کس کو کس پر اعتماد ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران خان پر سب کا اعتماد تھا کہ ان کا حلف لیتے ہی ملک میں ڈالروں کی ریل پیل ہوگی جو سامراجی قرض خواہوں کے منہ پر مار کر ملک کی معاشی اور اقتصادی آزادی کا اعلان کیا جانے والاہے۔ ورلڈ کپ جیت کر کرکٹ کو خیرباد کہنے کے ساتھ اپنی مرحومہ ماں کے نام پر کینسر ہسپتال بنانے کے ان کے اعلان کو ملنے والی پذیرائی نے صرف ان کے اندر خود اعتمادی پیدا نہیں کی بلکہ دوسروں کے ان پر اعتماد میں بھی اضافہ کیا جس کا وہ بار بار ذکر کر کے یہ باؤر کراتے رہے کہ بندہ ایماندار ہو تو پیسہ اکٹھا کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ مانگنے سے چونکہ قومی حمیت اور غیرت پر حرف آتا ہے اس لئے وہ ان کے پاس جانے پر خود کشی کو ترجیح دے گا۔ عوام نے ان کی اس بات پر ان کو دوسرے سیاسی راہنماؤں پر نہ صرف فوقیت دی بلکہ قرضہ لے کر ملک چلانے والوں کو چور اور ڈاکو قرار دے کر ان کو مسترد کر دیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل ہی اسد عمر کے نام کا بطور وزیر اعلان کیا تھا جن کا ایک کثیرالقومی کمپنی کو ملک میں بہتر انداز میں چلانے کا تجربہ تھا۔ بار بار اسد عمر کے کارناموں کا ذکر کیا جاتا رہا اور اپنی مادری زبان اردو کے علاوہ شستہ انگریزی میں مدلل گفتگو کرنے والے اس نابغہ کو اسلام آباد سے منتخب کرواکر ملک کے خزانے کی چابی سپرد کی گئی۔

مسلم لیگ نون کی جانے والی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں چین پاکستان اقتصاد راہداری منصوبے کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں سے اپنے ترقیاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے جو قرضہ اٹھایا تھا اس کی اب آدائیگی کا وقت تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی حسب روایت عمرے کا قصد کیا اور دربار السعود میں حاضری دی۔ اپنے چچا زاد بھائیوں سے نبرد آزما سعودی عرب کے خود ساختہ ولی عہد محمد بن سلمان نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے دینی اخی کو مایوس نہیں کرے گا۔ جب جوابی خیر سگالی دورے پر سعودی شہزادہ پاکستان آئے تو ان کی گاڑی کے اسٹیرنگ پر کسی اور کو نہیں بلکہ ویزیراعظم کو دیکھا گیا۔ مگر سعودی عرب کے ترکی اور انڈونشیا کے ساتھ ترش تعلقات کی چکی میں بہت جلدی عمران خان پس گئے جو اردوان اور مہاتیر محمد کے پہلے سے معتقد و مقلد تھے۔

سعودی اعتماد کھو دینے کے بعد اب عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے دروازے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تو گھٹنے ٹیکنا پڑے مگر اب اس ادارے کا پاکستان کی نئی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم کے معتمد وزیر خزانہ پر اعتماد نہیں رہا تھا۔ اسد عمر کی چھٹی کرواکر آئی ایم کے مصدقہ تجربہ کار حفیظ شیخ کو لایا گیا جس نے اس سے قبل پیپلز پارٹی اور مشرف کو بھی اپنی خدمات دی تھیں۔

اس آئینی اور قانونی موشگافی کو کہ ملک کے اہم اور بڑے فیصلے کرنے والے کا منتخب ہونا لازمی ہے حفیظ شیخ کو سینیٹر منتخب کروانے کا فیصلہ ہوا۔ سیاست کی پر خار راہوں سے نابلد اس نابغہ کو پنجاب یا پختون خواہ کی اسمبلی سے بلا تردد منتخب کروایا جا سکتا تھا مگر کپتان نے اقبال کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے اس ممولے کو متحدہ حزب اختلاف کے شہباز سے قومی سیاسی فضاء میں لڑانے کا فیصلہ کیا۔

حفیظ شیخ کو قومی اسمبلی سے منتخب کروانے کے فیصلے میں کپتان کی خود اعتمادی شامل تھی یا آئی ایم ایف کے مسلط کردہ ماہر معیشت سے گلو خلاصی کا بہانہ۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف اور صرف وزیر اعظم ہی دے سکتے ہیں جس نے پختون خواہ کے اپنے چاہنے والوں کو بلوچستان سے اور قومی اسمبلی کے پہلے سے ممبر فیصل واوڈا کو سندھ اسمبلی سے منتخب کروانے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگائی مگر حفیظ شیخ کے انتخاب کو اپنی انا کا مسئلہ بنا دیا۔

سینیٹ کے انتخابات کے دوران اسلام آباد کی سیٹ کے لئے وزیر اعظم خود بہ نفس نفیس میدان میں اترآئے اور قومی اسمبلی میں واقع اپنے چیمبر میں جلوہ افروز ہو کر گزشتہ آڑھائی سالوں میں پہلی بار رونق بخشی۔ عصرانے، ظہرانے، عشایئے اور ناشتے سے ایسے ممبران کی بھی تواضع کی گئی جن کو سیٹ جیتنے کے بعد جہانگیری جہاز سے اتر کر عمران خان کے سامنے وفاداری بشرط استواری کا عہد کرنے کے علاوہ پھر کبھی عمران خان یا اس کی کیچن کیبینٹ کے کسی ممبر سے روبرو ملاقات بھی نصیب نہیں ہو سکی تھی۔

انتخابی مہم سے قبل حکومت نے سینیٹ کے لئے رائی دہی کو خفیہ نہ رکھنے کے جتن بھی کیے ۔ حالانکہ ارکان اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کی روایت ہمیشہ سے حکمران جماعت کی رہی ہے مگر اب کے حکومت خود سوالی بن گئی تھی۔ ملک کا آئین رائے دہی کو کسی بھی فرد کا ذاتی حق گردانتے ہوئے اس کی اخفا کی ضمانت دیتا ہے اس لئے حکومتی جماعت کی اس افشا کرنے کی استدعا کو سپریم نے قبول نہیں کیا۔

قومی اسمبلی سے سینیٹ کی عام نشست کا فیصلہ کم از کم میرے جیسے عام آدمی کے لئے ایک جھٹکا سے کم نہیں تھا۔ حکومتی امیدوار وہ بھی وزیر خزانہ ایک ایسے شخص کے سامنے شکست کھا گیا تھا جس کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے نہ صرف وزارت عظمیٰ کے عہدے سے برظرف کیا تھا بلکہ پانچ سال کے لئے کسی بھی حکومتی اور عوامی عہدے کے لئے نا اہل بھی رہ چکے تھے۔

عدالت سے سزا یافتہ اور نا اہل قرار دیے گئے یوسف رضا گیلانی کا حکومتی امیدوار کے مقابلے میں کامیابی کو مبصرین نے اہل سیاست کا ملکی عدالتی نظام پر عدم اعتماد سے بھی تعبیر کیا ہے۔ نظام عدل کے سیاسی عمل میں رخنہ اندازی کو بہت جلد ہی مسترد کر کے یوسف رضا گیلانی کو بری قرار دینے کو تاریخ کا فیصلہ بھی سمجھا گیا۔

سینیٹ میں حکومتی امیدوار کی شکست کے بعد وزیر اعظم نے از خود ہی قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا۔ اعتماد کا ووٹ دینے کے لئے خفیہ رائے شماری نہیں ہوتی اس لئے ارکان اسمبلی کو وزیر اعظم پر بہر صورت اعتماد کا اظہار تو کرنا ہوگا مگر عدم اعتماد کے سوالات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

ارکان اسمبلی کا وزیر اعظم پر اظہار اعتماد کے باوجود حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر اگلی بار انتخابات جیتنے کے لئے خود پر کتنا اعتماد ہے؟ کیا عوام کا بھی مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری کے اس دور دورہ میں اپنے منتخب ممبران اور ان کی حمایت یافتہ حکومت پر اعتماد برقراررہے؟

گزشتہ دو سالوں میں ملک کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگ پوچھنے لگے ہیں کہ کیا حکومت کے خیر خواہوں کا اعتماد اب بھی برقرار ہے؟ کیا ایک صفحے پر رہنے والے حکومت کی ناکام پالیسیوں کا بوجھ سہہ سکیں گے؟ حفیظ شیخ کی ناکامی کے کے بعد کیا آئی ایم ایف کا اعتماد حکومت پر برقرار رہے گا؟

دیکھنا یہ ہے اسمبلی سے روایتی اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد وزیر اعظم عمران خان عالمی مالیاتی اداروں، دوست ممالک، عالمی طاقتوں کے علاوہ اپنے ساتھ ایک صفحے پر رہنے والے خیر خواہوں اور سب سے بڑھ کر 22 کروڑ عوام کا اپنی حکومت اور اس کی کارکردگی پر اعتماد کیسے بحال کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 238 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

Leave a Reply