ڈسکہ میں تعلیم حاصل کرنے والی بیٹی کا سر قلم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈسکہ میں آصف حسین مہدی نامی ایک اسسٹنٹ کمشنر ہوا کرتے تھے۔ ہوا کرتے تھے اس لیے کہا کہ اس الیکشن میں وہ دھند کا شکار کر دیے گئے۔ کوئی بیس پولنگ افسران کسی قسم کی دھند کے سبب غائب ہو گئے تو ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے دیگر اہلکاروں کے ساتھ ان کو بھی الیکشن کمیشن نے ان کی پوسٹ سے ہٹا دیا اور معطل کرنے کا حکم دیا حالانکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اسی نوے فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ والے بیس پولنگ سٹیشنوں پر ہارنے والی جماعت مسلم لیگ نون نے ان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا کہ انہوں نے فرائض میں غفلت برتی ہے اور نہ ہی پولنگ ایجنٹس کی حفاظت پولیس کی بجائے ان کی ذمہ داری تھی۔ بہرحال سیاست میں تو یہ ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں۔ بات ہو رہی ہے مجسمے کی۔

آصف صاحب سوشل میڈیا پر کافی ایکٹو ہیں۔ ان کی دیوار پر صبح منہ اندھیرے صفائی کی نگرانی کرنے سے لے کر شہریوں کے لیے دفتر کے در کھولے رکھنے کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ ان میں ایک چیز ان کی تعلیم میں عمومی اور بچیوں کی تعلیم میں خصوصی دلچسپی ہے۔ ایسے میں جب بزدار حکومت کے کلین اینڈ گرین پنجاب کے منصوبے کے تحت انتظامیہ کو سرگرم ہونے کی ہدایت کی گئی، تو آصف حسین کے دماغ میں بچیوں کی تعلیم کا پیغام دینے کا خیال آیا۔ انہوں نے ایک مقامی ہاؤسنگ سوسائٹی ”اپنا ٹاؤن“ کے چیف ایگزیکٹو احمد فاروق ساہی صاحب کو اس منصوبے کی فنانسنگ پر راضی کیا۔

یوں کچھ عرصے بعد آصف حسین کے تخیل کے مطابق ایک مجسمہ تیار کیا گیا جس میں ایک بچی کتابوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی ہے اور اس کا باپ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اس مجسمے کو لڑکوں کے کالج کے سامنے کالج روڈ پر نصب کیا گیا کہ ان تک اور انہیں تعلیم دلوانے والے والدین تک بیٹیوں کی تعلیم کا پیغام بھی پہنچے۔ اس مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب میں منسٹر ماحولیات پنجاب باؤ محمد رضوان، ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ، احمد فاروق ساہی اور آصف حسین نے شرکت کی۔ ڈسکہ کے شہریوں کے علاوہ ملک بھر میں بہت سے افراد نے اس پیغام کو سراہا اور اس قسم کے مجسمے جن سے تعلیم میں فروغ کا پیغام ملے، دوسرے شہروں میں بھی نصب کرنے کا مطالبہ کیا۔

کچھ عرصہ پہلے ایک ایکسی ڈنٹ میں اس مجسمے کے بیرونی حصے کو نقصان پہنچا تھا جسے اسے بنانے والوں یعنی آصف حسین اور احمد فاروق ساہی نے فوراً درست کروا دیا۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی ایک عمدہ مثال تھی جس میں شہری نہ صرف اپنے شہر کو خوبصورت کرنے میں حکومت سے تعاون کر رہے تھے بلکہ حکومت کا اس سلسلے میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہو رہا تھا۔

خیر آصف حسین صاحب کو معطل کر دیا گیا اور یہ مجسمہ یتیم ہو گیا۔ نہ بچی کی حفاظت کرنے والا کوئی رہا اور نہ ہی باپ کی حوصلہ افزائی کرنے والا۔ ایک صبح سورج نکلا تو پتہ چلا کہ بچی کے سر پر وار کیا گیا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے باپ کا ہاتھ توڑ دیا گیا ہے۔

ایک طرف تو ذہن میں ”سر تن سے جدا“ والے نعرے گونجے کہ اب بچیوں کو تعلیم دلوانے والوں کے لیے بھی یہ سزا تجویز ہوئی ہے، دوسری طرف ذہن میں ملالہ ابھری۔ تعلیم حاصل کرنے کی شوقین ملالہ کے سر پر بھی تعلیم کے دشمنوں نے وار کیا تھا۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ اس وقت کے آرمی چیف نے بھرپور کوشش کر کے اسے بروقت طبی امداد فراہم کرنا یقینی بنایا اور بعد میں دنیا بھر پر یہ معاملہ اچھلا تو متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کی حکومت نے بھی مدد کی اور ملالہ کو گویا ایک نئی زندگی مل گئی۔

طالبان تو شکست کھا کر فی الحال پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اب نئی تعلیم دشمن قوتیں ابھر رہی ہیں۔ اس وقت انہیں ایک سخت پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ بچیوں اور بچوں کی تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ نہ صرف اس مجسمے کو توڑنے والوں کو سزا دینا ضروری ہے بلکہ حکومت کی موجودگی بھی یہاں دکھائی دینی چاہیے کہ تعلیم حاصل کرنے والی بچی کا سر سلامت رہے گا اور اس پر حکومت کا ہاتھ ہو گا۔

سوال یہ ہے کہ آصف حسین مہدی کے جانے کے بعد کیا کوئی اس معاملے میں دلچسپی لے گا؟ کیا مجرموں کو پکڑا جائے گا؟ کیا مجسمے کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا؟ احمد فاروق ساہی نے تو پرچہ درج کرنے کی درخواست دے دی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت کوئی ایکشن لیتی ہے یا نہیں۔

ہمیں انتظامیہ میں بھی آصف حسین مہدی جیسے افسران اور احمد فاروق ساہی جیسے مخیر حضرات کی ضرورت ہے جو تعلیم کے لیے سرگرم ہوں۔ الیکشن کمیشن کو جلد اپنی تحقیقات مکمل کر کے ان کے اور دیگر افسران کے متعلق فیصلہ سنانا چاہیے۔ ابھی تو حکم نامے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ بعد میں ہو گا کہ ان افسران کے خلاف انکوائری الیکشن کمیشن خود کرے گا، صوبائی حکومت کرے گی یا وفاقی۔ بہرحال ڈسکہ میں جب تک الیکشن کی دھند نہیں چھٹتی وہاں کی یہ بچی بے آسرا ہی رہتی دکھائی دیتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply