سکھوں کی ٹرین ٹو پاکستان چھوٹ گئی: چند حقائق


فیصل مسعود صاحب کا مضمون ”سکھوں کی ’ٹرین ٹو پاکستان‘ ، جو چھوٹ گئی“ دیکھا تو تاریخ کے اس ادنیٰ طالب علم کو دھچکا سا لگا۔ راقم اس سے قبل اپنے استاد ڈاکٹر فیصل مسعود کے متعلق لکھ چکا ہے جو وفات پا چکے ہیں، لیکن ان کے ہم نام لکھاری، جو ابھی تک حیات ہیں، کی تحریر میں بہت سے جھول نظر آئے۔ بظاہر فیصل صاحب نے مضمون کے عنوان میں خوشونت سنگھ کی مشہور کتاب کا حوالہ دیا ہے لیکن متن میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ سن وارانہ (chronological) طور پر دیکھا جائے تو محترم نے مارچ سنہ 1940 سے مارچ 1947 تک کا فاصلہ ایک جست میں مکمل کیا، یہ اور بات کہ ان سات سالوں میں ہندوستانی تاریخ میں بہت بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں۔

مارچ 1940 میں جو قرارداد لاہور منظور ہوئی تھی، اس پر عمل درآمد کے لئے نقل مکانی کی ضرورت تو نہیں پڑنی تھی لیکن اس کے مطابق جغرافیائی طور پر متصل آزاد ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا ویسے تو اس قرارداد میں اقلیتوں کو مناسب اختیارات اور قانونی تحفظات کا مطالبہ بھی تھا لیکن اتنی تفصیل سے ان چیزوں کو دیکھتا ہی کون ہے۔ سنہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو انگریز سرکار نے ہندوستان سے نکلنے کی ٹھانی۔

1942 کا کرپس مشن اور 1946 کا کیبنٹ مشن اسی سلسلے میں ہندوستان وارد ہوا تھا۔ ان سات سالوں میں جناح صاحب اور مہاتما گاندھی کے مابین ہندوستان کے مستقبل کے متعلق مذاکرات بھی ہوئے۔ اپنی بین بجانا مقصود نہیں لیکن اگر فیصل صاحب خاکسار کا دسمبر 2014 میں دی نیشن اخبار میں چھپا مضمون ”The Forgotten Massacre“ دیکھ لیں تو نوازش ہو گی۔ اس مضمون میں فسادات پنجاب کا کچھ سیاق و سباق بیان کیا تھا۔ عرض کیا تھا کہ فسادات کی ابتدا کلکتہ میں ڈائرکٹ ایکشن ڈے منانے سے شروع ہوئی جو مسلم لیگ کی ایما پر ہوا۔

مارچ 1947 میں یونینسٹ حکومت برخاست کر کے پنجاب میں گورنر راج لگا دیا گیا۔ مارچ کے آغاز میں فسادات لاہور اور امرتسر سے شروع ہوئے اور جہلم، سرگودھا اور راولپنڈی تک پھیل گئے۔ فسادی گروہوں کو امداد اور اسلحہ مسلم لیگ کے کرتا دھرتا افراد کی جانب سے مہیا کیا گیا۔ بعد ازاں متاثرین کے قافلے ہندو اور سکھ اکثریت علاقوں میں پہنچے تو وہاں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پنجاب اور خاص طور پر راولپنڈی اور ہزارہ ڈویژن میں قتل و غارت گری کی ضلع بہ ضلع تفصیل دیکھنی ہو تو گوگل پر ”Muslim League Attacks on Sikhs and Hindus in 1947“ نامی رپورٹ ڈھونڈ کر پڑھ لیجیے۔

عینی شاہدوں کی گواہی چاہیے تو کرنل نادر علی کی آپ بیتی تلاش کر لیں۔ اس موضوع پر مدیر ”ہم سب“ وجاہت مسعود کا قرارداد مقاصد پر طویل مضمون دیکھ لیں۔ کاٹھیاواڑ سے گورداسپور تک کی تخلیاتی لکیر بٹوارے سے پہلے موجود نہیں تھی اور نہ ہی یہ علاقہ تاریخی طور پر شمالی ہندوستان سے جدا تھا۔ یہ نظریہ احمد حسن دانی سے چلتا ہوا اعتزاز احسن کے انڈس ساگا تک پہنچا لیکن شواہد کے بغیر۔ مغل بادشاہوں کے دور میں لاہور اور دہلی ایک ہی ریاست کا حصہ تھے۔

بیسویں صدی میں پنجاب میں نہری نظام کی کھدائی کے بعد کینال کالونیاں بسائی گئیں تو ان میں پنجاب اور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے لوگ آ کر آباد ہوئے۔ کئی سکھ گھرانے پنجاب کے مشرقی حصے سے کینال کالونیوں میں منتقل ہوئے اور انہیں بٹوارے کے بعد واپس مشرقی پنجاب بھیجا گیا۔ جہاں تک گاندھی کی آشیرباد کے ساتھ حاضر سروس جرنیل کی حکمرانی کا سوال ہے تو ماؤنٹ بیٹن کو برطانوی حکومت نے وائسرائے بنا کر بھیجا تھا۔ بٹوارے کے بعد ہندوستان کی حکومت کانگرس کے ذمے تھی، ماؤنٹ بیٹن کی حیثیت محض نمائشی تھی (جیسے پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد صدر کی ہے ) ۔

ہندوستان اور پاکستان اپنے آئین مرتب کرنے تک قانونی نقطہ نگاہ سے برطانوی ڈومینین تھے۔ کشمیر میں جنگ کا ذکر کیا جائے تو اس کا آغاز پونچھ میں مہاراجہ کے خلاف شروع ہونے والی تحریک سے ہوا۔ یہ تحریک شروع تو جیسے تیسے ہوئی تھی، اس کو بعد ازاں پاکستانی حکومت کی درپردہ حمایت حاصل تھی۔ اگر یہ ”مجاہدین“ جنہیں جہاد کا لالچ دیا گیا تھا، بارہ مولا میں لوٹ مار نہ کرتے تو سرینگر پر پاکستان کا پرچم لہرا چکے ہوتے۔ ہندوستانی فوج مہاراجہ کی مدد کے لیے الحاق کے بعد پہنچی تھی۔

بٹوارے سے پہلے جرنل گریسی اور آکنلیک کو ”اوپر“ سے حکم آیا تھا کہ پاک بھارت تنازعے میں حصہ نہیں لینا۔ اسی وجہ سے جرنل گریسی نے قائد اعظم کا حکم ماننے سے انکار کیا تھا (اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ ان کا یہ فیصلہ ٹھیک تھا یا غلط) ۔ جہاں تک نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کا ہندوستان کی سینکڑوں چھوٹی بڑی خود مختار ریاستوں کو ہڑپ کرنے کا الزام ہے تو یہ اتنا سیدھا سادہ معاملہ نہیں کہ اسے ایک جملے میں ٹرخا دیا جائے۔ پانچ سو کے قریب خودمختار ریاستوں میں بہت کم تھیں جن کی آبادی مسلم اکثریت میں تھی۔

قلات، سوات، بہاولپور، حیدرآباد اور کشمیر کے علاوہ شاید ہی کسی اور خودمختار ریاست میں مسلم اکثریت تھی۔ قلات کے پاکستان سے الحاق کی کہانی بہت سے لوگوں کے لئے متنازعہ ہے، اس پر بحث پھر کبھی سہی (اگر طلبا اس معاملے میں راقم کی رائے جاننا چاہتے ہیں تو کیمبرج یونیورسٹی پریس کی کتاب Muslims against the Muslim League کا چودھواں باب ملاحظہ کریں ) ، سوات اور بہاولپور پاکستان میں شامل ہوئے، حیدرآباد پاکستان میں شمولیت کا متمنی تھا لیکن جغرافیائی طور پر ملاپ مشکل تھا اور وہاں شروع ہونے والی چھوٹی سی بغاوت کی بنا پر ہندوستان نے پولیس ایکشن کیا جو میرے خیال میں درست فیصلہ نہیں تھا۔

چھوٹی ریاستوں میں سے بیشتر نے اپنی مرضی سے ہندوستان میں شمولیت اختیار کی۔ کچھ ریاستوں کے معاملے میں زیادتی بھی ہوئی جو قابل مذمت ہے۔ اس موضوع پر یعقوب بنگش کی کتاب A princely affair: The accession and integration of the princely states سے رجوع کریں۔ کشمیر کے معاملے میں قبلہ نے گورداسپور کی تین تحصیلوں کو ذکر کیا ہے۔ بٹوارے سے قبل گورداس پور کی چار تحصیلیں تھیں۔ ریڈکلف نے ان میں سے تین (جن میں دو مسلم اکثریتی تھیں ) ہندوستان کو دیں۔

شیریں الٰہی نے اپنے تحقیقی مقالے The Radcliffe Boundary Commission and the Fate of Kashmir میں لکھا ہے کہ اگر وہ دو تحصیلیں پاکستان میں مل جاتیں تو بھی پٹھان کوٹ جہاں مسلم اکثریت نہیں تھی، ہندوستان کو ملتا اور پٹھان کوٹ سے کشمیر کا زمینی رابطہ موجود ہے۔ قبلہ کی اس بات سے کچھ حد تک اتفاق ہے کہ کشمیر پر جھگڑا نہ ہوتا تو شاید پاکستان اور ہندوستان کے مابین کئی جنگیں اور جھڑپیں نہ ہوتیں۔ سکھ اگر پاکستان کا انتخاب کرتے تو ان کا حال بھی یہاں رہنے والی دیگر اقلیتوں جیسا ہوتا۔ پنجاب میں عیسائی اور سندھ میں ہندو اقلیتوں کا حال دیکھ لیں۔ سکھوں کو کم از کم ہندوستان میں احتجاج کی اجازت تو ہے۔ ہم نے تو قرارداد لاہور کا جنازہ قرارداد مقاصد کے ذریعے نکال لیا تھا۔

سکھوں کی ’ٹرین ٹو پاکستان‘ ، جو چھوٹ گئی

Facebook Comments HS

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 38 posts and counting.See all posts by abdulmajeed