میری پسندیدہ کتاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو اہل معرفت کے ہاں ہم اہل زباں واقع ہوئے ہیں۔ ساتھ ساتھ اردو مطالعہ کے حددرجہ شوقین اور اردو زبان پر مضبوط گرفت ہونے کے دعویدار بھی ہیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ بنیادی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک اردو مضمون کو بہت ہی ہلکا لیا ہے، اور اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ ہر دفعہ اس مضمون میں معیاری نمبروں سے پاس بھی ہوتے آئے ہیں۔ ایسا ہی کچھ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے دوران ہوا۔

جس دن معلوم ہوا کہ ایک روز بعد اردو کا امتحان ہے، ہم نے فوراً لائبریری کا رخ کیا اور ’تیاری کی غرض سے‘ ناولوں کی چھان پھٹک شروع کر دی۔ کافی تگ و دو کے بعد جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب کا ناول ’راکھ‘ ہاتھ لگا۔ عنوان اور مصنف کو زیرنظر رکھتے ہوئے مطالعہ شروع کر دیا۔ جب من کو لبھائی تو لائبریری کارڈ کے ذریعے ساتھ ہی گھر لے آئے۔ اب جب زمانہ اردو ادب کی مخالفت میں سر بہ کف برسر میدان موجود ہو تو مجھ جیسے مجاہد کے لیے لازم تھا کہ پوری جانفشانی سے اس ادبی و ثقافتی ورثے کی حفاظت کو یقینی بناؤں۔ پس گھر والوں کی نظروں کے تعاقب سے بچنے کے لیے اردو کی نصابی کتاب میں ’راکھ‘ کو رکھا اور چھت پر پوری توجہ سے امتحان کی تیاری شروع کر دی۔

ناول کی کہانی بنیادی طور پر دو بھائیوں مشاہد اور مردان نامی مرکزی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ اس ناول کی ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں مشہور افسانہ نگار جناب سعادت حسن منٹو  اور ان کی اہلیہ محترمہ کو بھی کہانی کے ہی ایک کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کہانی قیام پاکستان، مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اس کے بعد کے حالات سے ہوتی ہوئی سابقہ اور دور حاضر کی پاکستانی سیاست و ثقافت کے حالات پر مبنی تھی۔

مطالعہ کے دوران بارہا یہ محسوس ہوا کہ شاید کہانی میں موجود مشاہد نامی کردار کوئی اور نہیں بلکہ مستنصر حسین تارڑ صاحب خود ہی اپنی آپ بیتی لکھ رہے ہیں۔ کیونکہ کتاب میں جابجا جو منظر کشی کی گئی تھی وہ احوال تو کوئی آنکھوں دیکھا ہی بیان کر سکتا ہے۔ ممکن ہے یہ بھی تارڑ صاحب کے فن تحریر کی ایک ایسی اوج ہو جسے مجھ جیسا قاری سمجھنے سے قاصر ہے۔

تارڑ صاحب نے الفاظ کا ایسا سحر طاری کر رکھا تھا کہ جب مؤذن نے مغرب کی اذان کے لیے صدائے اللہ اکبر بلند کی تب آنجناب بھی کہانی میں موجودمشرقی پاکستان سے واپس مغربی پاکستان آ گئے۔ خیر نماز کیا پڑھنی تھی، خدا کے حضور کھڑے ہو کر بھی حضور قلب کی بجائے دھیان 49 سال قبل کے مشرقی پاکستان میں اٹکا ہوا تھا۔ بقول اقبالؒ:

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

ادائیگی نماز اور عشائیہ سے فراغت پانے کے بعد ’راکھ‘ کو مہمان خانے کی زینت بنایا اور لگ بھگ رات کے دو بجے کے قریب اختتامیہ میں دونوں مرکزی کرداروں کے گرد ایسی راکھ اڑی کہ آنجناب شکستہ دل لیے نیند کی آغوش میں جا بسے۔ صورت حال یہ تھی کہ رات سوتے میں بھی کتاب کی تحریر ڈرامائی شکل میں خوابوں کی پردے پر چلتی رہی۔ غرض کہ اگلے دن کمرۂ امتحان پہنچنے پر دوستوں نے تیاری کے متعلق سوال کیا تو آنجناب بہترین تیاری کے دعویدار تھے۔ لیکن جونہی پرچے تقسیم ہوئے تو اپنے سامنے والے پرچے کو دیکھ کر بہت سے انجان الفاظ سے واسطہ پڑا۔ لیکن ہمت باندھ کر ایک لمبی سی سانس کھینچی، اور ذہن دوڑانے پر استاد محترم کی ہدایت یاد آئی کہ پرچہ حل کرتے وقت ہمیشہ اس سوال کو ترجیح دیں جو آپ باآسانی حل کر سکیں۔

اس نقطہ نظر سے جب سوالات پر ایک اجمالی سی نگاہ دوڑائی تو ایک سوال کے ذیل میں تین میں سے ایک موضوع پر مضمون لکھنے کا کہا گیا تھا، جن میں سے آنجناب نے ’میری پسندیدہ کتاب‘ کے موضوع کا انتخاب کیا۔ لیکن پھر سوچا کہ آخر ہماری ایسی کون سی پسندیدہ کتاب ہے جس پر کوئی تفصیلی مضمون لکھا جا سکے۔ ذرا سی سوچ بچار کے بعد دماغ کی سوئی ”راکھ“ پر آ کر اٹک گئی۔ بس۔ پھر کیا تھا۔ ہمارا ہاتھ اور قلم کی روانی۔

ابتدائی کلمات میں بطور تعارف مصنف ”مستنصر حسین تارڑ صاحب“ کی شان میں وہ وہ قصائد لکھے کہ بس۔۔۔ اور حد تو یہ کہ جو مختصر سی روشنی ہم نے ان کے طرز تحریر پر ڈالی تھی، اسے اگر ممتحن کی بجائے خود تارڑ صاحب پڑھ لیتے تو انھیں ایک مختصر سا دل کا دورہ یقینی تھا۔ یا پھر ان کا ایک نیا سفرنامہ ’جو کالیاں سے کوٹ مومن تک کا قاتلانہ سفر‘ چھپ کر منظر عام پر آ چکا ہوتا۔ خیر ان قصائد کو قلم کی سیاہی سے سپرد کاغذ کرنے کے بعد ناول میں مذکور پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز پر وہ دلسوز مصائب تحریر کیے کہ ممتحن بھی ایک دفعہ تو پھوٹ پھوٹ کر رو دیا ہو گا۔ پس یہ سوال اچھا حل ہو جانے کی خوشی میں بقیہ پرچہ بھی جیسے تیسے حل کیا اور کمرہ ا متحان سے باہر نکل آئے۔

دوستوں کے استفسار پر اپنی حتمی کامیابی کا اعلان بھی کر دیا۔ ایک دوست سے جو پوچھا کہ اس نے سب سے پہلے کون سا سوال حل کیا تھا تو اتفاقاًً اس نے بھی سب سے پہلے ”میری پسندیدہ کتاب“ کے موضوع پر ہی مضمون لکھا تھا۔

اس دوست نے مسکراتے ہوئے آنجناب سے پوچھا کہ ‘آپ نے کس کتاب کو موضوع سخن بنایا؟’ جواباً آنجناب نے اپنے ادبی فخر کے پیرائے میں کارروائی کا تذکرہ کر دیا اور ساتھ ہی یہ سوال بھی داغ ڈالا کہ ’جناب نے کس کتاب کو موضوع سخن بنایا؟‘

مدمقابل سے جواب ملا: ”قرآن مجید“

میرے دماغ میں گویا بجلیاں سی دوڑ گئیں اور ذہن کے دریچے سے ایک منظر ابھرا کہ ہاں واقعتاً اس نام کی ایک کتاب عرصہ دراز سے میری الماری کے اوپر پڑے رحل کی زینت ہے۔ اور غالباً آخری بار گزشتہ ماہ رمضان میں ہی اسے پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply