھی۔
ان سفیروں نے پیشکش کی تھی کہ اگر زمان شاہ بیس ہزار سواروں کے ساتھ خود سلطان ٹیپو کی مدد کو آئے گا تو اس لشکر کا خرچ اور تین کروڑ روپیہ زمان شاہ کو ادا کیا جائے گا۔ زمان شاہ نے مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن انگریزوں کو یقین تھا کہ زمان شاہ سلطان ٹیپو کی مدد کو نہیں پہنچ سکے گا کیونکہ دونوں ریاستوں کے درمیان کافی فاصلہ تھا اور بیچ میں انگریزوں کے اتحادی نواب اودھ اور مرہٹے بھی حائل تھے۔
لیکن جب سلطان ٹیپو کی طرف سے خطرہ بڑھا تو برطانیہ نے ترکی کے عثمانی خلیفہ کی مدد لے کر فارس کے بادشاہ کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ جب ضرورت پڑے تو افغانستان کی سرحدوں پر فوجیں لے آئے تاکہ زمان شاہ کو یہ احساس ہو کہ ہندوستان کی طرف پیش قدمی کرنے کی صورت میں اس کا تاج و تخت خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس کا یہ نتیجہ یہ نکلا کہ جب سلطان ٹیپو اور انگریزوں کے درمیان آخری معرکہ ہو رہا تھا، اس وقت زمان شاہ ہندوستان کی طرف کسی قسم کی پیش قدمی نہیں کر سکا۔
(Proceedings of the Indian History Congress، vol. 33 pp 478-482 – 1971 )
البتہ اس وقت امریکہ کے اخبارات میں بھی یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ زمان شاہ اپنے فوجیں سرحد پر پہاڑ کے اوپر لے کر آیا تھا لیکن پھر واپس ہو گیا ہے اور اب انگریزوں کے مقابلہ پر سلطان ٹیپو تنہا رہ گیا ہے۔ کیونکہ فرانس کے جرنیل نپولین اور افغانستان کے بادشاہ زمان شاہ سے وابستہ کی گئی امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ اب یہی لگتا ہے کہ ٹیپو کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔
اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ شہادت کے قریب سلطان ٹیپو کو فرانس سے کس طرح امیدیں پیدا ہوئی تھیں اور ان کے کیا نتائج نکلے تھے؟ اس وقت نیپولین فرانس کا مطلق العنان فرمانروا نہیں تھا۔ اس کی حیثیت ایک جرنیل کی تھی۔ اس وقت مصر ترکی کی سلطنت عثمانیہ کا ایک حصہ تھا۔ 1798 میں نپولین کی قیادت میں فرانس کی فوجوں نے مصر پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ اس کا مقصد اپنی تجارتی پوزیشن کو بہتر بنانا تھا۔ پہلے منصوبہ یہ تھا کہ مصر پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد فرانس پندرہ ہزار فوجی سلطان ٹیپو کی مدد کے لئے بھجوائے گا تاکہ ہندوستان سے انگریزوں کا راج ختم کیا جا سکے۔
کئی برس سے سلطان ٹیپو فرانس سے رابطے میں تھے۔ بلکہ جس سال سلطان ٹیپو کی شہادت ہوئی اسی سال انگریزوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سلطان ٹیپو کا ایک خط پکڑا ہے جس میں فرانس کی حکومت کو ہندوستان میں انگریز افواج پر حملہ کرنے میں تعاون کی پیشکش کی گئی تھی۔ کچھ فرانسیسی فوجی اور ان کے افسران سلطان ٹیپو کی فوج میں شامل ہونے کے لئے پہنچے بھی تھے۔ لیکن ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی اور ان میں سے کئی بیمار ہو گئے اور کچھ مر بھی گئے۔
نپولین نے مصر پر قبضہ تو کر لیا لیکن اس قبضے کو استحکام حاصل نہیں ہوا۔ شام میں شکست سے دو چار ہونا پڑا اور اس کے بحری بیڑے کو بھی شکست ہوئی اور اس کی فوج کمزور ہو گئی۔ اور اس وقت امریکہ کے اخبارات میں بھی یہ خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ سلطان ٹیپو اس امید پر انگریزوں سے جنگ کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں کہ مصر میں موجود فرانسیسی فوجیں ہندوستان میں انگریزوں پر حملہ کرنے کے لئے بڑھیں گی۔ لیکن اب مصر میں فرانس کی افواج کی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے۔
لیکن اس کے باوجود نپولین نے سلطان ٹیپو کو یہ اطلاع نہیں دی تھی کہ موجودہ صورت حال میں فرانس کی افواج ہندوستان پہنچ کر ان کی مدد نہیں کر سکتی تھی۔ یہ پہلو دلچسپ ہے کہ نپولین مصر میں اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے مذہب کا استعمال بھی کر رہے تھے۔ اور وہ یہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ اسلام کے بہت مداح اور مسلمانوں کے ہمدرد ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ کے اخبارات میں بھی یہ خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ نپولین اور ان کے فوجی مصر میں پگڑیاں پہن کر پھر رہے ہیں تا کہ مقامی لوگ خوش ہوں۔
لیکن صرف مصر میں بیٹھ کر پگڑیا ں پہننے سے تو سلطان ٹیپو کی مدد نہیں ہو سکتی۔ عملی طور پر نپولین کی فوج کی یہ صورت حال نہیں تھی کہ وہ ہندوستان پہنچ کر انگریزوں سے ٹکر لے سکیں۔ اس حقیقت کے باوجود یہ افواہیں گرم تھیں اور عین ممکن ہے کہ دانستہ طور پر اڑائی جا رہی ہوں کہ فرانس کے ہزاروں فوجی ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔ اور یہ افواہیں اخبارات میں شائع بھی ہو رہی تھیں۔
(Gazette of the United States and Philadelphia Daily Advertizer March 28 & 31، May 3,19 July، 14 Aug 1799)
ان سب باتوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ جب سلطان ٹیپو اور انگریزوں کا آخری مرتبہ آمنا سامنا ہوا تو نہ زمان شاہ کی فوجیں ہندوستان میں داخل ہو سکی تھیں اور نہ نپولین کی فوجیں ان کی مدد کو آ سکی تھیں۔ ان نام نہاد اتحادیوں سے وابستہ کوئی بھی امید پوری نہ ہو سکی۔ ہندوستان کی طرف پیشقدمی نہ کرنے کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ نپولین کی فوجیں کمزور ہو چکی تھیں۔ کیونکہ جب سلطان ٹیپو اور انگریزوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ ہو رہی تھی، اس وقت نپولین نے شہر عکا [جو اب اسرائیل کا حصہ ہے] کا محاصرہ کیا تھا۔
اور اس مہم میں اسے ناکامی بھی ہوئی تھی۔ اگر اس کا کچھ بھی ارادہ ہوتا کہ وہ سلطان ٹیپو کی مدد کرے تو عین اس وقت وہ اتنی بڑی مہم شروع ہی نہ کرتا کیونکہ اس مہم کو شروع کر دینے کے بعد فوج کو ہندوستان کی طرف بھجوانے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سلطان ٹیپو کو محض غلط خواب دکھا رہا تھا۔ انگریز اور ان کے اتحادیوں کی فوجی قوت اکیلے سلطان ٹیپو کے مقابل پر بہت زیادہ تھی۔ اور آخر کار اس کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ سلطان ٹیپو کی فوجیوں کو شکست ہوئی اور اسی معرکہ میں وہ خود شہید ہو گئے۔

