وہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون آرٹسٹ جن کے فن پارے ملکہ کے شاہی محل میں سج گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امینہ آرٹ انصاری کہتی ہیں وہ پاکستان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں اور وہ خواتین کی ارطغرل ہیں۔

امینہ آرٹ انصاری ایک ایسی پاکستانی نژاد برطانوی آرٹسٹ ہیں جن کی ملکہ الزبیتھ دوئم اور ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا، پرنس فلپ کی بنائی ہوئی دو پینٹگز، پہلے برطانوی پارلیمنٹ میں نمائش کے لیے رکھی گئیں اور اب ملکہ کے ونڈسر محل میں سجائی گئی ہیں۔

وہ برطانیہ اور پاکستان میں صف اول کی نوجوان آرٹسٹ بن کر ابھری ہیں لیکن انہیں اس مقام تک پہنچنے کے لیے کئی مشکل رکاوٹوں کو عبور کرنا پڑا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو ان کے بولنے کی صلاحیت تھی کیونکہ پیدائش سے ہی پورے طور پر سُن نہ پانے کی وجہ سے وہ صاف نہیں بول پاتیں۔

”جب آپ پیدائش سے ہی اتنے بڑے مسئلے کا شکار ہوں تو پھر زندگی بھر آپ کو دشواریوں کا سامنا رہتا ہے،“ امینہ انصاری نے مجھے ایک زوم گفتگو میں بتایا۔ ان کے بقول وہ بچپن سے ایک باغی تھیں اور انہوں نے سب کچھ وہ کیا جو ان کے دل نے چاہا۔

”سکول کے اساتذہ کہتے تھے میں اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاؤں گی، وہ کہتے تھے خصوصی بچوں کے سکول میں داخل ہو جاؤ، تم کبھی کچھ بہت بڑا نہیں کر پاؤ گی۔ سکول میں مجھے دوسرے بچے تنگ کرتے تھے، بُلی کرتے تھے، اساتذہ نظرانداز کرتے تھے، لیکن میں نے اپنے اساتذہ کو میرے لیے فیصلے نہیں کرنے دیے اور اپنی مرضی سے مستقبل کا انتخاب کیا۔“

انہوں نے لندن کے ممتاز سینٹرل سینٹ مارٹن اور لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس جیسے اداروں سے تعلیم و تربیت حاصل کی ہے۔

امینہ آرٹ انصاری کو حال ہی میں دی ویرائیٹی کلب کی جانب سے فائن آرٹس کی کیٹیگری میں بیسٹ آرٹسٹ کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بین الاقوامی ایوارڈز سعدیہ قاضی نے لندن سے شروع کیے تھے اور اب سے پہلے میوزک، ایکٹنگ، فیشن اور پرفارمنگ آرٹس وغیرہ کے شعبوں میں دیے جاتے تھے۔ لیکن اب پہلی مرتبہ ان میں فائن آرٹس کی کیٹیگری بھی شامل کی گئی ہے۔

پاکستان کے نامور اداکار نعمان اعجاز اور کلاسیکی رقاصہ ناہید صدیقی بھی اس سے قبل یہ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ امینہ انصاری کو ملنے والے ایوارڈز میں یہ تازہ ترین ایوارڈ ہے لیکن اس سے قبل وہ برطانوی پارلیمنٹ ایوارڈ اور الحمراء ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔

امینہ کہتی ہیں کہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے لیکن اصل تربیت زندگی کی یونیورسٹی میں ہوتی۔ ”ہمیں آؤٹ آف باکس سوچنا چاہیے اور سوچ کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔“ ان کے بقول پڑھنے اور سیکھنے کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ بہت سارے لوگوں کو عبور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ انہوں نے ڈگریاں تو حاصل کر لی ہیں، لیکن انہیں آتا کچھ نہیں۔ ”تمام زندگی سیکھنے کے لیے ہے۔“

انہوں نے بتایا کہ جب وہ بہت چھوٹی تھیں تو ان کو خاندان والوں نے اور نہ ہی سکول میں بتایا گیا کہ وہ جس مسئلے کا سامنا کر رہی ہیں اس سے پر کیسے قابو پانا ہے۔ ”بس زندگی میں پھر بہت کچھ خود ہی سیکھنا پڑتا ہے۔“

”میری ماں نے بہت محنت کی ہے اور ہم نے اپنے لیے زندگی بنائی ہے“ ۔ امینہ آرٹ انصاری، برطانیہ کی معروف ایشیائی سماجی شخصیت دردانہ انصاری کی بیٹی ہیں جو بی بی سی اردو اور بی بی ورلڈ سروس سے بھی وابستہ رہ چکی ہیں۔ دردانہ انصاری برٹش رائل نیوی میں اعزازی کمانڈر ہیں اور انہیں سماجی کام کی وجہ سے ملکہ کا او بی ای ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔

امینہ انصاری کا آرٹ کے میدان میں اپنا ایک منفرد انداز ہے۔ وہ ریئلٹی، ایبسٹریکٹ اور ایکسپریشنزم کے خوبصورت امتزاج سے پورٹریٹ فن پارے تخلیق کرتی ہیں۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں محمد علی جناح، عبدالستار ایدھی، بے نظیر بھٹو، عاصمہ جہانگیر، چی گویرا، فیدیل کاسترو، ملکہ الزبیتھ دوئم، ان کے شوہر پرنس فلپ، بہو کیٹ مڈلٹن، کیناڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور متعدد دیگر اہم شخصیات کی پینٹنگز بنائی ہیں۔ وہ ملالہ یوسفزئی اور دیگر پاکستانی ہیروز کی پینٹنگز بھی بنانا چاہتی ہیں۔ ان دنوں وہ کووڈ سے متاثرہ لوگوں کے پورٹریٹس پر کام کر رہی ہیں۔

امینہ کے فن پاروں میں گہری جذباتیت جھلکتی ہے اور وہ اپنے فن کے ذریعے انسانی جذبوں اور تعلقات کو موسیقی اور شاعری جیسی خوبصورتی بخشتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جو بھی وہ پینٹ کرتی ہیں اپنی مکمل ایمانداری سے کرتی ہیں۔

امینہ نے حال میں خاصا عرصہ پاکستان میں گزارا جہاں انہوں نے کئی پینٹنگز مکمل کیں اور خوب نام کمایا۔ انہوں نے اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کے دوران شوقین آرٹسٹوں کی نفسیاتی صحت کی بہتری کے لیے ورکشاپ منعقد کیں اور نوجوانوں کو تربیت دی۔ ان کے کام کی بی بی سی ورلڈ کے علاوہ مقامی میڈیا پر خوب پذیرائی ہوئی۔

”میں پاکستان کے بغیر نہیں رہ سکتی“ امینہ آرٹ انصاری نے فخریہ کہا۔ ان کے بقول برطانیہ اور پاکستان دونوں ہی ان کے وطن ہیں اور وہ ان کے درمیان ایک پُل کا کام کر رہی ہیں۔

پاکستان میں قیام کے تجربات شیئر کرتے ہوئے امینہ نے کہا کہ جب وہ شروع میں وہاں گئیں تو انہیں بہت بڑا کلچرل شاک لگا، لیکن پھر دھیرے دھیرے وہ وہاں کے کلچر میں گھل مل گئیں۔ ان کے بقول برطانیہ میں ہر چیز کا طریقہ، اصول اور قوانین ہیں جس کی وجہ سے معمولی کام بھی مشکل ہو جاتے ہیں لیکن پاکستان میں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ہر کام کے لیے جگاڑ موجود ہے۔

امینہ نے بتایا کہ ان کی ورکشاپس میں جب سیکھنے کے لیے نوجوان آنے لگے تو ان کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ ان کی زندگیاں بدل رہی ہیں۔ ”میں مشکل صورتحال اور نامساعد حالات سے دوچار لوگوں کے ساتھ کم کرتی رہی ہوں۔“

امینہ کہتی ہیں کہ ان کا پیغام انسانیت ہے اور وہ اسے ہر جگہ پھیلانا چاہتی ہیں۔ ”میں پیغام پھیلانے کے حوالے سے ملالہ دوئم بننا چاہتی ہوں اور میں عورتوں کی ارتغرل ہوں اور سچائی کی راہ پر چلتی رہوں گی۔“

امینہ کہتی کہ پاکستان میں وہ بہت خوش تھیں اور انہوں نے جمال شاہ سمیت متعدد بڑے فنکاروں کے ساتھ کام کیا اور بہت سیکھا۔ ان کے بقول پاکستان میں لوگ فن، ادب اور دنیا کے بارے میں برطانیہ کے لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں۔

امینہ آرٹ انصاری کو ابھی بہت کام کرنا ہے اور مستقبل ابھی ان کے سامنے ہے، لیکن وہ اس عمر میں ہی پاکستان اور برطانیہ کی بعض تاریخ ساز شخصیات کی ایک اہم مصورہ کا مقام حاصل کر چکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جاوید سومرو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply