اعتماد کے ووٹ سے پہلے مایوس عمران خان کا خطاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی غیر متوقع کامیابی کے بعد سرکار دربار کے خبری صحافی بتارہے تھے کہ عمران خان کی پیٹھ ننگی ہے، اب اس پر ’مہا دیو‘ کا دست شفقت نہیں ہے۔ اب انہیں جو کرنا ہے یا لڑنا ہے، وہ اپنے برتے پر ہی کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے شام کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے تمام ’اختیار و اقتدار‘ ہاتھ میں ہونے کے باوجود ’بدعنوانوں کے خلاف‘ قوم کو سڑکوں پر نکالنے کا قصد ظاہر کرکے گویا اس ’خبر‘ کی تصدیق کی ہے۔

عمران خان کے قوم سے خطاب میں ان کی مایوسی اور ناکامی کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کی باتوں میں اقتدار کی چاہ اور اس سے چمٹے رہنے کی تمام تر خواہش و کوشش کا اعلان تو ہے لیکن یہ تفہیم دکھائی نہیں دی کہ وہ کیوں ان مقاصد میں ناکام ہیں جن کی تکمیل کے لئے وہ ’تن تنہا‘ سیاسی میدان میں اترے تھے۔ وہ اپنے سوا باقی سب کو قصور وار سمجھتے ہیں۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز کا یہ دعویٰ تو بجا ہے کہ عمران خان پاکستانی تاریخ کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو ’اعتماد کا ووٹ‘ لینے کے لئے قومی اسمبلی کے پاس جارہے ہیں۔ لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہے ہیں کہ عمران خان وہ پہلے وزیر اعظم بھی ہیں جو اسی ایوان کو بے توقیر کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں جس کے ووٹوں سے منتخب ہوکر وہ وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔ عمران خان نے قوم سے خطاب میں جو بطور وزیر اعظم ان کا آخری خطاب بھی ہوسکتا ہے، اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت اپنے مقاصد میں ناکام رہی ہے لیکن سنجیدہ سیاست دان کی طرح اس کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے، انہوں نے اپوزیشن، ماضی کی حکومتوں، الیکشن کمیشن اور ملکی آئین کی شقات کو اس ناکامی کی وجہ قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے عمران خان کو قوم سے خطاب کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ انہیں ووٹ تو قومی اسمبلی کے ارکان سے لینا ہے جنہیں سینیٹ انتخاب میں ’دھوکہ‘دینے پر بے نقط سناتے ہوئے پوچھا گیا ہے کہ ’مرنے کے بعد اللہ کو حساب بھی تو دینا ہے؟‘ نہ جانے یہ کس کتاب مقدس میں لکھا ہے کہ کسی سیاسی پارٹی کا کوئی رکن قیادت کی مرضی کے برعکس کسی دوسرے امیدوار کو ووٹ دے گا تو اس کی عاقبت خراب ہوجائے گی۔ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیوں میں پارٹیوں کی نمائندگی کو ہی متناسب نمائندگی کہہ کر سینیٹ میں اسی تناسب سے سیاسی جماعتوں کو نشستیں دینا مقصود تھا تو ملک کا آئین سینیٹ کا انتخاب خفیہ بیلیٹ کے ذریعے کروانا کیوں ضروری قرار دیتا ہے؟ یہ ایسی سخت شرط ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ تین ہفتے کے عمیق غور وخوض اور الیکشن کمیشن سے سخت سست سوال کرنے کے باوجود، اس سے گریز کا کوئی جواز تلاش نہیں کرسکی۔ پھر عمران خان کس بنیاد پر الیکشن کمیشن سے تقاضا کررہے ہیں کہ وہ آئینی شق کو نظر انداز کرکے اس سیاسی نعرے پر عمل کرتا جو عمران خان نے ایجاد کیا ہے اور جسے کسی قانونی فورم پر ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل و شواہد موجود نہیں ہیں۔ لیکن سیاسی طور وہ اس مال کو قابل فروخت بنا کر اپنی حکومت کی ناکامیوں، مالی بداعمالیوں اور انتظامی کمزوریوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔

سیاست دانوں کی مبینہ چوری کے بعد سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت عمران خان کا دوسرا اہم ترین نعرہ ہے۔ قوم سے خطاب میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ تحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملی ہیں جتنی اوپن بیلیٹ کی صورت میں ملتیں۔ پھر انہیں اعتراض کسی بات پر ہے۔ کیا چوری کا الزام کیا صرف ایک نشست پر پانچ ووٹوں سے ناکامی کی وجہ سے عائد کیا جارہا ہے؟ خفیہ طور سے ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ دینے کا جو حق ملک کا آئین تمام ارکان اسمبلی کو عطا کرتا ہے، اسے صرف عمران خان کی سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے کیوں کر بدعنوانی قرار دیا جائے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ بعض ناراض ارکان نے پارٹی فیصلہ سے عدم اتفاق کی وجہ سے حفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا۔

 عمران خان کو اگر قوم سے خطاب میں کہی ہوئی اس بات پر سو فیصد یقین ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے نوٹ دے کر ووٹ خریدے ہیں تو بطور وزیر اعظم انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروئے کار لاتے ہوئے کیوں ووٹ خریدنے اور بیچنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ یہ ذمہ داری صرف الیکشن کمیشن پر تو عائد نہیں ہوتی۔ حکومت اور اس کے ماتحت ادارے بھی کسی بدعنوانی کا سد باب کرنے کے پابند ہیں۔ کیا بطور منتظم اعلیٰ یہ ان کی سب سے بڑی ناکامی نہیں ہے۔ پورا نظام ان کے قبضہ قدرت میں ہے لیکن وہ اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو سمجھتے ہیں۔ اور اب دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر انہیں اعتماد کا ووٹ نہ ملا تو وہ لوگوں کو سڑکوں پر نکالیں گے اور ملک میں سکون و اطمینان کی فضا قائم نہیں رہنے دیں گے۔ پھر وہ کس منہ سے پی ڈی ایم کے احتجاج اور جلسے جلوسوں کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیتے رہے ہیں۔

عمران خان کی تقریر میں متعدد غلط بیانیاں ہیں۔ سب سے بڑا جھوٹ تو یہی ہے کہ انہیں اقتدار کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ اعتماد کا ووٹ نہ ملنے کی صورت میں اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔ اگر یہی بات درست ہوتی تو وہ کبھی 2018 کے مشکوک انتخابات کے بعد لالچ و تحریص سے ساتھ ملائے گئے ایم این ایز کی حمایت سے وزیر اعظم بننا گوارا نہ کرتے۔ یا جیسا کہ یوسف رضا گیلانی نے سوال کیا ہے کہ ’اگر آپ اقتدار سے ایسے ہی بے نیاز ہیں تو اعتماد کا ووٹ کیوں لے رہے ہیں، استعفیٰ کیوں نہیں دیتے‘۔ عمران خان بخوبی جانتے ہیں کہ تین برس قبل انتخابات کے موقع پر کس طرح ’الیکٹ ایبلز‘ کو ہانک کر تحریک انصاف میں شامل کروایا گیا۔ کیا جہانگیر ترین کے جہاز پر سوار ہوکر بنی گالہ میں عمران خان کے ہاتھوں پارٹی کا نشان وصول کرنے والے لیڈر کسی کرپشن مکاؤ مشن کے لئے ان کے ساتھ ملے تھے، یا وہ اسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ تھے جو عمران خان کا مطمح نظر تھا اور ہے: کسی بھی قیمت پر اقتدار کا حصول۔

قوم سے خطاب میں دوسرا جھوٹ یہ بولا گیا ہے کہ انہوں نے اوپن بیلٹ کے لئے پہلے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم لانے کی کوشش کی لیکن بدعنوان اپوزیشن لیڈر اس کے خلاف متحد ہوگئے تو مجبوراً انہیں سپریم کورٹ جانا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے دو اڑھائی برس کی خاموشی کے بعد سینیٹ انتخاب سے چند ہفتے پہلے اوپن بیلٹ کی بحث شروع کی اور وضاحت کے لئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا۔ پھر اپوزیشن سے کسی قسم کی مواصلت کے بغیر اچانک آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں سرکاری نمائندوں نےاپوزیشن پر تابڑ توڑ حملے کئے اور الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔ اپوزیشن ارکان کو بلیک میل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ اپوزیشن نے کبھی ترمیم کی مخالفت نہیں کی۔ اس کی طرف سے طریقہ کار پر عمل کرنے اور پارلیمانی کمیٹی میں ترمیم پر غور کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔حکومت اس آئینی ترمیم کے بارے میں غیر سنجیدہ تھی، اسی لئے اچانک قومی اسمبلی کا سیشن ملتوی کردیا گیا۔ اسے زیادہ امید سپریم کورٹ سے تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت عظمی کی رائے آنے سے پہلے ہی صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے سینیٹ میں ووٹنگ کا طریقہ کار بھی ’طے‘ کردیا گیا۔ اگر عمران خان کے مشیر ناقص العقل ہیں تو وہ اس کا الزام اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتے۔

عمران خان دیانت داری اور ایمانداری کا بھاشن دینے کے عادی ہیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ فیصل واوڈا کو قومی اسمبلی کا رکن ہوتے ہوئے سینیٹ کا ٹکٹ کیوں دیا گیا تھا؟ پھر صبح نو بجے قومی اسمبلی میں رکن کے طور پر سینیٹ انتخاب میں ووٹ دے کر ساڑھے نو بجے استعفیٰ دینا اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی نااہلی کی پٹیشن مسترد کرنے کا مطالبہ کرنا، کیا سیاسی دیانت کا اعلیٰ نمونہ ہے؟ کیا عمران خان اس سیاسی بے ایمانی میں ان کے شریک جرم نہیں ہیں؟ دوسرا معاملہ بلوچستان سے تعلق رکھتا ہے۔ وہاں عمران خان نے عبدالقادر بلوچ کو ٹکٹ دیا تھا لیکن صوبائی قیادت کے اعتراض پر ان سے ٹکٹ واپس لے کر ظہور آغا کو دے دیا گیا۔ عبدالقادر بلوچ آزاد امیدوار بن گئے اور تحریک انصاف نے انتخاب سے پہلے بلوچستان عوامی پارٹی کے کہنے پر ظہور آغا کو دستبردار ہونے پر مجبور کیا۔ عبدالقادر بلوچ تحریک انصاف اور بے اے پی کے ووٹوں سے سینیٹر بننے میں کامیاب ہوگئے۔ کیا ایمانداری کی ایسی ہی مثالیں قائم کرکے عمران خان ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اس طریقہ سے واضح نہیں ہوتا کہ تحریک انصاف کے متعدد ارکان کیوں قیادت سے نالاں ہیں۔

امید کرنی چاہئے کہ قومی اسمبلی کی اکثریت ہفتہ کو عمران خان پر اعتماد کا اظہار کرے اور وہ بطور وزیر اعظم اپنے عہدے کی مدت پوری کریں۔ ملک کا کوئی جمہوریت پسند کسی حکومت کے اچانک اور غیر متوقع خاتمہ کا متمنی نہیں ہوسکتا ۔ لیکن عمران خان کو بلیک میلنگ کے ہتھکنڈوں کی بجائے، اس کام پر توجہ دینی چاہئے جس کے لئے انہیں منتخب کیا گیا ہے۔ انہیں عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے تاکہ نہ تو انہیں کسی تھپکی کی ضرورت ہو اور نہ ہی ’پیٹھ ننگی‘ ہونے پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ بلکہ وہ ایسا جمہوری مزاج استوار کریں کہ سیاست دان مل جل کر قومی مسائل حل کریں۔ ملکی سیاست میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا طریقہ پہلے سے موجود رہا ہے لیکن عمران خان نے سیاسی مخالفین کو بے اعتبار کرنے کی سنگین مہم سے سیاست و جمہوریت پر عوام کے اعتبار کو کمزور کیا ہے۔ عمران خان کو جاننا چاہئے کہ وہ خود بھی سیاست دان ہیں۔ سیاست، جمہوریت اور جمہوری اداروں پر عدم اعتماد سے وہ خود اس شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر تحریک انصاف کا آشیانہ بھی ہے۔

قوم سے خطاب میں الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے پر ’جمہوریت دشمنی‘ کا الزام کسی وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا۔ عمران خان اگر ہفتہ کے بعد بھی وزیر اعظم رہے تو انہیں سیکھنا پڑے گا کہ آئینی اداروں کی حفاظت اور احترام ان کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1813 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply