آخری سطر پڑھنا ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کا نام سرمایہ ہے مگر میں اسے پیار سے مایا کہتا ہوں وہ مصنوعی خفگی سے کہتی ہے ”آپ مجھے مایا کیوں کہتے ہیں مایا تو دھوکا ہوتا ہے“

اور میں کہتا ہوں مایا دولت کو کہتے ہیں اور تم میری دولت ہو ”وہ کھلکھلا کر ہنستی ہے۔ اس کی ہنسی بڑی منفرد ہے جیسے کسی نے موتیوں کو کانچ کی طشتری میں انڈیل دیا ہو۔ اس کی یہی من موہنی ہنسی ہی تو تھی جس نے مجھے سحر زدہ کر دیا تھا اور میں کسی معمول کی طرح آس کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ پہلی ملاقات میری یادداشت میں اسی طرح محفوظ ہے جیسے پہلی بارش کی خوشبو۔

میری ایک عزیزہ تبسم ریمیڈیل اسپتال میں داخل تھیں۔ چھوٹی سی چار منزلہ عمارت کی پہلی منزل کے نرسنگ کاؤنٹر پر میں اپنی عزیزہ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہا تھا کہ اچانک یوں لگا جیسے رات اور ہسپتال کے سناٹے دار فضا میں کسی نے پھلجھڑیاں چھوڑ دی ہوں یا پھر کہیں روکے ہوئے جھرنے کے بند ٹوٹ گئے ہوں۔ وہ ایک نرس کے ہمراہ استقبالیہ کے اوپر سے گھومتے ہوئے زینے پر سے گزر رہی تھی اور کسی بات پر کھلکھلا کر ہنسی تھی۔ میں خود رفتگی کے عالم میں اوپر جانے والے زینے پر چڑھتا چلا گیا۔ تب ہی پیچھے سے آنے والی ڈاکٹر عمران کی کرخت آواز نے سحر توڑ دیا۔ وہ بلند آواز پر سرمایہ کی سرزنش کر رہے تھے۔ سرمایہ اسپتال کے استقبالیہ پر ملازم تھی (receptionist) اور رات کی ڈیوٹی کرتی تھی۔ صبح کو وہ کالج جاتی تھی۔

ہر رات میں کسی افسوں زدہ کی مانند ریمیڈیل اسپتال پہنچ جاتا۔ صدر دروازے کے عین سامنے استقبالیہ پر متمکن سرمایہ کو دیکھ کر یوں لگتا

جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

چوتھے دن میری عزیزہ کو صحت یابی کی نوید کے ساتھ رخصت دے دی گئی۔ میرے پاس اب اسپتال جانے کا کوئی بہانہ نہ تھا اور میں کوئی دل پھینک، نظرباز نوجوان نہیں تھا کہ محض تاڑنے کے لئے راہوں میں کھڑا رہتا لیکن شیفتگی نے چین نہیں لینے دیا۔ اظہار کرنے میں عزت سادات کے جانے کا ڈر تھا۔ آخر اپنی عزیزہ تبسم کو اپنا ہمراز بنایا اور ان سے اعانت کی درخواست کی۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی کہ اگر خوبئی قسمت سے وہ کہیں منسوب نہیں تو اس لالہ رخ کو ہم اپنے آنگن کی تلسی بنانا چاہیں گے۔اور پھر قسمت کی دیوی ہم پر مہرباں ہو گئی۔ ”کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل“ کے مصداق راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئی۔ نہ محبوب کی سنگدلی، نہ ظالم سماج، نہ چاندی سونے کی طمع اور نہ طبقاتی کشاکش۔ بس سیدھے سبھاؤ سے سرمایہ بی دلہن بن کر چھم سے ہمارے آنگن میں اتر آئیں۔ ہر دن عید اور ہر رات شب برات ہو گئی۔ سرمایہ ایک اچھی بیوی ثابت ہوئی۔ گھر گرہستی کی ماہر، سلیقہ شعار، اور ”شاید“ وفا شعار بھی۔ آپ حیران ہوں گے کہ میں نے شاید کا لفظ کیوں استعمال کیا۔

بیوی وفا شعار ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ دراصل اب سے کچھ روز پہلے تک میں کسی شش و پنج کے بنا اسے وفا پرست کہہ سکتا تھا۔ وہ اچھی بیوی اور اچھی ماں تھی۔ گھر، میں اور بچے اس کی زندگی کا محور تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ کسی جبر کے تحت وہ گھر تک محدود تھی۔ میری طرف سے اسے پوری آزادی تھی کہ وہ چاہے تو اپنے کسی بھی شوق کی تکمیل کر سکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اسے ایک نجی ایئر لائن سے فضائی میزبان کی پیشکش ہوئی تھی۔ ملازمت کی نوعیت کے پیش نظر اسے اکثر گھر سے دور رہنا پڑتا۔

چونکہ مجھے بھی کاروبار کے سلسلے میں دوروں پر جانا ہوتا ہے تو سرمایہ کا دل نہیں مانا کہ آٹھ اور نو سال کی بچیوں کو محض ملازمین کے سپرد کر دیا جائے۔ کیا کیجیے! بچیوں کے ساتھ ہونے والے دردناک واقعات کی خبروں نے والدین کے دل دہلا دیے ہیں۔ اس نے بچیوں کو معاشرتی بے راہ روی کے اسرار و رموز سمجھا دیے تھے۔ انہیں انکار، احتجاج اور دفاع کے طریقے بھی سکھا دیے تھے لیکن پھر بھی گرم و سرد کے خلاف ہر وقت ان کا چھاتہ بن کر رہنا چاہتی تھی۔

لہٰذا فضائی میزبان کی پیشکش کو رد کرنے کا فیصلہ اس کا اپنا تھا۔ قصۂ مختصر راوی سکھ چین لکھتا تھا مگر سکھ چین کو ثبات کہاں۔ چرخ روز و شب کبھی اوپر تو کبھی نیچے۔ کچھ عرصے سے ہم نے محسوس کیا تھا کہ سرمایہ کی توجہ کہیں اور رہتی ہے۔ باورچی خانے میں ہو یا باغیچے میں شام کی چائے پر، بچیوں کو اسکول بھیج رہی ہو یا ہمارے لئے کھانا لگا رہی ہو، ہر وقت دھیان کہیں اور ہوتا۔ جانے کس ادھیڑ بن میں رہتی۔ بس جلدی سے کام نمٹا کر کمرے میں چلی جاتی اور نیلی ڈائری پر کچھ لکھتی رہتی۔

اکثد میں نے اسے موبائل فون پر ٹائپ کرتے پایا۔ ایک دو بار رات کو آنکھ کھلی تو اتنی رات گئے موبائل پر ٹیکسٹنگ کرتے دیکھا۔ میں نے پوچھا تو کہنے لگی ”کچھ نہیں آپ کو روشنی اچھی نہیں لگ رہی تو بند کر دیتی ہوں“ اور جلدی سے لیمپ بجھا کر لیٹ گئی۔ روز بروز اس کی بے توجہی اور میری بے کلی بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک دن میں دفتر سے آیا تو حسب معمول فون پر ٹائپ کر رہی تھی۔ میں بے آواز چل کر اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ وہ کسی ش۔ م کو ای میل کر رہی تھی۔

”اوہ آپ آ گئے میں آپ کے لئے پانی لاتی ہوں“ ۔ مجھے دیکھ کر اس نے فون بند کیا اور پانی لینے کے بہانے چلی گئی۔ شک کا ناگ پھن پھیلا کر لہرایا میں نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا تہیہ کر لیا۔ دفتر سے اچانک گھر آ جاتا، ملازم اور بچوں سے اس کی مصروفیات کا احوال لیتا، کئی کئی بار فون کر کے معلوم کرتا کہ وہ گھر پر ہے یا نہیں، لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا ، کوئی ثبوت نہ ملا۔

اس دن وہ کسی اسکول فنکشن میں بچیوں کے ساتھ گئی ہوئی تھی۔ سر درد کی وجہ سے میں جلدی گھر آ گیا۔ ملازم کو چائے کا کہہ کر سیدھا بیڈروم میں چلا آیا۔ تب ہی تکیے پر اس کی نیلی ڈائری پڑی دیکھی۔ شک اور تجسس مجھے مارے ڈالتا تھا اس لئے شخصی آزادی کے دائرے کا قائل ہونے کے باوجود یہ اخلاقی جرم کر بیٹھا کہ اس کی ڈائری کھول لی۔ جوں جوں میں پڑھتا جاتا، میری آنکھوں کے آگے اندھیرا پھیلتا جاتا۔ اس نے لکھا تھا۔

”جب سے تم سے ملی ہوں خوشی اور نشاط کے معنی مجھ پر کھلے ہیں۔ تمہاری شوریدہ سر محبت نے میرے وجود کو پنکھ لگا دیے ہیں۔ سرشاری کے آسمانوں میں پرواز کرتی ہوں۔ جب تک تم میری زندگی میں نہیں آئے تھے ، میں اس بات سے بے خبر تھی کہ اپنے سے بارہ سال بڑے شوہر کے ساتھ سمجھوتے کی زندگی بتا رہی تھی ۔ اس کم صورت پستہ قد کے ساتھ میں نے اتنے برس گزارے ہیں جئے نہیں۔ تمہیں پا کر میں جی اٹھی ہوں۔ جھوٹے رشتے کی بیٹیوں کو جھیلنا اب میرے لئے سزا ہے۔“

اس سے آگے پڑھنا میرے لئے ممکن نہ تھا
”تو یہ وجہ تھی اس کی مصروفیت اور بے توجہی کی۔“

میرا دماغ شائیں شائیں کر رہا تھا۔ غم، غصہ، طیش، غیرت سارے جذبات کوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ میرے اعصاب کو نچوڑ رہے تھے۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر اس کا سامنا ہوا تو کچھ غلط کر بیٹھوں گا اس لیے گھر سے نکل آیا۔ سڑک پر بے مقصد چلتا رہا پھر جانے کیسے تبسم کے گھر کی طرف مڑ گیا۔ تبسم میری دگرگوں حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ اس کے پوچھنے پر میں نے ساری روداد کہہ سنائی۔ سرمایہ کی عدم توجہی، لایعنی مصروفیت، موبائل پر ٹیکسٹنگ، ش۔ م کو ای میل اور آخر میں اس کی ڈائری کے مندرجات۔

لیکن تبسم کے ردعمل نے تو مجھے سٹ پٹا دیا یوں لگا مجھ سے اس کی کوئی غلط کل دب گئی ہے۔

وہ ٹھٹھہ مار کر ہنسی اور دیوانوں کی طرح ہنستی چلی گئی۔ بالآخر ہنسی پر قابو پا کر بمشکل اتنا کہہ پائی۔

”عاشر بھائی۔ کیا آپ کے علم میں نہیں سرمایہ ایک آن لائن میگزین میں لکھتی ہے۔ ش۔ م اس کے مدیر اعلیٰ ہیں ، افسانے ان کی کو ای میل کرنا ہوتے ہیں۔ اب تو اس کا قلم کافی صیقل ہو چکا ہے ، بڑی پختہ تحریریں ہوتی ہیں۔“

میں دم بخود تھا پشیمانی کی گھٹا مجھے ملفوف کرنے کی لگی تھی کہ میں نے کہا ”اور وہ ڈائری میں لکھے گئے جذبات۔ وہ میرے اور اس کے درمیان بارہ سال کے فرق کی دہائی۔“

تبسم بڑے اطمینان سے بولی ”عاشر بھائی۔ آپ نے تحریر آخر تک پڑھی تھی؟“
” نہیں، آخر تک پڑھنے کا یارا نہ تھا“

تبسم بولی ”سرمایہ کی تحریروں میں آخری سطر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اسے پڑھے بغیر گنجینۂ معنی نہیں کھلتا۔ آپ گھر جائیے اور مکمل تحریر پڑھیے ہو سکتا ہے ، آخری سطر میں گرہ کھل جائے“ ۔

میں باد صرصر کی مانند اڑتا اڑاتا گھر پہنچا۔ سرمایہ ابھی تک گھر نہیں آئی تھی۔ بیڈروم میں ڈائری اسی طرح اوندھی پڑی تھی جیسی میرے ہاتھ سے چھوٹی تھی۔ میں نے جلدی سے کھول کر وہیں سے پڑھنا شروع کیا جہاں چھوڑا تھا اور جیسے جیسے پڑھتا جاتا، عرق ندامت سے پیشانی نمناک ہوتی جاتی۔ تبسم نے ٹھیک کہا تھا آخری سطروں نے گرہ کھول دی تھی۔ اس نے لکھا تھا۔

”یہاں تک افسانہ لکھنے کے بعد میں مخمصے میں ہوں کہ اسے آخری موڑ کیسے دوں۔ کیا میرا جسم میری مرضی کے جدید ڈاکٹرائن کے تحت اسے سمجھوتے کی اس زندگی سے آزاد کر کے وصال یار کر دوں یا پھر قناعت، صبر و تحمل، رشتوں کی حرمت اور بالادستی کا درس دے کر اس اخلاقی اپچ کا گلا گھونٹ دوں“

میں  نے ڈائری تکیے پر پہلے کی طرح رکھ دی اور پرسکون ہو کر اپنی قلم کار نصف بہتر کا انتظار کرنے لگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply