ونی: پیدائش سے پہلے کیے گئے جرم کی سزا بھگتنے والی قبائلی خاتون کی کہانی جنھیں ان کے سسرال والوں نے کبھی معاف نہیں کیا

خدائے نور ناصر - بی بی سی، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشتونوں کے بعض قبیلوں میں آج بھی ونی میں دی گئی لڑکیوں کو رات کی تاریکی میں اپنے گھر سے رخصت کرتے ہیں

’میری پیدائش سے دس سال قبل میرے والد نے ایک شخص کو مارا تھا۔ اس واقعے کے دو سال بعد صلح ہو گئی اور ہماری ایک رشتہ دار لڑکی کو اس صلح میں ونی میں دیا گیا لیکن جب آٹھ سال بعد میں پیدا ہوئی تو اُس لڑکی کے والدین نے میرے والد سے کہا کہ اب ہماری بیٹی کی جگہ اپنی بیٹی ونی میں دے دیں اور یوں میں اپنی پیدائش سے دس سال قبل کیے گئے اپنے والد کے جرم کے بدلے میں ونی میں چلی گئی۔‘

زرسانگہ (فرضی نام) کی عمر اس وقت 75 سے 80 سال کے درمیان ہے۔ انھیں پیدائش کے فوراً بعد ونی میں دے دیا گیا اور پھر نو سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔

وہ کہتی ہیں ’میں اپنی شادی کو شادی نہیں کہوں گی کیونکہ میں تو بچی تھی اور میں شادی کی رات تک اپنی والدہ کے ساتھ سوتی تھی۔ اُس رات مجھے نئے کپڑے پہنائے گئے، دو بوڑھی عورتیں آئیں اور مجھے زبردستی میرے گھر سے رات کی تاریکی میں لے گئیں۔‘

واضح رہے کہ پشتونوں کے بعض قبیلوں میں آج بھی ونی میں دی گئی لڑکیوں کو رات کی تاریکی میں اپنے گھر سے رخصت کیا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اُن کی بارات میں صرف یہی دو عمر رسیدہ خواتین آئی تھیں۔ اُنھیں نیند سے جگا کر ایک نیا جوڑا پہنایا گیا اور آدھے گھنٹے بعد اُنھیں زبردستی اُن کے گھر سے روانہ کیا گیا۔

’میں نے منھ تک نہیں دھویا تھا، مجھے اندازہ ہوا کہ یہ میری شادی ہے کیونکہ اُس رات سے کئی دن قبل میری ماں نے رونا شروع کیا تھا اور وہ اُن دنوں اکثر مجھے گلے لگا کر چیخ چیخ کر روتی تھیں۔‘

خواتین کے خلاف جرم

زرسانگہ کے مطابق اُنھوں نے شادی اور ونی کا نام سنا تھا لیکن وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں کہ اُن کی شادی نو سال کی عمر میں ہو گی۔

زرسانگہ کے والد کے افغانستان کے صوبے قندھار میں باغات تھے۔ تقریباً 90 سال قبل اُن کے والد اور قریب کے ایک اور پشتون قبیلے کے افراد کے درمیان باغات میں پانی کی تقسیم پر لڑائی ہوئی تھی اور لکڑیوں کے وار سے اُن کے والد کے ہاتھوں مخالف قبیلے کا ایک شخص ہلاک ہوا۔

اس لڑائی کے دو سال بعد جرگے نے صلح کروائی اور زرسانگہ کے قبیلے کی کسی اور لڑکی کا نام مخالف قبیلے کو ونی میں دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا اور اس صلح کے آٹھ سال بعد جب زرسانگہ کی پیدائش ہوئی تو انھیں پیدا ہوتے ہی ونی میں دے دیا گیا۔

زرسانگہ کے مطابق ’اُس لڑکی کے والدین نے میری پیدائش کے فوراً بعد میرے والد اور جرگے سے کہا تھا کہ چونکہ جرم زرسانگہ کے والد نے کیا ہے اسی لیے بیٹی بھی اُن کی ونی میں دینی چاہیے۔‘

شادی کے بعد کی زندگی کے بارے بتاتے ہوئے زرسانگہ کہتی ہیں کہ شوہر کے علاوہ سسرال کے تمام لوگ اُنھیں اُن کے رشتہ دار کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔

’مجھے 24 گھنٹوں میں ایک سوکھی روٹی تھما دی جاتی تھی اور مجھے کئی سال تک کھانے کے لیے کچھ نہیں دیا گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہماری ایک ہمسائی چوری چھپے کبھی میرے لیے چائے اور کھانا لاتی تھی۔‘

زرسانگہ کی شادی جس شخص سے کروائی گئی اُن کی پہلے سے ہی دو شادیاں تھیں اور زرسانگہ اُن کی تیسری بیوی تھیں۔ دیگر پشتون خاندانوں کی طرح زرسانگہ کے سسرالیوں میں بھی مشترکہ خاندان (جوائنٹ فیملی) کا نظام موجود تھا اور والدین کے ساتھ تین بھائی بھی اپنے اپنے بیوی بچوں سمیت ایک چھت تلے رہ رہے تھے۔

زرسانگہ کے مطابق اگرچہ اُن کے شوہر نے اُنھیں بہت ساری خوشیاں نہیں دی لیکن پھر بھی جب اُن کے شوہر گھر پر ہوتے تھے تو اُس پر سسرال والے زیادہ ظلم نہیں کرتے تھے۔ زرسانگہ کے شوہر محنت مزدوری کے لیے دوسرے شہر جاتے تھے اور ڈیڑھ یا دو سال کے بعد گھر آتے تھے۔

گھریلو تشدد

BBC

زرسانگہ کے مطابق سات سال بعد جب اُن کا بیٹا پیدا ہوا تب بھی اُنھیں اور اُن کے بیٹے کو 24 گھنٹوں میں وہی ایک سوکھی روٹی دی جاتی تھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ اور اُن کا بیٹا چار یا پانچ سال میں ایک بار اپنے والد کے گھر جاتے، لیکن وہاں بھی وہ اس ڈر کی وجہ سے نہ خود پیٹ بھر کر کھانا کھاتی اور نہ ہی اپنے بیٹے کو پیٹ بھر کر کھانا کھلاتی۔

’ایک بار میں اپنے والد کے گھر آئی تھی اور میری والدہ کے ساتھ ہمارے ایک رشتہ دار کے گھر گئی۔ جب میں واپس اپنے گھر آئی تو میری چھوٹی بہن گھر کے اندر تندور پر میرے بیٹے کو کھانا کھلا رہی تھی۔ میں نے اپنی بہن سے کہا کہ بہن جی! انھیں زیادہ کھانا نہ کھلائیں، پھر میں وہاں کیا کھلاوں گی؟ میرے بیٹے نے مجھے جواب میں کہا کہ یہاں تو کھانے دو، وہاں پھر بھی میں صبر کرلوں گا۔‘

زرسانگہ کہتی ہیں کہ اُنھیں سسرال والے شادی کے 15 سال تک بعد مارتے رہے اور کئی کئی بار اُن کی ہڈیاں توڑ دی گئی۔ اُن کے ہاتھوں پر جگہ جگہ داغ اب بھی واضح دکھائی دے رہے ہیں۔

زرسانگہ کے کہتی ہیں ونی میں دی گئی اکثر لڑکیوں کی زندگیاں مشکلات جھیلتے گزرتی ہیں لیکن اُن جیسی کٹھن زندگی شاید ہی کسی نے گزاری ہو۔ اُن کے مطابق جب وہ کبھی کبھار سسرال والوں سے کھانا مانگتیں تو جواب میں ان کی اتنی پٹائی ہوتی کہ پھر کئی کئی دن تک بھوک نہ لگتی۔

’ایک دن میں بہت تھک گئی اور میں نے اپنی ساس سے کہا کہ مجھے آج سخت بھوک لگی ہے اور بھوک کی وجہ سے سر چکرا رہا ہے۔ مجھے تھوڑا سا کچھ کھانے کے لیے دے دیں۔ میری ساس نے گھر کے سارے مردوں کو بلا لیا اور اُن کو بتایا کہ ہمارے دشمن کی بیٹی ہمارے ہی گھر کھانے کی فرمائش کر رہی ہے۔ اس کے بعد میرے دو دیوروں اور اُن کے بیٹوں، سب نے مل کر مجھے اتنا مارا کہ مجھے آج بھی اندازہ نہیں کہ میں کتنے دن بے ہوش رہی۔‘

زرسانگہ کے مطابق ایک مرتبہ سسرالیوں نے اُنھیں مارتے ہوئے چوٹی سے اتنے زور سے پکڑا کہ ان کی چوٹی جلد سے الگ ہو گئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ پھر چوٹی کے وہی بال وہ کئی ماہ بعد اپنی والدہ کے پاس لے آئیں جو اُن کی والدہ نے اپنے پاس رکھے۔

گھریلو تشدد

BBC

’میری بڑی بھابھی نے پھر مجھے بتایا کہ میری ماں نے کئی سال تک میری وہی چوٹی اپنے پاس رکھی اور وہ اکثر اسے اپنے سامنے رکھ کر روتی تھیں۔‘

زرسانگہ آج بھی چار پانچ سال میں ایک مرتبہ اپنے بھائیوں کے گھر آتی ہیں اور ایک یا دو ماہ گزارنے کے بعد واپس چلی جاتی ہیں۔ اُن کے مطابق اُن کے قبیلے میں یہی رواج ہے کہ بیٹی یا بہن کی شادی کے بعد ایک یا دو سال میں ایک مرتبہ والد کے گھر ایک یا دو مہینے کے لیے لے آتے ہیں۔ زرسانگہ کو چونکہ ونی میں دیا گیا تھا اسی لیے اُن کو چار یا پانچ سال بعد سسرال والے والد کے گھر چھوڑتے۔

ان کے مطابق شادی کے لگ بھگ پندرہ سال بعد اُن کا جوائنٹ فیملی میں رہنا ختم ہوا اور اُن کے شوہر سمیت ان کے تمام بھائیوں نے الگ الگ گھر بنا لیے۔

تقریباً 80 سال قبل ونی میں دی گئی وہ لڑکی اب کئی نواسے نواسیوں کی نانی اماں ہیں۔ اگرچہ اب اُن کی زندگی قدرے بہتر گزر رہی ہے لیکن اُن پر کیے گئے ایک ایک ظلم کو وہ آج تک نہیں بھولی ہیں۔

’یہ ظلم میں تب بھولوں گی جب مجھے قبر کی ڈوری میں اُتارا جائے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp