میں ایک عورت ہوں لیکن!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک عورت ہوں جس کی تعریف میں دنیا کے تمام مردوں نے کئى زمانوں سے زمین و آسمان ایک کیے ہوئے ہیں۔ شاعروں نے مجھ پہ لاکھوں اشعار لکھے۔ ادیبوں نے کئی افسانے، کہانیاں، ناول اور ڈرامے لکھے۔ فلم سازوں نے کئی فلمیں بنا ڈالیں۔ فنکاروں نے میرے لئے گیت، غزل اور گانے ترنم سے گائے۔ سنگ تراشوں نے میرے ایسے ایسے مجسمے بنائے کہ جن میں سانس پھونکنا باقی رہ گیا تھا۔ پینٹرز نے میری دلکش پینٹنگز بنائیں۔ مطلب ہر میدان کے مردوں نے میرے حسن کی اتنی تعریف کی جتنی خود میرے وہم و گمان میں نہیں تھی۔ شاعروں نے مجھے کائنات کے تمام خوبصورت استعاروں سے تشبیہہ دینے کے بعد بھی، مجھے ہی حسیں و جمیل سمجھا۔ میرے بغیر کائنات ہی بے رنگ تھی۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری میں، اس کی ”ہیرو“ میں ہوں، کوئی مرد ہیرو نہیں۔ شاہ صاحب کے کئی سُر میرے نام سے منسوب ہیں لیکن ان میں ان کا کوئی شعر میرے خلاف نہیں۔ میرے کردار، میری بہادری، میری مستقل مزاجی، میرے صبر و تحمل، میری وفا، میری محبت اور میرے حسن کی انہوں نے جو تعریف کی ہے، شاید ہی کسی اور شاعر نے کی ہو۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی چودھویں کے چاند کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ ”اے چودھویں کے چاند، تمہارا جو سارا جلوہ ہے وہ تو میرے محبوب کے پاؤں میں جو پدم (ایک خاص قسم کی لکیر) ہے اس کے برابر بھی نہیں۔

شاعروں نے میرے حسن و جمال، جسمانی خدوخال اور مختلف اعضاء کی تعریف میں ہزاروں غزلیں لکھیں مگر شاعروں کو سب سے زیادہ دلکشی میرے مکھڑے میں نظر آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ”تیرا مکھ حسن کا دریا ہے“

تشبیہہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

اس کے بعد میرے قد، کمر، بال، آنکھیں، ابرو، پلکیں، ناک، ہونٹ، سینہ حتیٰ کہ میرے پاؤں کی بھی اتنی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کی کہ میں خود حیران و پریشان ہوں۔ میرا مسکرانا، میرا ہنسنا، میری انگڑائی، میری چال، پایل کی جھنکار، میری نظر، میری آواز اور میری اداؤں پہ سب مر مٹتے ہیں۔ میرا پسینہ بھی گلاب لگتا ہے۔ لیکن یہ تاویلیں اور تعریفیں کب تلک؟

مرد کب تک میری محبت میں تڑپتا ہے؟ کب تک اس کی نیندیں حرام ہوتی ہیں؟ کب تک اس کو بھوک و پیاس کا احساس نہیں ہوتا؟ کب تلک وہ میری محبت میں مجنوں بنا پھرتا ہے؟ میں بتاتی ہوں۔ جب تک میں جواں ہوں، دلکش ہوں اور جب تک مرد کی رسائی جسمانی طور پہ، ایک بیوی کے روپ میں یا محبوبہ اور دوست کے روپ میں مجھ تک نہیں ہوتی۔ وصل کے بعد وہ تڑپ، وہ محبت اور وہ پیار، سب ماند پڑنا شروع ہو جاتے ہیں (ہزاروں میں ایک آدھ کو چھوڑ کے ) جیسے سندھی میں ایک کہاوت ہے کہ ”مقصد پورا ہوا اور کاغذ پھٹ گیا“

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا مشاہدہ کمال کا تھا، وہ محبت کی کمی بیشی کی اس کیفیت کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنے ایک شعر میں فرمایا کہ ”میں اپنے محبوب کی تلاش میں ہی رہوں مگر اس کو ڈھونڈ نہ پاؤں / اس سے مل نہ پاؤں۔ کیونکہ ملنے کے بعد شاید (محبوب کے لئے ) وہ تڑپ نہ رہے“

جب میں مرد کی زندگی میں آ جاتی ہوں، میری حیثیت کم سے کمتر ہونا شروع ہو جاتی ہے، کیوں؟ اس سوال کا جواب ہماری سوسائٹی کے پاس نہیں حالانکہ میرے بغیر یہ کائنات ہی پھیکی ہے۔ میرے بغیر شعر و شاعری، ادب بلکہ آرٹ کا کوئی بھی شعبہ وجود میں نہ آتا۔ محبت کا جذبہ ہوتا نہ حسن کا پیمانہ۔ میرے بغیر چاند ستارے، بادل، موسم، دریا، سمندر، پھولوں، کلیوں، ہواؤں اور بہاروں کی کیا حیثیت ہوتی؟

میں نے انسانی تخلیق کو جاری رکھا۔ میں نے ہی ٹیلینٹ کو پیدا کیا، جس نے دنیا ہی بدل ڈالی۔ میں نے ہی پیغمبروں کو جنم دیا جنہوں نے انسانوں کو خدا کا پیغام دیا اور نئے نئے مذاہب وجود میں آئے۔ تمام نئے مذاہب مجھے تحفظٰ دیتے ہیں، میرے احترام کی بات کرتے ہیٍں، میرے حقوق واضح کرتے ہیں لیکن پھر بھی آج تلک میں اس سماج کے رحم وکرم پہ ہوں۔ میں محروم ہوں، مظلوم ہوں، مجبور ہوں!۔ مجھے میری ذات پہ کوئی اختیار نھیں، کوئی مرضی نہیں، یہ اختیار سماج کے چند ٹھیکیداروں کے پاس ہے جو میری قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں اگر ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کروں تو میرا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ مجھے ایسی زحمت بنایا گیا ہے کہ آج بھی میری پیدائش پہ لوگ ناخوش ہوتے ہیں، کیوں؟

کیونکہ مذہبی ٹھیکیداروں نے، مذہب کا سہارا لے کر میرے بارے میں ایسی نام نہاد تاویلات اور مفروضے بیان کیے ہیں کہ لوگوں نے ان کو اپنا عقیدہ بنا لیا ہے۔ میرے بارے میں کی گئی ساری کی ساری تعریفیں پانی میں ڈوب گئیں۔ میں ہر برائی کی جڑ، نحوست کی نشانی اور مردوں کو گناہ پہ راغب کرنے والی ایسی جنس ہوں جس کے پاس صرف ایک کام کے علاوہ، جو ان پیشواؤں کے ذہن میں ہے، اور کوئی سوچ، جذبہ اور عمل نہیں۔ اس لئے اگر میں پڑھنا چاہوں یا نوکری کرنا چاہوں تو ہر گلی کوچے میں، اسکول، کالج، مدرسے یا دفتر کے اندر انسانی روپ میں، بھیڑیے کھڑے ہیں جو مجھے نوچ ڈالیں گے، چاہے میں پانچ سال کی بچی ہوں یا ساٹھ سال کی بوڑھی۔

میں ذاتی طور پہ کسی مرد کے خلاف نہیں، میں اس پدر سری سماج کے خلاف ہوں کیونکہ یہ سماج بنیادی طور پہ جاگیردارانہ اور جاہلانہ سماج ہے جس میں مرد بھی غلام ہے، لیکن میں دوہرے ظلم کا شکار ہوں۔ اس ظلم کے شکنجے سے نکلنے کے لئے جہاں مجھے مظلوم عورت کے ساتھ کی ضرورت ہے ، وہیں مجھے روشن خیال مردوں کے ساتھ کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہر گھر کی عورت کو وہ شاندار مقام مل سکے جس کی وہ مستحق ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ مجھے وہ مقام دلانے کے لئے، کم از کم سندھ لیول پہ عورتوں کی واحد تنظیم ”سندھیانی تحریک“ ہی نظر آتی ہے جو ہر وقت سرگرم ہے۔ یہ تنظیم مردوں کے شانہ بشانہ چلتی ہے اور تمام مرد اس کی حفاظت پہ مامور ہوتے ہیں۔ اس تنظیم سے وابستہ ہر عورت کو حتیٰ کہ گاؤں گوٹھوں کی عورت کو بلا کا اعتماد ہوتا ہے۔ یہ عوامی تحریک کی ذیلی تنظیم ہے اور موجودہ دور میں ایشیا کی سب سے بڑی اور سرگرم تنظیم ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments