عہد حاضر کی معتبر شاعرہ نصرت مہدی


اردو شعریات کی طویل رہ گزر پر خواتین کی نمائندگی یوں تو ہر دور میں رہی ہے لیکن بیسویں صدی کے نصف آخر میں ان شاعرات کی ایک طویل فہرست ہمارے سامنے ہے جنھوں نے اپنی شاعری میں نہ صرف یہ کہ نسائی جذبات و احساسات کو رقم کیا بلکہ اپنے مخصوص لہجے کو بھی اس کے تمام شوخ رنگوں کے ساتھ برتا۔

اس کا اثر بعد میں آنے والی شاعرات نے بھی قبول کیا اور پوری خود اعتمادی کے ساتھ اپنے افکار کو اپنے انداز میں پیش کیا۔ اس حوالے سے دیکھیں تو ڈاکٹر نصرت مہدی نے اکیسویں صدی کی ان دو دہائیوں میں اپنا جو بھی شعری سرمایہ سمیٹا ہے، اس میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جن کا ذکر ابھی میں نے کیا ہے۔ ان کا جس ادبی و علمی معاشرے سے تعلق ہے وہ اردو زبان وادب کے حوالے سے ہمیشہ عالم میں انتخاب رہا ہے۔

ڈاکٹر نصرت مہدی جو ایک طویل عرصے تک مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی سکریٹری رہیں۔ انھوں اپنی انتظامی صلاحیتوں سے اکیڈمی کے وقار میں اضافہ کیا۔ کئی سال تک اردو ہفتہ منایا جس کے ذریعے فنون لطیفہ کے تعلق سے وہ بہت سے کام کیے جو زبان و ادب کو مقبول بنانے میں معاون ثابت ہوتے۔ افسانے کا افسانہ، ڈرامہ، بیت بازی، تلاش جوہر اور سب سے بڑھ کر جشن اردو جیسا عالیشان پروگرام ، ایسے پروگرام تھے جنہوں نے عوام و خواص کو اردو زبان و تہذیب کی طرف راغب کیا اور مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا وقار پورے ہندوستان کی اردو اکادمیوں میں بلند کیا۔

ڈاکٹر نصرت مہدی

جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو ڈاکٹر مہدی نے بھی معاشرے کے تلخ و ترش اور انتشار و احتجاج کو جس خوبی سے شعری پیکر میں ڈھالا ہے ، وہ یقیناً قابل تعریف ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان کے سحر انگیز ترنم نے تلخ باتوں کو بھی شیرینی کا ایک سبک دریا بنا دیا۔ میں یہاں تفصیل سے ان کی شاعری کا کوئی تجزیہ نہیں پیش کر رہا ہوں بلکہ وہ چند اشعار پیش کر رہا ہوں ، جن میں اکیسویں صدی کی دو دہائیوں کا لہو رنگ منظر نامہ موجود ہے۔ اس کو انھوں نے جس فنی مہارت سے نظم کیا ہے وہ یقیناً قابل داد ہے۔

ان کے شعری سروکار میں جو چیز سامع یا قاری کو متاثر کرتی ہے ، وہ مضمون آفرینی تو ہے ہی ، ساتھ ہی الفاظ کی رنگا رنگی بھی ہے۔

عمل کا ردعمل وقت کا جواب ہوں میں
قبول کیجیے قدرت کا انتخاب ہوں میں

انا پہ آئی تو ٹکرا گئی ہوں دریا سے
بساط ویسے میری کچھ نہیں، حباب ہوں میں

ہونی ہوں کسی حال میں ٹلنے کی نہیں ہوں
میں وقت کے ہاتھوں سے نکلنے کی نہیں ہوں

یہ بات صحیح ٹوٹ کے بکھری تو بہت ہوں
یہ بات غلط ہے کہ سنبھلنے کی نہیں ہوں

فضا می پھیلی ہوئی تیرگی میں شامل ہوں
سکوت شب میں تری خامشی میں شامل ہوں

اگر یہ سچ ہے تو محسوس کیوں نہیں ہوتا
اے وقت میں تری موجودگی میں شامل ہوں

ان اشعار میں ہمارے عہد کی سچائیاں بھی ہیں اور کرب بھی۔ تمام تر ترقیوں کے باوجود آج بھی ہم ایک عورت کو جس زاویے سے دیکھتے ہیں ، ہر حال میں اپنی برتری کو ملحوظ رکھتے ہیں جبکہ عورت بھی سماجی برابری کا پورا حق رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو اس طرح بنایا ہے کہ ایک کے بغیر دوسرا مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ کائنات فلسفۂ تضاد کا ایک ثبوت ہے یہاں کسی کو کسی پر فوقیت نہیں ہے بلکہ جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔

اس فلسفے کو خود ڈاکٹر نصرت مہدی کے ان اشعار میں محسوس کیجیے۔

حق پرستوں کی جہاں رائے شماری ہوگی
سب سے پہلے وہاں آواز ہماری ہوگی
تول کر دیکھ لے عظمت کے ترازو میں اسے
میری چادر تیری دستار سے بھاری ہو گی

عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں
اس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں
میں کہاں اپنی کسی فکر کے اظہار میں تھی
میں تو ہر دور میں سونپے ہوئے کردار میں تھی

یہاں ردیف کی تھی یا ہوں میں پڑے بغیر اگر دیکھا جائے تو سچائی یہی ہے کہ عورت کو ایک کردار دینے میں اس کے معاشرے کا ہی اہم ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ کہیں ماں ہے، کہیں بہن ہے، کہیں بیٹی ہے، کہیں بیوی ہے اور کہیں اس کی حیثیت سماج کے حقارت آمیز منظر سے جوڑ دی جاتی ہے۔ عورت واقعی اپنی کسی فکر کے اظہار میں بہت کم فتح یاب ہو پاتی ہے اور عام طور پر اس کی شناخت وہی ہوتی ہے جو اس کا سماج اسے دیتا ہے۔

میری یہ مختصر سی گفتگو ہر چند کہ کسی تنقیدی زمرے میں نہیں آتی ہے ، پھر بھی کسی شاعرہ کی شعری شناخت کا حوالہ تو بہرحال ہے اور میرا مقصد بھی یہی ہے۔

Facebook Comments HS