اللہ گاؤں جانے والی عائشہ سے مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وہ نہیں ہے۔ اللہ گاؤں چلی گئی۔ مگر میری آنکھیں اب بھی اس کو دیکھ رہی ہیں۔

میں نے اسے دیکھا، اور مسکراتے ہوئے دیکھا۔ پہلا تأثر یہی تھا کہ وہ ہنس رہی ہے اور اس کے مسکراتے چہرے پر غضب کی زندگی کی علامت ہے، اس لئے جو کچھ کہ وہ کہنے والی ہے، اس سے زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس نے مسکراہٹ کے ساتھ اللہ کو یاد کیا۔ میں نے بھی اس کے مسکراتے چہرے کے ساتھ اللہ کو شریک بنایا۔ لیکن، دوسرے ہی لمحہ ماحول تبدیل ہو چکا تھا۔ اس کی مسکراتی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ پیچھے دریا کا کنارہ تھا۔ میرے بس میں نہیں تھا کہ میں دریا میں چھلانگ لگا دوں یا اسے روک سکوں۔ مگر عائشہ بیٹی نے اللہ کو اپنا رازدار بنا دیا تھا ، اب اسے اس دنیا کی ضرورت نہیں تھی، جہاں وہ قید تھی۔

خود کشی بزدلوں کا کام ہے، یہ میں نے بھی سنا ہے۔ مگر وہ تو ہنس رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ذرا بھی بزدلی کے نشان نہیں تھے۔ مسکراتے ہوئے وہ اللہ گاؤں جانے کی تیاری میں تھی۔ اس لئے کہ اس دنیا سے اس کا اعتبار کھو گیا تھا۔ اعتبار کیوں کھوتا ہے؟ کب کھوتا ہے؟ کیسے کھوتا ہے؟

جب آپ اسے داشتہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب آپ کے لئے وہ قابل احترام شخصیت نہیں رہ جاتی۔ جب آپ اسے رسوا کرتے ہیں۔ جب آپ شادی کی رسم کے لئے نمائش کا حصہ بناتے ہیں۔ عرب میں حضرت محمد ﷺ کے آنے تک عورت بازاروں میں بکنے والی چیز تھی۔ جس کے ہاتھ لگ جاتی، اسی کی ملکیت ہو جاتی۔ صدیوں میں سانس لیتی عورت نے جب اپنی آزادی کے آسمان کی تمنا کی، تو سب سے پہلی جنگ اسے مذہب سے ہی لڑنی پڑی۔ خود اسلام میں عورت کے نام پر اتنی ساری پابندیاں اس کی تقدیر میں لکھ دی گئی تھیں، جنہیں آج کے مہذب ترین دور میں بھی عورت نبھائے جانے کے لئے مجبور ہے۔ مذہب کی حیثیت کسی تلوار جیسی ہے، جو عورت کے سر پر صدیوں سے لٹک رہی ہے۔ عورت اس تلوار کے خلاف جاتی ہے، تو وہ سرکش، باغی تو کبھی بے حیا اور طوائف بھی ٹھہرا دی جاتی ہے۔ تو سب سے آسان ہے، جان دے دینا جو عائشہ نے کیا۔

جہیز کی لعنت، مسلسل ظلم، کئی کئی بیویوں کا رواج، ’داشتہ‘ رکھنے اور کوٹھوں پر جانے کا رواج، مردانگی کی جھوٹی دلیلیں، شہزادوں، نوابوں اور مہاراجاؤں کے ہزاروں لاکھوں قصوں میں عورت مردوں کی کھیتی بن گئی۔ مرد عورت کی ’زمین‘ پر ہل چلا سکتا تھا، رولر چلا سکتا تھا۔ زمین کو چاہے تو زرخیز اور چاہے تو بنجر بنا سکتا تھا۔ وہ مرد کی ’کھیتی‘ تھی اس لئے اسے بولنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ مرد اس کا کوئی بھی استعمال کر سکتا تھا۔ یہاں تک کہ عائشہ کو یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جاؤ، جان دے دو۔ اور ویڈیو مجھے بھیج دینا۔ اس نے ویڈیو تیار کیا اور بھیج دیا۔ اپنے بوڑھے باپ کو بھی۔

ایک عائشہ چلی گئی۔ مسکراتی ہنستی ہوئی۔ مگر اب دوسری عائشہ کو روک لیجیے۔ معاشرے کا چہرہ تبدیل کیجیے۔ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

ذرا پیچھے جاؤں تو ایک حادثہ مجھے روک لیتا ہے۔ یہ انہی دنوں کا تذکرہ ہے جب ہندوستانی سر زمین پر سیاست نے نئی کروٹ لی تھی۔ دلی کا انڈیا گیٹ ہزاروں لاکھوں کی بھیڑ میں انقلابی چوک میں تبدیل ہو چکا تھا۔ یہ دبے پاؤں آنے والی انقلاب کی وہ آہٹ تھی، جو شاید اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ وہی دور تھا جب دنیا کے کئی حصوں میں اس طرح کے مظاہرے عام تھے۔ سیاسی چہروں کو یہ فکر دامن گیر تھی عوام کا غصہ جاگ گیا تو تخت و تاج کا کیا ہو گا۔ بار بار تباہ و برباد اور آباد ہونے والی دلی آزادی کے بعد محض سوئی ہوئی، خاموش تماشائی بن کر رہ گئی تھی۔ لیکن ایک حادثے نے دلی والوں کو نہ صرف جگا دیا تھا بلکہ دلی کے ساتھ ہی پورا ہندوستان بھی جاگ گیا تھا اور یہ معاملہ تھا جیوتی گینگ ریپ کا معاملہ۔

ایک معصوم سی لڑکی جیوتی، جس کو میڈیا اور چینلز نے ابھیا، نربھیا جیسے ہزاروں نام دے ڈالے تھے۔ ایک کالج کی لڑکی جو صبح سویرے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک خالی بس میں بیٹھی اور بس میں سوار پانچ لوگوں نے بے رحمی کے ساتھ بوائے فرینڈ کی موجودگی میں اسے اپنی ہوس کا شکار بنا لیا اور چلتی بس سے دونوں کو باہر پھینک دیا۔ یقینی طور پر ایسے معاملات پہلے بھی سامنے آئے تھے۔ لیکن بے رحمی اور درندگی کی نہ بھولنے والی اس مثال نے دلی کو احتجاج اور انقلاب کا شہر بنا دیا تھا۔ جنترمنتر سے لے کر دلی گیٹ اور انڈیا گیٹ تک ہزاروں لاکھوں ہاتھ تھے، جو انقلاب کے سرخ پرچم کے ساتھ ہوا میں اٹھ کھڑے ہوئے۔

بطور مصنف کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اکیسویں صدی کی نئی دنیا میں قدم رکھنے کے باوجود آج تک جبلت اور درندگی کے واقعات میں کوئی کمی کیوں نہیں آئی تو علم نفسیات کی موٹی موٹی کتابیں بھی ہانپ جاتی ہیں کہ نہ قدیم عہد میں کچھ بدل سکا اور اس انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنسی انقلاب کے عہد میں کچھ بدلنے کی امید ہے۔ عورت کو اپنی حکومت کے طور پر محسوس کرنے والا۔ اور صدی کے انقلاب کے باوجود برتری کا وہی پیمانہ ہے جو آج بھی عورتوں کو حاشیہ پر دیکھنے کا خواہشم ند ہے۔ اور اسی لیے عورت ہونے کے تصور میں، مرد نے کبھی اس کی اڑان کا استقبال نہیں کیا بلکہ ایسی ہر اڑان اس کی مردانگی کو للکارتی رہی۔

سیمون د بوار سے تسلیمہ نسرین تک عورت جب یہ کہتی ہے کہ یہ گھر میرا ہے، یہ فریج میرا، یہ لیپ ٹیپ میرا اور یہ بدن میرا تو مرد کی آنکھیں تن جاتی ہیں۔ مرد نہ عورت کو برانڈ بنتے دیکھ سکتا ہے نہ سماج سے سیاست تک اس کے قد کو پھیلتے اور بڑھتے ہوئے۔ یورپی ممالک کی عورتیں بھی اس معاملے میں وہی ہیں، جو ایک عام ایشیائی عورت کا معاملہ ہے۔ وہاں بھی زنا بالجبر اور زور زبردستی کی وارداتیں عام ہیں۔ اور یہ وارداتیں ہر سطح پر ہو رہی ہیں۔ یہاں تک کہ تہذیب کی اتنی صدیاں گزارنے کے بعد بھی ایک تعلیم یافتہ لڑکی رات کے اندھیرے میں سڑکوں پر سفر نہیں کر سکتی۔ دفتروں میں کام کرتے ہوئے اسے چوکنا رہنا ہوتا ہے۔ وہ گھر میں بھی محفوظ نہیں ہے۔ یہاں باپ سے بھائی تک کے قریبی رشتوں میں بھی سگ زار برادر شغال کی مثال ہی سامنے آتی ہے۔ صرف ایک بدن کے قصور میں آزاد ہوتے ہوئے اور ترقی کے مینارے چڑھتی ہوئی عورت بھی زمانۂ قدیم کی داسی محسوس ہوتی ہے، جس کی ڈور روز ازل سے مرد کے پاس ہے اور اسے مرد کے اشاروں پر ہی ناچنا ہوتا ہے۔

کیوں ہوتا ہے ایسا؟ کبھی کوئی بھیڑیا آ جاتا ہے۔ کبھی گھر میں ہی کوئی بھیڑیا نکل آتا ہے۔ کبھی عورت اس قدر پریشان کہ ہنستے ہنستے اللہ گاؤں جانے کا ارادہ کر لیتی ہے۔ ساری دنیا سوئی ہوئی ہے۔ اپنے ہی گھر میں خوف کا پیچھا کرتے ہوئے، بڑے ہونے کا خوف، جوان ہونے کا خوف، شادی نہ ہونے کا خوف، شادی کے بعد کا خوف، طلاق کا خوف، اندھے دنوں کا خوف، اندھی راتوں کا خوف۔ زندگی کے سمندر میں صرف خوف کے بھنور ہیں۔ اور ایک دن ہنستے ہنستے عائشہ اس بھنور میں سما جاتی ہے۔ میری آنکھیں خلاء میں اسے دیکھ رہی ہیں۔ میں اس سے مکالمہ کر سکتا ہوں۔ اور میں نے پوچھا۔ تم نے اچھا نہیں کیا عائشہ۔

اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے۔ نہیں جانتی۔
تم نے ویڈیو کیوں بنایا؟
عائشہ : میں یہ بھی نہیں جانتی
سوال : ویڈیو بناتے ہوئے تمہارے چہرے پر سکون کیوں تھا؟
عائشہ : کیوں کہ میں اللہ گاؤں جا رہی تھی۔
سوال : ایسی بھی کیا پریشانی تھی کہ تمہیں بوڑھے باپ کا خیال بھی نہیں آیا؟

عائشہ : خیال ہی تو آیا۔ اور میں نے سکون کی رسی تھام لی۔ لڑکی شادی کے بعد ایک اجنبی کے گھر جاتی ہے۔ جب رسوا ہوتی ہے تو وہ گھر اجنبی کا گھر بن جاتا ہے۔ پھر ماں باپ کا گھر بھی اجنبی لگنے لگتا ہے۔ گھٹن سہتے برداشت کرتے ہوئے کسی اجنبی کے ساتھ آپ کتنے دنوں تک رہ سکتے ہیں؟ اس درد کو وہ عورت سمجھ سکتی ہے، جس کی چیخیں اندر ہی اندر گھٹ جاتی ہیں۔ میں ان چیخوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی۔

سوال : مگر یہ جرم ہے۔ مذہب کے خلاف۔ مذہب اس کی تعلیم نہیں دیتا۔

عائشہ : جرم کیسے؟ میری آواز تو بہتوں نے سنی۔ کیا کوئی مجھے بچانے آیا؟ میرے ماں باپ بھی سب کچھ جانتے تھے۔ اور میں لاش کی طرح وہیں پڑی رہی۔ اجنبی کے گھر۔ اجنبی کے گھر کا کھانا بھی حرام ہوتا ہے۔ اور مذہب کیسے آ گیا۔ میں نے ویڈیو میں ہنستے ہوئے کہا، میرا وقت مکمل ہو گیا۔ مجھے اللہ کے پاس جانا ہے۔ اور میں آ گئی۔

سوال : مرنا کیا ضروری تھا۔ تم اکیلے بھی تو زندہ رہنے کے بارے میں سوچ سکتی تھی۔ جدوجہد ۔ بہت سے راستے تھے۔

عائشہ : مجھے اکیلے زندہ رہنے کی تربیت نہیں دی گئی۔ میں مانتی ہوں، میں اتنی کمزور تھی کہ سکون کے لئے خدا کے سوا کوئی تصور میرے پاس نہیں تھا۔ آس پاس ہزاروں کی تعداد میں بھیڑیے ہیں۔ مگر خدا کے لئے کسی کو دوسری عائشہ نہ بننے دیں۔ لڑکی کو با اختیار، مضبوط، خود کفیل بننے کی تعلیم دیں۔ اور یہ بھی کہ وہ بھیڑیوں سے مقابلہ کر سکے۔

اب عائشہ نہیں ہے۔ خلا میں اس کا مسکراتا چہرہ اب بھی موجود ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply