ادب شناس، ادب پرور ڈاکٹر تحسین فراقی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علمی اور ادبی شخصیات نے چند روز قبل سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع دی کہ مجلس ترقی ادب کے ناظم ڈاکٹر تحسین فراقی جن کی مدت ملازمت میں ابھی ایک سال اور کچھ ماہ باقی تھے، عہدے سے ہٹا کر شاعر اور کالم نگار منصور آفاق کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ مثبت گمان تو یہ کیا جا سکتا ہے کہ ارباب اختیار نے کم از کم اس معاملے میں شاید فراست کا مظاہرہ کیا ہو گا اور فراقی صاحب کو کسی اور ادارے میں تعینات کیا جائے گا جہاں ان کی صلاحیتوں، قابلیت اور تجربے سے کماحقہ استفادہ کیا جا سکے گا۔ لیکن حکومت کا جو وتیرہ اب تک رہا ہے ایسے میں بقول غالبؔ تو یہی کہا جاسکتا ہے:

کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

2013ء سے مجلس ترقی ادب کی نظامت ڈاکٹر تحسین فراقی فرما رہے تھے۔ اس سے قبل ادارے کی شائع کردہ کتابوں سے وہی لوگ آشنائی حاصل کرتے تھے تو مطالعے اور تحقیق کے شوق و جستجو میں رہتے تھے۔ لیکن ڈاکٹر تحسین فراقی کی کاوشوں سے ادارے نے ابلاغ کے نئے ذرائع کو خوب استعمال کیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ادارے سے شائع ہونے والی کتابوں کی آگاہی کا دائرہ وسیع کیا۔ ادارہ جہاں نئی ادبی تحقیق کی سرپرستی کرتا رہا وہاں ان شاہکار کتابوں کی اغلاط سے پاک اشاعت نو کا بھی اہتمام بھی کیا گیا جو دہائیوں قبل شائع ہوئیں تھیں۔ یعنی وہ علم کے موتی جو صرف پرانے کتب خانوں کی الماریوں میں بند تھے ان کی اشاعت نو سے نئی نسل کو متعارف کروایا جو خود ایک بڑا کام ہے۔

ڈاکٹر تحسین فراقی ایک ادیب، شاعر، تنقید نگار اور محقق تو ہیں ہی مگر سب سے بڑھ کر ایک شفیق اور مہربان شخصیت بھی ہیں۔ تقریباً پینتیس کتابوں کے مصنف اور عربی، فارسی، انگریزی اور اردو زبانوں پر کمال کی دسترس رکھنے والے فراقی جب غالبؔ اور اقبالؔ پر گفتگو کرتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ ان دو غیر معمولی شخصیات کا اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے فارسی اور اردو دونوں میں اپنے اشعار کہے ہیں اور جس طرح کا شاندار کلام اردو میں پیش کیا ہے ، اس سے زیادہ ہی فارسی میں پیش کیا ہے۔

غالب ؔاور اقبالؔ نے جس طرح فارسی کی کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال کی روایت کو اپنے اندر سمو کر جو کلام تخلیق کیا ہے وہ فقط انہی کا خاصہ ہے۔ غالبؔ اور اقبالؔ کا زیادہ تر کلام فارسی میں ہے اور بدقسمتی سے ہماری نئی نسل فارسی سے واقف نہیں، وہ غالب ؔاور اقبالؔ سے بھی بس اتنی ہی واقفیت رکھتی ہے جتنا کہ ان دو شخصیات کا اردو کلام ہے جو تقریباً تین چوتھائی ہے۔ مگر غالب ؔاور اقبالؔ کی معترف ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بیدلؔ کو فارسی کا سب سے بڑا شاعر اس کے تخیل کی ندرت کی بناء پر قرار دیتے ہیں۔

فراقی صاحب ایک بات بہت کمال کی یہ بھی کرتے ہیں کہ اردو سے وابستہ استاد، ادیب اور شاعر کے لیے عربی، فارسی اور انگریزی زبانیں اتنی ہی ناگزیر ہیں جتنی کہ خود اردو۔ فراقی صاحب نے اپنی کتاب ”فکریات“ میں زبان و ادب کے حوالے سے حسین نصر، ایڈورڈ سعید، میلان کنڈیرا کے شہرۂ آفاق مضامین کے تراجم کیے ہیں جو ان کی فنی قابلیت کی فقط ایک مثال ہیں۔

”حیات سعدی“ کا تازہ ایڈیشن دسمبر 2019ء میں مجلس ترقی ادب نے شائع کیا۔ کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن ڈاکٹر تحسین فراقی نے اپنے مقدمے میں سعدی کے حوالے جو علمی تحقیق بیان کی ہے، میرے ایسے طالب علموں کے لیے نہایت اہم ہے اور سعدی کے متعلق مطالعے کا اشتیاق بھی پیدا کرتا ہے۔ مقدمے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ گلستان کے دیباچے کے ابتدائی اشعار پر گوئٹے کی پانچ سطروں کی ایک نظم ہے، جس کی چوتھی سطر خود اس کا اضافہ ہے۔

کہا جاتا ہے کہ گوئٹے کا فلسفہ جدلیات پر جسے بعد میں ہیگل نے ایک مربوط فلسفے کی شکل دی، اس کی بنیاد گلستان کا دیباچے کا مذکورہ اقتباس ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مقدمے میں سعدی پر براؤن کی ان تنقیدات کا بھی جواب دیا ہے جو اس نے تاریخ ادبیات ایران جلد دوم میں سعدی سے متعلق مقالے میں کی ہیں۔ سعدی سے متاثر ہونے والوں میں ہائنے ( 1856۔ 1797 ) گوئٹے کا کم عمر معاصر تھا، اسے سنسکرت اور فارسی شاعری سے عشق تھا، اور اس درجے کا تھا کہ وہ خود کو اپنے ہی ہم وطنوں میں اجنبی محسوس کرتا تھا۔ اس کے مشہور اشعار ہیں :

”O Firdusi, O Jami, O Saadi,
Wie elend ist euer Bruder!
Ach wie sehne ich mich natch dem
Rosen von Schiras ”

ڈاکٹر تحسین فراقی بتاتے ہیں کہ ہائنے کی یہی فریاد ہے جس کا ترجمہ اقبال ؔ نے پیام مشرق کے دیباچے میں ان لفظوں میں درج کیا ہے ”اے فردوسی! اے جامی! اے سعدی! تمہارا بھائی زندان غم میں اسیر شیراز کے پھولوں کے لیے تڑپ رہا ہے۔“

حیات سعدی کے اس ایڈیشن میں حالیؔ کا بیان اور فراقی صاحب کا مقدمہ بقول چراغ حسن حسرت ”اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت“ ہے اور ہمیں سعدی کے وسیع تناظر سے آگاہ کرتا ہے۔

ڈاکٹر تحسین فراقی نے جہاں ادب اورتحقیق پر بے پناہ کام کیا وہیں انہوں نے بچوں کے لیے بھی ایک بے مثال روایت کی بنیاد رکھی۔ 2005ء میں جب وہ تہران یوینورسٹی میں اردو اور مطالعہ پاکستان کی مسند پر بطور پروفیسر تعینات رہے تو اس دوران انہوں نے میدان انقلاب میں کتابوں کی تلاش کے دوران دیکھا کہ وہاں کے ایک صاحب مہدی آذر یزدی نے فارسی کے کلاسیکی ادب پندنامہ، اور مرتبان نامہ (جسے ایک ہزار سال قبل ایک ایرنی شہزادے نے تحریر کیا تھا) سے کہانیاں چن کر جدید فارسی زبان میں بچوں کے لیے از سر نو تحریر کیا،  انہی کہانیوں کو ڈاکٹر فراقی صاحب نے اردو زبان میں ترجمہ کر کے تین کتابوں کی شکل میں شائع کیا جنہیں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔

آج جب کہ مادی وسائل کے حصول کی دوڑ تیز سے تیز تر اور اقدار معدوم ہوتی جا رہی ہیں ، ایسے زوال پذیر سماج میں مطالعہ اور فکر کے فروغ میں مجلس ترقی ادب ایسے اداروں کا کردار صبح بہار کے لیے امید کی کرن جیسا ہے۔ لیکن بھلا ہو یار لوگوں کا جنہوں نے ادب اور تحقیق میں بھی سیاست اور اقربا پروری کا ڈول ڈالنے کی روایت کو برقرار رکھا ہے اور بقول بھگت کبیر:

کبیرا اس جگت میں الٹی دیکھی ریت
پاپی بیٹھا راج کرے اور سادھو مانگے بھیک

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply