کیا بادشاہ بے لباس ہے؟
یہ کہانی تو آپ سب نے ضرور سنی ہو گی کہ بادشاہ سلامت کی سواری ان کی ریاست کے گلی کوچوں میں سے گزر رہی ہوتی ہے اور درباریوں جیسے شہری اپنے بادشاہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے امڈے چلے آتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بادشاہ کا دیدار ان کے تمام مسائل پلک جھپکتے ہی حل کر دے گا۔ انہیں مکتی مل جائے گی۔ ان کے دلوں کے دلدر دور ہو جائیں گے اور ان کے قلوب کی شریانوں میں ٹھنڈا اور میٹھا پانی رواں ہو جائے گا۔
سب بادشاہ سلامت کے بیش قیمت لباس کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں تو ایک بچہ جو رعایا کا حصہ ہوتا ہے اچانک چیخ اٹھتا ہے اور اپنے پورے زور سے بولتا ہے کہ ”بادشاہ تو بے لباس ہے۔“
بادشاہ نے کسی وطن کی باگیں تھامیں ہوں یا پھر وہ کسی ادارے کے تخت پر بیٹھا ہو وہ الحمدللہ بادشاہ کے منصب پر ہی فائز ہوتا ہے۔ وہ جب اپنے ہونٹوں کو بولنے کے لئے حرکت دیتا ہے تو سب کے ہونٹ سل جاتے ہیں۔ رعایا اپنے مائی باپ کو اتنی توجہ سے سنتے ہیں جیسے ہم سب ایک دن آواز اجل پر لبیک کہیں گے۔ رعایا بادشاہ کے ادا کردہ ہر لفظ پر آمنا و صدقنا کہتی ہے اور بادشاہ کی ہر رائے سے فوراً ہی سو فیصد متفق ہو جاتی ہے۔
بادشاہ ہر صورتحال میں کسی بھی قیمت پر فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ شکست سے ان کی ماؤنٹ ایورسٹ سے بڑی انا گھائل ہو جاتی ہے۔ کسی بھی قسم کی اپوزیشن کا وجود ان کے دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام کر دیتا ہے۔ بادشاہ ملک کا ہو یا پھر کسی ادارے کی سربراہی سے لطف اندوز ہو رہا ہے اس کی تو بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے دہن مبارک سے نکلنے والا ہر لفظ شاہی فرمان تصور کیا جائے اور اس کے احکام کی تعمیل میں رعایا کا ہر فرد ایڑی چوٹی کا زور لگا دے۔
بادشاہ کو اپنی ذات پاکیزگی کی معراج پر نظر آتی ہے۔ اس کے دربارمیں اس کے علاوہ باقی سارے قصوروار تصور کیے جاتے ہیں۔ بادشاہ تو سارے ماحول کو اپنے وجود کی خوشبو سے منور کرنا چاہتا ہے۔ اسے اپنی ذات خیر کا منبع معلوم ہوتی ہے۔ بادشاہ سلامت شر کی موجودگی میں متلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہیں دوسروں کے داغ فی الفور دکھائی دیتے ہیں جب کہ اپنا داغدار دامن ریشم کے دھاگوں میں سلا ہونے کے سبب دکھائی نہیں دیتا ہے۔
بادشاہ سلامت اپنے مصاحبین کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بادشاہ بالعموم زیرک ہوتے ہیں ، اسی لیے وہ جانتے ہیں کہ ان کے حلیف بھی ان کے اتحادی صرف اپنی اغراض کی وجہ سے بنے ہیں۔ بادشاہ سلامت احساس عدم تحفظ کا شکار ہونے کے سبب بھی شک کرنے پر مائل ہوتے ہیں۔ انہیں ہر گھڑی اپنا اقتدار چھن جانے کا خوف دامن گیر رہتا ہے ، اسی لیے وہ اپنے درباریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے درباری ان پر تین حرف بھیج کر رقیب کی زلف کے اسیر نہ ہو جائیں۔
خفیہ رائے شماری کا بھوت ان کے اقتدار کے قلعے میں شگاف پیدا کر سکتا ہے اور پھر قلعے کی دیواریں دھیرے دھیرے شکستہ بھی ہو سکتی ہیں۔ درویش تو اپنے جھونپڑے سے محروم ہو کر بھی درویش رہ سکتا ہے لیکن بادشاہ اپنے محل سے نکلنے کے بعد بادشاہ نہیں رہ سکتا ہے۔ بادشاہ اقتدار کے شیش محل سے رخصتی کے بعد جبراً یا رضا کارانہ طور پر اپنے وطن عزیز سے ہجرت کر جاتا ہے۔ بادشاہ اگر وطن میں اقتدار سے محرومی کے بعد بھی رہیں تو پھر اپنے مسکن سے ناصر کاظمی کی آواز میں آواز ملا کر کہتے ہیں کہ
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے
یہاں ”وہ شخص“ سے مراد اقتدار کی نیلم پری ہے۔
بادشاہ اپنے غصے کو اپنی رعایا کو کنٹرول کرنے کے لیے بطور ہتھیار کے استعمال کرتا ہے۔ وہ کسی بھی لمحے آپے سے باہر ہو سکتا ہے۔ بادشاہ کی لوگ خوف کی وجہ سے عزت کرتے ہیں۔ بادشاہ اپنے آتشیں مزاج کے سبب اپنی رعایا کے دلوں پر حکمرانی کے قابل نہیں رہتے ہیں ، وہ تو صرف رعایا کے اجسام پر ہی حکمرانی کر پاتے ہیں۔ بادشاہ کے سیمابی مزاج کی بدولت پورا معاشرہ غیر متوازن ہو جاتا ہے اور پھر ہر طاقتور اپنے سے کمزور پر اپنی دھونس جماتا ہے۔
یہ شاہ مزاج لوگ نرگسیت کے مریض بھی ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں میں صرف اپنا عکس دیکھتے ہیں اور اپنی آواز کے عشق میں گرفتار ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ صرف بولتے رہیں اور دوسرے ان کی باتیں دل کے کانوں سے سنتے رہیں۔ وہ اپنے درباریوں کو ہمہ تن گوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ انسٹاگرام پر اپنی رنگ برنگی تصاویر آویزاں کرتے ہیں جس میں وہ ایشور کا اوتار نظر آتے ہیں۔
بادشاہوں جیسی صفات کے حامل لوگ ٹیم ورک پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ان کی ٹیم میں شامل لوگ ان کے ٹیم ممبرز نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان کی حیثیت صرف پجاریوں جیسی ہوتی ہیں اور یہ پجاری سر بسجود رہ کر اپنی نوکریوں کا تحفظ کرتے ہیں۔
جن انسانی معاشروں میں بادشاہوں کی کھیتی ہری ہوتی ہے وہاں پر مساوات اور مؤاخات کے بیج سٹرنا شروع ہو جاتے ہیں اور زمین ظلم و ناانصافی کے باعث بنجر ہو جاتی ہے۔


