کہاں تک سنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بات تو طے ہے۔ دنیا بے شک سیکڑوں ملکوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر ملک میں کسی نہ کسی قسم کی اچھی بری حکومت ہے۔ لیکن حقیقت میں، پچھلے پانچ ہزار برس سے، دنیا ایک ہی ملک ہے اور اس ملک پر آمرانہ طرز کی حکومت ہے اور یہ آمرانہ حکومت مردوں کی ہے۔ قبلِ تاریخ زمانے میں، جس کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں، صورتِ حال کیا تھی، ہمیں نہیں معلوم۔ بعض محققین کی طرف سے دعوے کیے جاتے ہیں کہ پہلے کبھی مادر شاہی رائج تھی۔ یہ ایسی بات ہے جسے ثابت کرنا سردست مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔

یہ بھی طے ہے کہ مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب، پہلی دنیا ہو یا دوسری یا تیسری، سبھی جگہ عورتوں کو بالعموم ناقص العقل اور کم تر درجے کی مخلوق سمجھا گیا ہے۔ چند ایک آرائشی اصطلاحات یا لیپاپوتی سے بعض ملکوں میں یہ پروپگنڈا ضرور ہوتا رہا ہے کہ عورتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ بہ نظر غور دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نفرت یا تضحیک تو حسبِ سابق موجود ہیں لیکن انھیں چھدری شائستگی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔

طاہرہ کاظمی ڈاکٹر ہیں، سچ مچ کی ڈاکٹر، چیرپھاڑ کرنے والی۔ ان ڈاکٹروں کی طرح نہیں جو وطنِ عزیز میں، قسم قسم کے علوم چکھ کر، فوجِ ظفر موج کی صورت ٹاپتے نظر آتے ہیں۔ طاہرہ کاظمی نے اپنے کالموں میں، عورتوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے، مردانہ برتری کے علم بردار معاشروں کی چیرپھاڑ کرنے میں کمی نہیں چھوڑی۔ جو فردِ جرم انھوں نے عائد کی ہے اس کی درستگی میں شبہہ نہیں۔ جس صورتِ حال کی طرف انھوں نے توجہ دلائی ہے وہ واقعی گھناؤنی ہے اور غالباً مدتوں ایسی ہی رہے گی۔ حل کسی کے پاس نہیں۔ احتجاج کی لے تیز سے تیز تر ہوتی جائے گی، اور احتجاج کا حق مظلوموں کو ملنا بھی چاہیے، اور ظالم اسی طرح مورچہ بند رہیں گے۔

یہ ظلم و ستم صرف ایک ہی طرح ختم ہو سکتا ہے۔ مکمل انصاف کی فراہمی اور یہ احساس کہ ہم سب انسان ہیں۔ مکمل انصاف ایک سراب ہے اور یہ احساس کہ ہم سب، امیرغریب، عورت مرد، برابر ہیں، اس لیے پروان نہیں چڑھ سکتا کہ اس نوع کی برابری مردوں کو اچھی نہیں لگتی۔ اگر آسمانی صحائف ہمیں تمیز نہیں سکھا سکے، ماردھاڑ، ظلم و ستم، تعصب، نفرت، بے ایمانی، بدکاری، جھوٹ یا خیالی برتری سے باز نہیں رکھ سکے تو انسانی مساعی دنیا کو بہتر کیسے بنا سکتی ہیں۔ بلکہ اب تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے کرتوت سے دنیا میں حیات کی تمام شکلیں تباہی سے دوچار ہونے کے قریب ہیں۔

اگر مجامعت کے نتیجے میں، کسی طرح، مردوں کے حاملہ ہونے کا امکان بھی یکساں طور پر موجود ہوتا تو شاید کسی طرح کی مساوات قائم ہو جاتی۔ فی الحال تو معاملہ یک طرفہ ہے۔ ساری آفت عورت پر ہی آتی ہے۔ شاید پچاس یا سو سال بعد ایسا دور بھی آ جائے جب مرد عورتوں سے اور عورتیں مردوں سے بے نیاز ہو کر الگ الگ معاشروں میں رہنے لگیں اور آپس کی کٹاچھنی تمام ہو۔

کہتے ہیں کہ حوا کے بہکانے پر شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کی نوبت آئی اور جنت بدر ہونا پڑا۔ یہ کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ جنت سے نکالا نہ جاتا تو دنیا آباد کیسے ہوتی۔ کہنے والے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلا قتل مرد نے مرد کا کیا تھا اور تب سے اب تک مرد ہی سپہ گری کے پیشے کو اپنا کر ایک دوسرے کا خون بہاتے آئے ہیں۔ البتہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پستا رہتا ہے یعنی عورتیں جنگ میں حصہ نہیں لیتیں، پھر بھی انھیں مارا اور ریپ کیا جاتا ہے، بیچا جاتا ہے۔

کتاب کے تمام کالم اسی ایک موضوع سے متعلق ہیں اس لیے اظہارِ خیال یا اظہارِ احتجاج پر قدرت کے باوجود، کچھ اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ بعض افراد کا، نام لے کر، طاہرہ کاظمی نے مضحکہ اڑایا ہے۔ میری رائے میں یہ افراد توجہ کے بالکل مستحق نہ تھے کہ انھوں نے بیشتر معاملات کو کاروباربنا رکھا ہے۔

ص 231 پر وہ رقم طراز ہیں: “تمھارے قلم کو اسٹرنڈبرگ کا ایک مکالمہ نصیب نہیں ہو سکتا۔ “طاہرہ کاظمی نے اسٹرنڈبرگ کے ڈرامے تو پڑھےیا دیکھے ہوں گے لیکن موصوف کے اصل خیالات سے شاید واقف نہیں۔ وہ لکھتا ہے: “عورتیں چھوٹی ہوتی ہیں اور احمق اور اسی لیے مجسم شر ہیں۔ انھیں وحشیوں اور چوروں کی طرح کچل دینا چاہیے۔ عورت صرف بیضہ دان اور بچے دانی کے طور پر کارآمد ہے۔ عورت کا متبادل تلاش کرنا، اسے فالتو قرار دینا ممکن ہے۔ ضرورت ہے کہ درجہ حرارت مسلسل 37 ڈگری رہے اور مناسب تغزیہ فراہم کرنے والا سیال موجود ہو۔ پھر مرد آزاد ہو جائیں گے۔” مراد یہ ہے کہ بچوں کا کیا ہے، لیب میں بنا لیں گے۔

عورتوں کو ہمیشہ سے پتا تھا کہ ان کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ لیکن انھیں لکھنا پڑھنا نہیں سکھایا جاتا تھا۔ اس لیے وہ اپنا کیس مدلل انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکتی تھیں۔ بیسویں صدی میں تعلیم نسبتاً عام ہونے سے انھیں کم از کم یہ موقع تو ملا کہ “مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زبان میں۔”

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ از ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

ناشر : سانجھ پبلی کیشنز، لاہور

صفحات: 304؛ آٹھ سو روپیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply