ہمارے رانگ نمبرز
مذہب، سیاست، معاشرت اور معیشت کے سبھی دعویدار تسلسل سے رانگ نمبرز ملائے جا رہے ہیں۔ قرآن محض ایصال ثواب یا پھر اپنی مرضی کے دلائل کی کتاب بن چکی ہے۔ اپنی اپنی مرضیوں کے تصادم ہیں۔ جہاد، عشق، کرپشن، غداری اور اہلیت کے اپنے اپنے پیمانے ہیں جنہیں سیاسی و سماجی سکورنگ کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ مخالفین کا دھڑن تختہ فرقہ واریت سے کیا گیا۔ تاریخ و تہذیب سے نا آشنا لوگوں کے پاس جذبات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ سو بڑا رانگ نمبر یہ ہوا کہ پوری قوم کی نگاہ پست، سخن دل خراش اور جان بے سوز ہو چلی۔
پروانے مر چلے اور شمعیں بجھنے لگیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب لاہور میں سر گنگا رام کے مجسمے کو گرانے کے لئے فرزندان توحید نے حملہ کیا تو اسی آپا دھاپی میں کچھ لوگ زخمی ہو گئے جن کا علاج گنگا رام ہسپتال میں ہی کروایا گیا۔ تعلیم اور صحت کا بجٹ دفاع میں لگانا بھی رانگ نمبر ہے۔ جاپان نے شکست کے بعد دفاع کو دفنا دیا اور سمجھ لیا کہ جنگ تو خود ہی بڑا مسئلہ ہے جس سے مسائل کا حل ڈھونڈھنا دیوانے کا خواب ہے۔ انہوں نے صرف تعلیم و ٹیکنالوجی میں مغز ماری کر کے اپنا مقام پیدا کیا۔
معاشی بدمعاشی اور سیاسی سیاپے ہمارے نظام کے اجزائے لاینفک رہے ہیں۔ خود مختاری کی تہمت اور دعوؤں کے باوجود ہم عالمی اقوام اور اداروں کے دست نگر ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضوں پر خود کشی کی بات اور پھر اسی سے ریکارڈ قرضوں کا حصول سمجھ سے بالا ہے۔ بقول شاعر
آئے بکنے پہ تو حیرت میں ہمیں ڈال دیا
وہ جو بے مول تھے نیلام سے پہلے پہلے
گویا باغبان اور صیاد کے مابین ملاقاتیں اپنے گلشن کا مقدر ٹھہری ہیں۔ گل کاغذ کو مہارت سے گلشن میں سجا کر بلبلوں کو الو بنانے کا رانگ نمبر آج بھی ہے۔ پھر ہر شاخ پہ الوؤں کی بیٹھک پہ تعجب کیوں؟ گنگا تو کیا یہاں کا راوی بھی الٹا ہے۔ افغان پالیسی، نائن الیون، طالبان، گارگل اور مذہبی و سیاسی گروہوں کی تشکیل سب رانگ نمبرز ہی تو تھے۔ مگر یہاں اسٹیبلشمنٹ کی سب خامیاں اقتدار میں آنے سے پہلے یا اقتدار چھن جانے کے بعد یاد آیا کرتی ہیں۔
جبکہ موجودہ حکومت کی طرح حب الوطنی کے شدید دورے صرف حالت اقتدار میں پڑتے ہیں۔ پھر ہم مذہب اور اسٹیبلشمنٹ کے کسی نقص اور کوتاہی کو ماننے پہ تیار نہیں ہوتے۔ قبل از ولادت مبارک اور بعد از مرگ واویلے کے عادی ہیں۔ پاکیٔ داماں کی حکایات کے سرخیل اپنی نا اہلیوں کے باعث الجھے ہوئے ریشم میں پھنس کر کہہ مکرنیوں کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔ حکومت ملک کو یوٹوپیا جبکہ اپوزیشن ڈسٹوپیا ثابت کرنے پہ تلی ہے۔ ہر کام میں خشت اول کی کجی ہم پر لازم ہے۔
مقبوضہ جمہوریت خود مختار آمریت کے تابع تھی اور آج بھی ہے۔ شاید اس لئے اقبال ارباب سیاست کو ابلیس کا فرزند کہا کرتے تھے۔ مذہبی و مسلکی معاملات میں لاکھ اختلاف سہی مگر 72 حوروں کے مسئلے پر مسلمان متفق ہیں۔ منبر پر بیٹھے علماء سائنس کو گالیاں دیتے نہیں تھکتے مگر مساجد، آستانوں اور اپنے گھروں میں سائنس کی ہر چیز سے استفادہ کر لیتے ہیں۔ ایک رانگ نمبر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر گیارہ ماہ کے بعد کے مصداق رمضان ہی اسلامی شعائر اور اخلاقیات کا مہینہ سمجھا جاتا ہے ۔
کچھ علماء کی شعلہ نوائی کا جوہر لوگوں کے سر پھٹنے کی صورت میں کھلتا ہے۔ پھر مساجد میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال اور بد آواز حضرات کی بے جا راگنیاں سمجھ سے بالا ہوتی ہیں۔ صد حیف کہ اب ہم اپنے رب اور رسول کی مدحت کے لئے لکشمی کانت پیارے لال کی فلمی دھنوں کے محتاج ہیں۔ اک رانگ نمبر یہ ہوا کہ ازدواجی تعلقات میں ہزاروں دراڑیں سہی لیکن درجن بھر بچوں کی پیدائش کا سلسلہ رکنے میں نہیں آتا۔ بقول یوسفی یہاں اپنے کرتوتوں کے نتائج کو بزرگوں کی دعا اور فضل ربی سمجھا جاتا ہے۔
زندگی، آخرت اور حقوق و فرائض کی بابت کچھ کرنے کی بجائے ہم محض شادیوں اور بچے پیدا کرنے کے اہتمام و انصرام میں زندگی تمام کرتے ہیں۔ وطن کا کونہ کونہ کھچاکھچ بھرنے کے باعث کھچ کھچ سا دکھنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ضروری کثرت آبادی کی بدولت بے روزگاری، جہالت، ریا کاری اور عدم برداشت میں خود کفیل ہو چکے ہیں۔ سرکاری ملازمین کے ہاں اوقات کار میں سیاسی و سماجی مباحث مرغوب اعمال ہیں۔ تعلیمی اداروں میں تو سوائے درس و تدریس سب کچھ ہوتا ہے۔
افسوس کہ وہ قوم ہی راہ علم سے بھٹک گئی جس کا آغاز ہی ”اقراء“ سے ہوا تھا۔ کسی محکمے میں پیشہ وریت کا نام تک نہیں اور لوگ اپنے محکمے کے کام سے ہی نا آشنا ہیں۔ سچ ہے کہ دیس تجربہ گاہ اور چراگاہ کے سوا کچھ نہیں۔ حالانکہ کورونا کے عہد وبا میں اعتکاف خوف کے ساتھ خالق نے مخلوق کو ”تجدید الست“ کا بھرپور موقع دیا جسے پہلے کی طرح کھو دیا گیا۔ رانگ نمبر دیکھیے کہ روز ہی کسی مسئلے کا قومی یا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر اس دن کی حقیقی روح سے کوئی واسطہ نہیں۔
یوں دنوں کے اس لنڈے بازار سے ہم یوں گزر جاتے ہیں جیسے کسی عام بازار سے بنا کچھ خریدے کوئی نادار گزر جاتا ہے۔ تبدیلی کبھی آئی نہ آنے کے آثار ہیں اور پارلیمنٹ کو اکھاڑلیمنٹ یا چارلیمنٹ کہنا زیادہ موزوں ہو گا کیونکہ وہ عوامی ایوان کی بجائے منڈی مویشیاں و اسپاں کا منظر پیش کرتی ہے۔ شاید ہمارا تاریخی رانگ نمبر یہ ہے کہ یہاں جوابدہ با اختیار نہیں اور بااختیار جواب دہ نہیں۔

