زندگی اتنی ارزاں تو نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کرہ ارض پر سب سے قیمتی چیز ہے انسان اور اس کے احساسات۔ ہر انسان کو اس بات کا ادراک ہونا لازمی ہے کہ اس کا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ رب کریم کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور تمام نعمتوں کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث کے ذریعے دی گئی تمام اسلامی تعلیمات اس بات کی سختی سے تاکید کرتی ہیں کہ خودکشی ایک غیر فطری اور حرام عمل ہے۔

خودکشی فطرت سے بغاوت اور پروردگار کی ناشکری ہے اس امانت کی جس کو نعمت کا درجہ دے کر زندگی کی صورت بشر کے حوالے کیا گیا کہ وہ اس کو سنبھالے اور بہترین انداز میں صبر و شکر کے ساتھ بسر کرے۔ بحیثیت مسلمان تمام افراد معاشرہ اس امر کے پابند ہیں کہ وہ اپنے جسم و جاں کی اپنے رب کی امانت کے طور پر حفاظت کریں۔ خودکشی کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی قرار پائے گا۔

ایک اسلامی ملک ہونے کے ناتے پاکستان میں آئے دن خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویش ناک ہونے کے ساتھ ساتھ توجہ طلب بھی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی اتنی ارزاں تو نہیں کہ اپنے ہی ہاتھوں موت کے بے رحم شکنجے کے حوالے کر دی جائے۔ یقیناً ہر خودکشی ایک سانحہ ہے۔ لیکن بروقت اقدامات کے ذریعے اور ہر سطح پر کونسلنگ کے ذریعے اس سانحے سے بچاؤ ممکن ہے۔ گرچہ اس کو مکمل طور پر روکا تو نہیں جا سکتا لیکن ممکنہ حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں خودکشی کے کیسز سے متعلق سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کوئی اعداد و شمار موجود ہی نہیں اور نہ ہی کبھی اس اہم معاملے پر اعداد و شمار اکٹھا کرنے کی افادیت کو ضروری سمجھا گیا جو یقیناً خودکشی کی روک تھام میں معاونت فراہم کرتے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال ایک ملین سے زائد افراد غیر فطری طریقے سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ ہر چالیس سیکنڈ میں دنیا میں خودکشی کا ایک کیس سامنے آتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ہر گھنٹے میں ایک خودکشی کی جاتی ہے۔ نوجوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ خودکشی ہے۔ عالمی سطح پر مردوں کی خودکشی کا تناسب عورتوں کی خودکشی کی شرح تناسب سے دو گنا زیادہ ہے۔

امریکہ جیسے ملک میں ستر فیصد خودکشی کے کیسز میں آتشیں ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جبکہ گزشتہ پچاس برسوں میں پوری دنیا میں پندرہ ملین سے زائد افراد نے زہر یا کیڑے مار ادویات کو زندگی کے خاتمے کے لیے استعمال کیا۔ سب سے اہم بات جو عالمی سطح پر کیے جانے والے ان سرویز سے پتا چلیں وہ یہ تھیں کہ ڈپریشن اور مزاج کا منفی تغیر وجہ خودکشی میں سر فہرست رہا ہے اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ ان میں سے اٹھانوے فیصد دماغی یا ذہنی دباؤ کے شکار افراد قابل علاج تھے۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق ڈپریشن مستقل اور وقتی دونوں طرح کا ہو سکتا ہے۔ وقتی ڈپریشن جس سے چھٹکارا پانا نسبتاً آسان ہے، اگر اس میں قیمتی جان ضائع ہو رہی ہے تو یہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ اب یقیناً ڈپریشن یا مایوسی کے پیچھے بہت سارے عوامل ہو سکتے ہیں جیسا کہ جہالت، غربت و بے روزگاری، ذاتی ناکامیاں، معاشرتی محرومیاں، گھریلو ناچاقیاں، ازدواجی رشتوں کی تلخیاں، محبت میں ناکامی، مذہب سے دوری وغیرہ وغیرہ۔

ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا شخص اور دسواں بچہ ڈپریشن کا شکار ہے اور آبادی کے لحاظ سے ڈپریشن کا تناسب 33 / 44 فیصد ہے۔ اس حساب سے نفسیاتی معالج آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں جیسے کراچی اور لاہور میں خودکشی کے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ صرف کراچی میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجوہات بیروزگاری اور معاشی دباؤ ہیں۔

وہ خوش قسمت جو خودکشی کی کوشش کرنے کے باوجود بچ گئے یا بروقت اقدامات کے ذریعے بچا لیے گئے، ان میں سے بہت سوں کو نئی زندگی ملنے کے بعد ایک نئی امید اور نئے راستے دکھائی دیے اور ایک سروے کے مطابق یہ سب راستے ان کے سامنے اس وقت بھی تھے جب وہ مایوسی کی انتہاؤں پر تھے، بس فرق یہ تھا کہ وہ ان راستوں کو مایوسی کے اندھیروں میں دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ دراصل یہ لوگ خودکشی کرنا نہیں چاہتے تھے بس ان الجھنوں اور پریشانیوں سے پیچھا چھڑانا چاہتے تھے جو نہ چاہتے ہوئے بھی زبردستی ان پر مسلط کر دیے گئے تھے۔

یہ بات واضح ہے کہ خودکشی کی طرف مائل کرنے والی پہلی سوچ ہی دراصل عملی خودکشی کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم ہے۔ جہاں ایسی سوچ زندہ رہنے کی خواہش پر لمحہ بھر بھی حاوی ہو جائے وہیں الرٹ ہو جائیں کہ یہ نارمل نہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ہم میں سے ہر تیسرا شخص زندگی میں کبھی نہ کبھی مایوسی کے عالم میں خودکشی کے متعلق سوچتا ضرور ہے۔ اس سوچ پر بات کرنا لازمی ہے۔

یہ ایک المیہ ہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی خودکشی یا خودکشی سے متعلق ایسی کسی سوچ یا خواہش پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ مریض کو معمولی بخار ہونے کی صورت میں طبیب کو فوری دکھایا جاتا ہے کہ بخار کی علامات نظر آتی ہیں لیکن جب ہمارے اپنوں میں سے کوئی ذہنی شکستگی یا مایوسی کا شکار ہو رہا ہوتا ہے تو کسی نفسیاتی معالج سے رابطہ کرنے میں شرم محسوس کی جاتی ہے کہ کہیں معاشرہ اس کی پشت پر پاگل ہونے کا لیبل چسپاں نہ کر دے۔ بخار کی علامات کی طرح ڈپریشن کی علامات بھی رویے میں واضح منفی تبدیلی کی صورت میں دکھائی دے رہی ہوتی ہیں۔ ڈپریشن کی بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے۔

دنیا بھر میں دماغی صحت ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے متعلق گفت و شنید کو ہر سطح پر اہمیت دی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر موجود سماجی رابطے کی ویب سائٹس اس موضوع پر ہر طرح کا مواد شائع کر رہی ہیں جس سے خودکشی کی پہلی سوچ رکھنے والے شخص کو بھی مثبت راہ دکھائی جا سکے اور خودکشی پر مکمل طور پر آمادہ شخص کی بھی ماہرین کے ذریعے کونسلنگ کی جائے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس بارے میں بات کرنا تو درکنار سوچا بھی نہیں جاتا۔ جبکہ اتنے اہم معاملے کی جس پر انسانی جان سب سے زیادہ خطرے میں ہے بات کرنا اور عام لوگوں کو اس کی آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ کچھ سال قبل مشہور کامیڈین جیریمی میکلان نے ایک مشہور سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا پاکستان میں خودکشی کی روک تھام کے لیے کوئی ہاٹ لائن موجود ہے یا نہیں؟

اب اس سوال کے جواب میں جو توجیہات پیش کی گئیں وہ یقیناً سوال کنندہ کو مطمئن نہ کر سکیں اور شاید جواب دینے والے بھی اتنے پر اعتماد نہ دکھائی دیے لیکن اس سب سے قطع نظر یہ بات واقعی قابل غور ہے کہ پاکستان میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے تناسب کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں اگر ایک عام پراڈکٹ یا سروس کے لئے ہیلپ لائن دی جا رہی ہے تو بالکل اسی طرح دماغی صحت سے متعلق مسائل، زندگی کی الجھنوں اور پریشانیوں سے پیدا شدہ ذہنی دباؤ سے چھٹکارا پانے تک کے لئے ہیلپ لائنز موجود ہیں۔

ان ہیلپ لائنز پر نفسیاتی ماہرین ایسے مریضوں کی کونسلنگ کے ذریعے مدد فراہم کرتے ہیں اور اس کو قطعی معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے۔ جب ہم ہر چیز میں پوری دنیا کو فالو کر رہے ہیں تو اس معاملے میں کیوں نہیں؟ موجودہ صورتحال کے تناظر میں جہاں مشہور و معروف اور بظاہر کامیاب نظر آنے والی شخصیات تک جب خودکشی جیسے انتہائی قدم کو اٹھانے سے دریغ نہیں کر رہیں تو ایسے میں اس طرح کی ہیلپ لائن کی اہمیت، افادیت اور ضرورت حد درجہ بڑھ جاتی ہے۔

جہاں مایوس ذہن اپنے مسائل، پریشانیاں یا ذہنی بوجھ اور ڈپریشن پر مکمل رازداری کے ساتھ کھل کر بات کر سکیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے اور ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود اگر پاکستان میں خودکشی کا تناسب بڑھ رہا ہے تو ہم سب کو ہر سطح پر سنجیدگی سے اس بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا موثر طریقے سے سدباب کیا جا سکے۔

پاکستان میں خودکشی کے واقعات میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں حالیہ برسوں میں حیران کن حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس وقت اہمیت ان وجوہات پر غور کرنے کی ہے جن کے باعث خودکشی کرنے والا شخص آہستہ آہستہ اپنے قریبی رشتوں سے اس حد تک دور ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس کو اپنی پریشانی بانٹنے کے لیے کہیں کوئی کاندھا نہیں ملتا سوائے چار کاندھوں کے۔ مایوس کفر ہے لیکن خودکشی کے اکثر واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ خودکشی کرنے والے لوگ مایوس ہونے کے علاوہ حد درجہ تنہائی کا شکار تھے۔

لوگوں کی اردگرد موجودگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ ڈپریشن کا شکار شخص تنہا نہیں۔ اگر ایک مایوس شخص اپنی اندرونی کیفیات اپنے قریبی رشتوں اور دوستوں سے شیئر نہیں کر پا رہا تو یہ واقعی حیرت انگیز بات ہے۔ مذہب کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام ہماری مضبوطی اور بہترین سماجی شیلڈ ہے۔ اس نظام کی وجہ سے مایوسی کے شکار قریبی رشتوں کو امید کی کرن دکھائی جا سکتی ہے۔ ان کی ذہنی الجھنوں کی گتھیاں سلجھا کر ان کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خودکشی کرنے والے کی مایوسی یا ڈپریشن کی وجہ اکثر قریبی رشتے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔ دراصل ہر وہ شخص اس خودکشی کا ذمہ دار ہوتا ہے جو اس کی نفسیاتی الجھنوں سے غافل رہا یا اس کی اس سطح پر آنے والی ذہنی کیفیت کی وجہ بنا اور اس کو کوئی رستہ نہ دکھا بجز اپنی قیمتی زندگی کے خاتمے کے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق ”سوسائڈ واچ“ خودکشی کی روک تھام کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ مضبوط سماجی اور مشترکہ خاندانی نظام کے ذریعے مایوسی یا ڈپریشن کا شکار ہونے والا شخص فوری نظروں میں آ جاتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب نگرانی کرتے ہوئے اس کی مایوسی کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں سے بات کیجیے، آپ کے قریبی رشتے توجہ چاہتے ہیں، ان کو وقت دیجیے، یہ آپ کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ مایوسی کا شکار لوگوں کو اپنی عینک سے دیکھنے کے بجائے ان کی نظر سے دیکھیں کہ وہ زندگی کو کس طرح سے دیکھ رہے ہیں اور کہاں زندگی کی بھول بھلیوں سے نکلنے کے راستے مسدود پا رہے ہیں۔

خودکشی کرنے پر آمادہ اور کوشش کرنے والا شخص دراصل پورے معاشرے کو مدد کے لیے پکار رہا ہوتا ہے کہ میں ناکام ہو گیا ہوں لیکن آؤ اور مجھے تھام لو۔ اس پکار پر مثبت ردعمل دینا اور اس شخص کو تھام لینا، اب معاشرے کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

خودکشی کرنے والا کبھی اکیلا نہیں مرتا۔ اپنے پیاروں کو ساتھ لے کر مرتا ہے۔ وہ پیارے جو کبھی ساتھ جیتے تھے، وہ ان کو بے موت مار کر مرتا ہے۔ یاسیت کے شکار مریضوں کو جو کیفیت آج غیر معمولی لگتی ہے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہی کیفیت معمولی اہمیت بھی نہیں رکھتی۔ بے شک وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔

معروف ماہر نفسیات اور تھیراپسٹ آئروین یالوم زندگی سے مایوس لوگوں کو جینے کی امید دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”زندگی ایک دکھی کرنے والی چیز ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس کو سوچتے ہوئے جیوں گا۔“

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جینے کی امید دینے والی اور خودکشی کی حوصلہ شکنی کرنے والی وڈیوز اور مواد پر کئی ملین لوگوں کا وزٹ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اس معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں اور کہیں سے بھی ملنے والی موہوم سی امید پر بھی جینا چاہتے ہیں۔

زندگی اور موت کا فلسفہ سمجھنے کے لئے یہ غور و فکر لازمی ہے کہ آپ کو اس دنیا میں کس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے اور آپ کس طرح انسانیت کے لئے کارآمد ہو سکتے ہیں۔ زندگی میں کچھ نہ ملنے کی ناکامی لیے ہوئے بھی آپ دوسروں کو بہت کچھ دے کر ان کی زندگیوں کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ آپ وہ کچھ دے سکتے ہیں جو آپ کے پاس ہے، آپ کے لیے بے کار ہے لیکن کسی نہ کسی کو اس کی ضرورت ہے۔

اپنی زندگی کو ناکارہ سمجھ کر ختم کرنے کے بجائے خود کو بنانے پر دھیان دیجیے۔ وقت کو تھام کر دوسروں کو وقت اور حوصلہ دینا شروع کر دیں پھر دیکھیں زندگی آپ کی جانب کیسے ہاتھ بڑھاتی ہے۔ خودکشی بنیادی طور پر ہار جانے کا نام ہے۔ زندگی کی حقیقتوں سے منہ چرا کر خود کو موت کے ہاتھوں میں دینے کا نام ہے۔

لہٰذا معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے زندگی سے مایوس ہو جانے والے لوگوں کو جینے کی امید دیں۔ زندگی مثبت سوچ کے ساتھ گزاریں۔ معاملات زندگی میں منفی رویہ اختیار کرتے ہوئے اس بات کا بہت خیال رکھیں کہ آپ کی منفی سوچ کہیں کسی کے اندر مایوسی کے بیج تو نہیں بو رہی۔ جب بھی کسی معاشرے میں ایک عاقل و بالغ شخص خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھاتا ہے تو اپنے فعل کا وہ خود تو ذمہ دار ہوتا ہے ہی لیکن معاشرہ اس کے اس فعل سے بری الذمہ قرار نہیں دیا سکتا۔ ہر ایک کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں اس کو خودکشی کے راستے پر دھکیل رہا ہوتا ہے۔

جب ہم کسی محفل میں یا کسی فورم میں منفی رویہ یا لہجہ اختیار کر رہے ہوتے ہیں تو دراصل ہم کچے اور ناپختہ اذہان کو مایوسی کے سفر پر روانہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ زندگی میں سب کچھ برا ہو رہا ہے یہ دیکھیں کہ بہت کچھ اچھا بھی تو ہو رہا ہوتا ہے۔ ہم اپنے دامن میں مایوسی بھرے کسی خون ناحق کے چھینٹے کیوں پڑنے دیں۔ کیوں نہ کسی کو جینے کی امید دی جائے۔ جب بھی کسی کی امید کی شمع بجھے گی، مایوسی کا اندھیرا اسے اپنے حصار میں لے گا، بس کوشش یہ رہے کہ ہماری وجہ سے کسی کی امید نہ ٹوٹے۔ اپنے حصے کے چراغ ضرور جلائیں کہ کسی نہ کسی مایوس شخص کو راستہ ضرور سجھائی دے۔ فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا ہے۔

وہ تیرگی ہے رہ بتاں میں، چراغ رخ ہے نہ شمع وعدہ
کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں

حکومتی سطح پر اس اہم معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ذہنی مریضوں کے علاج کے لیے فنڈز مختص کرنا ضروری ہیں، پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے آگہی مہم کا دائرہ کار بڑھانا چاہیے۔ سوشل ورکرز کو ٹریننگ دے کر دیہی علاقوں میں لوگوں کی بھرپور کونسلنگ کی جا سکتی ہے اور ان کو جینے کی امید دیتے ہوئے مثبت راہ دکھائی جا سکتی ہے۔

نفسیاتی ماہرین کی موجودگی کے ساتھ اس وقت ہمیں ایک مکمل، مربوط اور جامع سسٹم کی ضرورت ہے جہاں آگاہی سے لے کر روک تھام تک، ہر سطح پر بات کی جائے۔ علاج کے نئے اور جدید طریقہ کار متعارف کرائے جائیں۔ کسی بھی قسم کی جنسی و سماجی تفریق سے بالاتر ہو کر مربوط لائحہ عمل طے کیے جائیں اور نئے قوانین نافذ کیے جائیں۔ جان لیوا ادویات تک عوام کی رسائی کے عمل کو مشکل بنایا جائے اور اس کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ علاقائی سطح پر مساجد اور دینی مدارس کے ذریعے مذہبی تعلیمات پر اس موضوع پر اہمیت دیتے ہوئے آگاہی مہم شروع کی جائے۔ عوام کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس سلسلے میں پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے دماغی امراض کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے کام کے دائرہ کار کو بڑھا سکیں اور ہر ممکن طریقے سے قیمتی جانوں کی حفاظت کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
لبنیٰ مقبول کی دیگر تحریریں

Leave a Reply