ڈسکہ میں علم کا مجسمہ توڑنے والے صالحین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی تازہ واقعہ ہے کہ ڈسکہ کے عوام نے اپنے ووٹ کی عزت کے لئے اور چوری کو روکنے کے کچھ متأثر کن اقدامات کر کے ملک کے عوام سے داد وصول کی ہے۔ یہ یقیناً قابل ستائش ہے۔ مگر اصل واردات شاید نظر نہیں کیونکہ اگر نظر آتی تو کوئی لکھ رہا ہوتا۔ واردات ملاحظہ فرمائیں :

ڈسکہ کے ایک چوک پر
دماغی خلل کے شکار کسی بندے نے
کسی یورپی ملک کے
کسی چوک پر لگے مجسمے سے متاثر ہو کر
کتاب، استاد اور ایک طالبہ کا مجسمہ لگا کر بنیادی طور پر علم و شعور کا ایک مجسمہ لگا دیا۔

الامان الحفیظ۔ نہ آسمان ٹوٹا نہ زمین پھٹی۔
کہ صالحین کے ملک میں استاد، کتاب اور طالبہ کا مجسمہ۔
یعنی کہ
استاد کہ جو صرف ڈی چوک پر مار کھانے کے لئے ہے
کتاب۔ جو ایسا آلۂ تشدد ہے کہ ایک مسلم حاکم  نے لکھنے والے کو ستون سے باندھ کر کہا تھا کہ اس وقت تک اس لکھنے والے استاد کے سر پر کتاب ماری جائے کہ جب تک یا تو یہ کتاب ورق ورق نہ بکھر جائے۔ یا لکھنے والے کا سر پارہ پارہ نہ ہو جائے۔

طالبہ۔ جس کو ختم کرنے کے لئے احسان اللہ احسان اب ماہر اور کاریگر قاتل بھیجے گا کہ طالبہ کے زندہ رہنے کا کوئی چانس نہ رہے۔

جی احباب یہ سب ہوا ڈسکہ کے ایک چوک پر۔

خدا جزائے خیر دے۔ ان گمنام صالحین کو جنہوں نے رات کی تاریکی میں اجالے کا سبب بن سکنے والے مجسمے کو توڑ کر ”غزنوی مزاجی“ کا ثبوت دیا۔ حالانکہ کہ قدرت کا قانون کہتا ہے کہ روشنی کو اندھیرا شکست نہیں دے سکتا۔ اور اگر اندھیرے میں دم ہے تو روشنی پر دن کی روشنی میں حملہ آور ہو۔

صاحبان! واردات پڑ گئی ہے۔ روشنی والی تصویر بھی ساتھ لف ہے اور اندھیرے کی کارگزاری کے بعد بنے والی تصویر کا ثبوت بھی ساتھ ہے تاکہ سند رہے۔

ڈسکہ کے صاحبان! سمجھ لیجیے کہ کتاب پاکستان کا آئین، استاد پاکستان کے عوام اور طالبہ فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو اور مریم نواز ہیں۔

جان لیجیے کہ اندھیرا اسی طرح وارداتیں جاری رکھے گا۔
آگاہ رہیے کہ ہمیں استاد، کتاب اور طالبہ کی تعمیر و تدریس و توقیر و ترقی جاری و ساری رکھنی ہے۔
ڈسکہ کے عوام۔ اٹھیے اور تعمیر کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply