عائشہ کا قاتل بے رحم سماج ہے


عموماً ہر شخص کو اپنی زندگی سے والہانہ محبت ہوتی ہے، ہر انسان کو اپنی جان عزیز ہی نہیں بلکہ عزیز تر ہوتی ہے، وہ ہر طرح سے اسے سنبھالنے اور سنوارنے کے برابر کوشش کرتا رہتا ہے، اور ہمیشہ اسی بات کے لیے پرعزم ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کو کوئی ٹھیس نہ لگنے پائے، ذرا بھی اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچنے پائے، اور پھر انسان اس کے لئے مکمل تگ و دو بھی کرتا ہے، اور اپنی تمام تر کد و کاوش اپنی جان‌ عزیز کو تمام تر آسائشیں پہنچانے میں صرف کر دیتا ہے۔

مگر کبھی کبھی یہی زندگی انسان کے سامنے ایسے مسائل پیش کر دیتی ہے اور ایسی پریشانیاں لا کھڑی کر دیتی ہے کہ انسان ان میں بری طرح سے جھوجھ جاتا ہے، کبھی کبھی تکلیفوں کی تاب نہ لا کر مکمل ٹوٹ جاتا ہے، یہی زندگی اس کے لئے جہنم بن جاتی ہے، اور پھر وہ اس سے نجات کے راستے تلاش کرتا ہے، حتیٰ کہ زندگی کے سکون کی تلاش میں اسے اپنی جان عزیز ہی کو قربان کر دیتا ہے اور وہ تمام تر‌ مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے موت کو اپنا نجات دہندہ گردانتا ہے۔ آخر تھک ہار کر اسی کو آخری حل سمجھتے ہوئے ‌ خوشی خوشی موت کو گلے لگا لیتا ہے۔

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

کچھ ایسا ہی معاملہ کل احمدآباد (گجرات، انڈیا) کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک چوبیس سالہ عائشہ نامی نوجوان لڑکی نے اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ خودکشی سے قبل اس نے اپنے والدین سے فون‌ پر گفتگو بھی کی، اور پھر خوشی خوشی اپنی موت سے پہلے ویڈیو بھی بنائی، میں تو اس کے چہرے پر چمکنے والی خوشی کو حقیقی نہیں بلکہ ظاہری مسکراہٹ ہی سمجھتا ہوں، جس کا اندرون قلب سے کوئی واسطہ نہیں کہ بقول اقبال صفی پوری:

مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا
جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے

دراصل خود کشی اپنی ذات میں ایک جرم‌ عظیم ہے مگر خودکشی ایک سماجی قتل بھی ہے۔ اور اس سے انکار کی گنجائش نہیں کہ سماجی روایات نے عائشہ کو شوہر اور میکے والوں کے درمیان ایک فٹ بال بنا دیا تھا، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس نے خودکشی نہیں کی بلکہ اس کو قتل کیا گیا ہے۔

اس موقع پر دونوں پہلوؤں کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف تو جہیز جیسی منحوس لعنت نے ہمارے سماج کا بیڑا غرق کر رکھا ہے، والدین بیٹی کی پیدائش کے ہی دن سے جہیز تیار کرنے میں لگ جاتے ہیں، مگر پھر بھی مکمل جہیز تیار نہیں ہو پاتا ہے، لڑکے والوں کی ڈیمانڈز ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہیں، چاہے وہ کھل کر کی جائیں یا دبی زبان اور اشاروں میں ہی کیوں نہ ہوں، گویا والدین نے اپنی لڑکی نہیں دی بلکہ داماد سے قرض لیا ہے، ہائے اس لعنت نے نہ جانے کتنی معصوم جانوں کا نذرانہ مانگا۔

رسم جہیز نے مار دیں بیشمار بیٹیاں
اب تو اسی بات سے ہیں بیزار بیٹیاں

تو وہیں دوسری طرف ہمارے سماج میں جو بیماری ہے، وہ یہ کہ لڑکی کی شادی کو ایک نیا رشتہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ شادی کے بعد ہی سے اس کے اپنے گھر سے رشتے منقطع سمجھے جاتے ہیں، اس کو باپ کی میراث میں حصہ نہیں دیا جاتا ہے، جو کچھ جہیز کے نام پر دے دیا جاتا اسی کو آخری سمجھ لیا جاتا کہ وراثت میں اس کا حق نہیں ہے، اس کو گھر کا فرد نہیں بلکہ ایک مہمان سمجھا جانے لگتا ہے۔

بسا اوقات اسلامی تعلیم سے نابلد والدین لڑکی کو تو یہ نصیحت کر ڈالتے ”کہ دیکھو بیٹا یہاں سے ڈولی اٹھنے کے بعد سسرال سے ہی تمہارا جنازہ اٹھنا چاہیے، کیونکہ دیکھو بیٹا! ڈولی باپ کے گھر سے اٹھتی ہے اور ارتھی شوہر کے گھر سے “ یعنی والدین دبی زبان میں میراث میں حصہ داری سے انکار کرتے ہوئے اپنے پلو جھاڑتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اگر سسرال کا ماحول تمہارے لیے سازگار نہ ہو تو میکے لوٹ کر واپس مت آنا، کنواں و تالاب تلاش کر لینا۔

اور پھر آگے چل کر خدانخواستہ غلط قسم کا شوہر مل جاتا ہے تو پھر لڑکی کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، کیونکہ والدین تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سسرال سے ہی تمہارا جنازہ اٹھنا چاہیے، شادی کے بعد میراث میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔ پھر اس الجھن بھری حالت میں لڑکی اپنے میکے سے کیا امید لگائے، اسی کشمکش میں وہ الجھتی رہتی ہے اور اندر اندر کڑھتی رہتی ہے، حتیٰ کہ ذہنی طور پر بیمار ہو کر موت کو گلے لگا لیتی ہے۔

زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیں
ہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں

یاد رکھیے! اس خودکشی میں محض تن تنہا لڑکی مجرم نہیں ہوتی بلکہ پورا سماج اس کا حقیقی قاتل ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS