تشدد کی شکار خواتین 8 مارچ تک صبر کریں: ادارے سلوگن سوچ رہے ہیں
خواتین کا عالمی دن آتا ہے تو ہر جانب سے شور و غوغا سنائی دیتا ہے کہ عورتوں پر ظلم ہو رہا ہے، ان پر گھریلو تشدد ہو رہا ہے، این جی اوز اپنی اپنی سالانہ رپورٹس لئے بازار میں آ جاتی ہیں، یقیناً سال بھر کی کمائی یہیں سے ہو گی۔ عورتوں کا دوپٹہ ان کے سرپر ہو گا یا مردوں کی آنکھوں پر، کھانا اوون گرم کرے گا یا مرد خود ایسی فضول اور واہیات بحث کا آغاز ہو جاتا ہے اور اصلی مسائل کہیں پس پردہ رہ جاتے ہیں۔
ابھی مارچ کا آغاز ہوا ہی ہے اور میرے جیسی خاتون جو اس وقت پاکستان کے ایک بڑے اخبار کے ساتھ منسلک ہے، اسے اپنی دوست کی حالت کا معلوم ہوتا ہے، جسے اس کے شوہر نے مارپیٹ کر رات کے گیارہ بجے گھر سے تنہا نکال دیا، اس پر مزید افتاد کہ تھانے میں موجود ایس ایچ او نے بھی اس کی تضحیک کی، ”بی بی کیا ہو گیا اگر شوہر نے دو تھپڑ لگا دیے، کیوں رات کے دو بجے خود بھی خوار ہو رہی ہو اور ہمیں بھی زچ کر رہی ہو۔ جاؤگھر جا کر صلح صفائی کر لو، کوئی نہیں مرد کبھی کبھی ہاتھ اٹھا ہی لیتے ہیں۔“
اس کے بعد میں جو ایک صحافی بنی پھرتی ہوں ، میں ایک جانی مانی این جی او میں کال کر تی ہوں، فون اٹھانے والی موصوفہ بھی کئی برسوں سے مجھے جانتی ہیں، وہ کہانی سننے کے بعد مجھے پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کے ایک عدد لیگل ایڈوائزر کا نمبر تھا دیتی ہیں، جن کا کام ہی ایسی خواتین کی مدد کرنا ہے، وہ میری بات سن کر مجھے پیر کو کال کرنے کا کہتے ہیں۔
پیر کو کال کرنے کے بعد وہ جناب ایک ایسی میٹنگ میں پھنسے ہوئے تھے جو بالکل بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، خدا خدا کر کے جب میٹنگ ختم ہوئی موصوف نے کال پر بات کرنا گوارا کی، اور اتنا کہا کہ ٹھیک ہے دوست سے کہیے کسی وقت میرے دفتر کا چکر لگا لے یا کال کرلے اور اس کی کال سن کر مزید انتظار کا مشورہ دیا کہ وہ دوبارہ کسی میٹنگ میں پھنس چکے ہیں۔ ایک عورت جس کے بچے بھی اس سے چھین لئے گئے ہیں، اسے رات کو تن تنہا، خالی ہاتھوں گھر سے نکال دیا گیا ہے، جو برطانیہ واپس بھی نہیں جا سکتی کہ اس کے پاس پاسپورٹ ہے نہ ہی بچے، وہ کسی بھی وقت ان کے دفتر کا چکر لگا لیں۔
وہ خود ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی ہے، اس نے پرائم منسٹر تک کو ای میل بھیجی ہے، لیکن کہیں سے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ہم جیسی شریف گھرانوں کی لڑکیاں جنہوں نے کبھی کسی وکیل کی شکل نہیں دیکھی، انہیں پاکستانی عدالتوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، یہ نام نہاد این جی اوز پتا نہیں کن کی مدد کرتی ہیں؟ مجھے کوئی ایسا ادارہ نظر نہیں آ رہا جو میری دوست کی مدد کر سکے۔ کم از کم اس کا پاسپورٹ ہی بازیاب کروا لیا جائے۔ وہ ملک سے باہر چلی جائے، وہاں اسے شوہر سے مزید تھپڑ کھانے کا مشورہ نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی مرنے کے لئے سڑک پر تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔
میں سوچ سوچ کر حیران ہو رہی ہوں، ایک کم پڑھی لکھی اور سادہ عورت کا اس معاشرے میں کیا حال ہوتا ہو گا؟ میں جو خود کو خودمختار اور باشعور سمجھتی ہوں میری عقل ٹھکانے آ گئی ہے اور سمجھ سے باہر ہو رہا ہے کہ کس کے سامنے جا کر عرضی پیش کی جائے؟ اب تو میرا این جی اوز اور حکومت کے نام نہاد فلاحی اداروں سے یقین ہی اٹھ گیا ہے۔
اس ویمن ڈے پر میں قسم کھاتی ہوں کہ آئندہ کسی بھی نجی و سرکاری، فلاحی ادارے کی سربراہوں کے انٹرویوز نہیں کروں گی، وہ سب رٹی رٹائی باتیں ہوتی ہیں عملاً یہ لوگ جوکچھ کرتے ہیں وہ میرے سامنے ہے!
ان کی باتیں کچھ یوں ہوتی ہیں، ”جی آپ آئیں اور دیکھیں ہمارا ادارہ کس طرح خواتین کی مدد کے لئے کوشاں ہے“ ۔ میں نے جب ادارے کا انتظام سنبھالا تو صرف ایک میز اور کرسی تھی، اب دیکھیے ہم نے خواتین کے حقوق کے کتنے بل پاس کروا لیے۔ ”ہم نے سال بھر میں گھریلو تشددکا شکار بننے والی عورتوں کا ریکارڈ بھی جمع کیا ہے، آپ انٹرویو کیجیے ناں، تاکہ لوگوں میں آگاہی پھیلے۔ ہماری ہیلپ لائن بھی ہے جہاں تشدد کا شکار خواتین فوری مدد کے لئے کال کر سکتی ہیں۔”
خدا کی قسم عملی طور پر کسی ہیلپ لائن، کسی ادارے یا کسی این جی او نے مدد نہیں کی۔ ہو سکتا ہے یہ سب لوگ آٹھ مارچ کے بینر تیار کرنے میں مصروف ہیں، اس لئے فی الحال تشدد کی شکار تمام خواتین کو چاہیے تھوڑا صبر کر لیں، نو مارچ سے عین ممکن ہے یہ لوگ مدد کرنے کے قابل ہوں۔


