جو بائیڈن پاکستان کو نظرانداز کر رہے ہیں اور چینی صدر کا دورہ بھی موخر ہو سکتا ہے


پاک چین سفارتی تعلقات کے 70 سال پورے ہو رہے ہیں اور یہ خوش آئند امر ہے کہ پاکستانی معاشرے میں جس امر پر اختلاف موجود نہیں ہے ان میں چین سے دوستی سرفہرست ہے۔ پاکستان میں چین سے قریبی تعلقات قائم کرنے کی افادیت کی حوالے سے مثبت رائے چینی انقلاب کے روبہ عمل میں آنے کے ساتھ ہی ہو گئی تھی اور اس کا اثر دونوں قوموں کی اجتماعی نفسیات پر بہت گہرا موجود ہے۔ یہ صرف لفاظی نہیں ہے بلکہ جب 2015 میں چینی صدر شی نے اپنا پاکستان کا پہلا دورہ کیا تو انہوں نے اس حوالے سے ایک مضمون تحریر کیا کہ جس میں انہوں نے اپنے جذبات یوں بیان کیے۔

When i was young , I heard many touching stories about Pakistan and the friendship between our two countries. To name just a few , I learned that the Pakistani people were working hard to build their beautiful country , and that Pakistan opened air corridor for China to reach out to the world and supported China on restoring its lawful seat in the United Nations . The stories have left me with a deep impression .

ان الفاظ میں موجود پاکستان کے لیے اپنائیت پاکستان کے لیے قومی اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور یہ کوئی تازہ جنوں نہیں ہے کہ چڑھا اور اتر گیا بلکہ دونوں ممالک کے صاحب الرائے اور مقتدر افراد کی سوچی سمجھی رائے کے یہ دوستی مزید توانا سے توانا تر ہونی چاہیے۔ جب 1949 میں چین میں کمیونسٹ انقلاب آ گیا تو دنیا میں اس وقت سرمایہ داری اور کمیونزم میں شدید جھگڑا چل رہا تھا۔ غیر کمیونسٹ مالک چینی انقلاب کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے تھے مگر ان حالات میں انقلاب کے صرف تین ماہ بعد 4 جنوری 1950 کو پاکستان نے اپنا ایک اعلیٰ سطحی وفد چین کے لیے بھیج دیا۔

اور معاملات سفارتی تعلقات کے قیام کی جانب بڑھنے لگے۔ دونوں ممالک کے درمیان 21 مئی 1951 کو باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہو گئے خیال رہے کہ پاکستان مسلمان ممالک میں سے وہ پہلا ملک تھا جس نے چینی انقلاب کے بعد اس سے سفارتی تعلقات قائم کیے جبکہ غیر کمیونسٹ ممالک میں تیسرا ملک تھا جس نے یہ قدم اٹھایا۔ اس سے باآسانی اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی حکومت اس معاملے کا کتنی معاملہ فہمی سے جائزہ لے رہی تھی اور یہ بات بھی دھڑام سے گر جاتی ہے کہ پاکستان آزاد خارجہ پالیسی کی بجائے برطانیہ اور امریکہ کی طرف اس وقت دیکھ رہا تھا۔

اس کے بعد انیس سو پچپن میں چین کی طرف سے اعلی سطحی وفد نائب صدر Madam Song Ching کی قیادت میں پاکستان پہنچا اور اعلی سطحی دوروں کی داغ بیل ڈال دی گئی جبکہ جواب میں وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے 1956 میں چین کا دورہ کیا۔ انیس سو تریسٹھ میں کیے گئے پاکستان اور چین کے مابین باؤنڈری ایگریمنٹ کو اہم ترین دستاویز کی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کے نتیجے کے طور پر چین کے ساتھ تمام سرحدوں کو باقاعدہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں بھی کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔

پاکستان غیر کمیونسٹ ممالک میں وہ پہلا ملک بنا جس کی ائر لائن نے بیجنگ کے لیے انیس سو چونسٹھ میں فلائٹس کا آغاز کیا۔ اور دنیا سے چین کی تنہائی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ اسی طرح انیس سو چھہتر میں سائنٹیفک اینڈ کلچرل کوآپریشن کا معاہدہ ہوا جس نے سائنسی امور پر پاکستانیوں کے لئے نیا راستہ کھول دیا۔ انیس سو اٹھتر کی قراقرم ہائی وے نے پاکستان کو مغربی چین سے ملا دیا جبکہ چین کے لئے بحیرہ عرب تک رسائی بھی ممکن ہو گئی۔

اسی طرح انیس سو پچانوے میں پاکستان چین قازقستان اور کرغزستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ ہوا اور سینٹرل ایشیا سے لے کر یوریشیا تک کے راستے کھلنے لگے۔ پاکستان کو اپنے قیام کے وقت سے ہی بھارت سے دفاعی خطرہ درپیش رہتا ہے اس درپیش خطرے اور بھارت کی فضائی برتری کو قائم نہ ہونے دینے کے لیے نواز شریف حکومت نے 1999 میں چین سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے بنانے کا معاہدہ کیا اور یہ لڑاکا طیارے 2010 میں پاکستان کے فضائی بیڑے میں شامل ہو گئے جن کا مزہ ابھینندن کی صورت میں بھارت نے چکھ بھی لیا۔

2013 میں زرداری حکومت کے دور میں چینی وزیراعظم لی پاکستان آئے اور Comprehensive strategic coopearation کے تصور پر دونوں ممالک نے گفتگو کی۔ 2013 میں پاکستان میں نواز شریف حکومت قائم ہو گئی تھی اسی سال انہوں نے چین کا دورہ کیا اور
Vision for deeping China. Pakistan strategic partnership in the new era
کو پیش کیا گیا اور پھر صدر شی نے 2015 ءمیں پاکستان کا تاریخی دورہ کیا جس میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے چینی پلان کے بنیادی منصوبے سی پیک پر دستخط ہوئے اور پھر کام شروع ہو گیا۔

اس حوالے سے کوئی دوسری رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے پاکستان میں کوئی بھی حالات ہمارے باہمی تعلقات کو بگاڑ نہیں سکتے مگر یہ قابل تشویش ہے کہ 2018 کی ”سیاسی تبدیلی“ کے بعد ایک خاموشی سی محسوس ہونے لگی ہے اور سی پیک پر خاموشی بہت غیر مناسب ہے۔ ویسے ہی ہماری دنیا میں سفارتی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے مثال کے طور پر صدر جو بائیڈن کے برسر اقتدار آنے کے ایک ماہ بعد تک ان کا عمران خان سے فون پر رابطہ نہ ہونا بہت معنی خیز ہے۔ اس وقت چینی سفارتی حلقے یہ استفسار کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا کیونکہ وہ صدر شی کا اپریل کے بعد دورہ پاکستان پلان کر رہے ہیں۔ مگر مؤخر ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ غیر معمولی بات ہو گی۔

Facebook Comments HS