بنگلہ دیش ترقی کی دوڑ میں پاکستان سے آگے کیسے نکلا؟
مشتاق احمد یوسفی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بینک کے کام سے مشرقی پاکستان گئے تھے۔ وہاں ایک شخص مچھلیاں بیچ رہا تھا۔ کچھ لوگ اس شخص سے وہ پانی بھی خرید کر لے جاتے تھے جس میں وہ مچھلیاں صاف کرتا تھا۔ مشتاق احمد یوسفی نے پوچھا کہ لوگ اس پانی سے کیا کرتے ہیں؟ جواب ملا کہ جو لوگ مچھلی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، وہ اس پانی کو خرید کر، اس میں چاول پکا کر کھاتے ہیں اور مچھلی کے ذائقے سے لطف اٹھاتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ 1974 میں بنگلہ دیش کے دورے پر آئے تو اس جنگ زدہ نوزائیدہ ملک بارے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے اسے ”bottomless basket“ سے تشبیہ دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بنگلہ دیش ٹاپ ٹین غریب ترین ممالک میں شامل تھا۔ پاکستان کے ارباب اختیار کہا کرتے تھے کہ یہ ملک قائم نہیں رہ سکے گا اور غربت کے بوجھ تلے دب جائے گا۔
جب تک بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام رہا اور فوج بندوق کے زور پر بار بار اقتدار پر قابض ہو کر اسے مشق ستم بناتی رہی، غربت زوروں پر اور زندگی اجیرن رہی۔ مگر ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ جمہوریت مستحکم ہو کر پھل پھولنے لگی اور ملک تیز رفتار ترقی کرنے لگا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ معاشی لحاظ سے اور معیار زندگی کے اعتبار سے بنگلہ دیش نے پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں پاکستان کی جی ڈی پی 278.22 ارب ڈالر اور بنگلہ دیش کی 302.57 ارب ڈالر رہی۔
2019 میں پاکستان کا گروتھ ریٹ صرف ایک فی صد جب کہ بنگلہ دیش کا 8.2 فی صد رہا۔ 2019 میں پاکستان کا ایکسپورٹ 23 ارب ڈالر اور بنگلہ دیش کا 39.34 ارب ڈالر تھا۔ 2019 میں پاکستان کا ہر شہری 1154 ڈالر کا مقروض تھا جب کہ بنگلہ دیش کا ہر شہری 665 ڈالر کا۔ ایک بنگلہ دیشی ٹکا قریباً دو پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی آبادی پاکستان سے زیادہ تھی، اب چھے کروڑ کم ہے۔ بنگلہ دیش میں اوسط عمر 72 سال، پاکستان میں 66 سال ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی بنگلہ دیش پاکستان سے آگے ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ قدرتی وسائل کے حوالے سے پاکستان میں بنگلہ دیش کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی کی استعداد موجود ہے، مگر شومیٔ قسمت سے یہاں وسائل یا تو جہالت اور بے ہنری کے باعث ضائع ہوتے ہیں، یا بے جا غیر پیداواری مصارف کی نذر ہو جاتے ہیں اور یا ناجائز طور پر کچھ زور آور لوگوں کے ناپاک ہاتھوں میں مرتکز ہو کر سامان عیش کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ شیطانی کھیل جاری رہا، تو معیشت ترقی کرے گی اور نہ ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔ اور اس کھیل کا انت اس وقت تک نہیں ہونے والا، جب تک اسے خون کی ہولی میں نہ بدلا جائے۔
بنگلہ دیش کا ایکسپورٹ پاکستان کے مقابلے میں قریباً دوگنا ہے۔ حقائق پر غور کیا جائے تو ہماری نا اہلی ثابت ہو جاتی ہے۔ بنگلہ دیش گارمنٹس کے ایکسپورٹ میں پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے (پہلے نمبر پر چین ہے) ۔ 2019 میں بنگلہ دیش کے کل ایکسپورٹ میں گارمنٹس کا حصہ 84.21 فی صد تھا۔ 2017 میں بنگلہ دیش کا گارمنٹس ایکسپورٹ 34.8 ارب ڈالر کا تھا۔ یہ پوری دنیا کے کل ایکسپورٹ کا 7.66 فی صد ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش کاٹن درآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے اور 98 فی صد کاٹن درآمد کرتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان جو پوری دنیا میں کاٹن پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک اور عمدہ کاٹن پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے( پہلے نمبر پر برازیل ہے)، نے 2017 میں گارمنٹس کی مد میں 5 ارب ڈالر کا ایکسپورٹ کیا۔ یہ دنیا کے کل گارمنٹس ایکسپورٹ کا 1.1 فی صد بنتا ہے۔
دراصل ہمارے یہاں ایکسپورٹ بڑھانے اور معیشت بہتر کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ لوٹ کھسوٹ کے لیے فوری پیسے درکار ہوتے ہیں، اس لیے تمام تر توجہ ٹیکس اور قیمتیں بڑھانے پر دی جاتی ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ایکسپورٹ اور معیشت کی بڑھوتری ارباب اختیار کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ عام شہری جب تک بد حال رہے گا، ان کے اللے تللے جاری اور ناجائز یافت کا راستہ ہموار رہے گا۔
ایک بد حال شہری اپنے حال بد کا احساس اور پست معیار زندگی کی فہم تو رکھتا ہے مگر اس کے پیچھے کار فرما عوامل کے ادراک سے عاری رہتا ہے۔ جو شیطانی ہاتھ اس کی بد حالی کے پیچھے رو بہ عمل ہوتے ہیں، وہ ان کو مقدس گردان کر چومتا، زندہ باد کا نعرہ بلند کرتا، اپنی بدحالی کو مشیئت ایزدی سمجھ کر صبر بجا لاتا ہے۔


