وزیراعظم اور ریس کا بدقسمت گھوڑا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلیں ڈسکہ میں جو ہوا اس کے بعد وزیراعظم کا سینیٹ میں حفیظ شیخ کے الیکشن پر نروس ہونا تو بنتا تھا، لیکن اب عدم اعتماد کے موقعے پر وہ اتنے ہی زیادہ نروس ہو گئے ہیں جتنا وہ بدقسمت گھوڑا تھا جو ریس میں اکیلا دوڑ کر بھی ہار جایا کرتا تھا۔ حالانکہ ہماری رائے میں تو انہیں گھبرانا نہیں چاہیے، ہمیں تو ان کی جیت پکی لگتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کا کوئی رکن اسمبلی میں نہیں جائے گا۔ یعنی ووٹنگ میں صرف وزیراعظم کی پارٹی کے لوگ اور حامی موجود ہوں گے۔ اگر پھر بھی پانچ دس ووٹ وزیراعظم کے خلاف پڑ گئے یا غیر حاضر ہو گئے تو غضب ہو جائے گا۔ وزیراعظم کے کل ووٹ 172 سے کم ہو جائیں گے یعنی عدم اعتماد ہی سمجھیں۔ اس کے بعد اپوزیشن کے لیڈر ان کے سامنے آئیں گے تو اپنی مونچھوں کو بل دے دے کر مسکراتے رہیں گے۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کے اپنے ارکان اسمبلی کو لکھے گئے ایک خط کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس میں کہا گیا ہے کہ تمام ارکان کو اعتماد کے ووٹ کے لیے حاضری یقینی بنانا ہو گی۔ عدم حاضری کی صورت میں رکن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت نا اہلی کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ آرٹیکل 63 کے مطابق وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے ووٹ، عدم اعتماد کے ووٹ یا مالی بل میں پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ نہ دینے یا غیر حاضری کی صورت میں پارٹی کا سربراہ اس رکن کو اظہار وجوہ کا موقع دینے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر اس کے نا اہل قرار دینے کا کہہ سکے گا۔

وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹنگ سینیٹروں کی طرح خفیہ نہیں ہوتی۔ پتہ چلتا ہے کہ کس رکن نے کسے ووٹ دیا۔ لیکن یہ سیاست دان بہت ہی شریر ہیں۔ ایسی سیاست کھیل جاتے ہیں کہ قانون خالی کھڑا لونکتا رہ جاتا ہے۔ کسی نے وزیراعظم کو بتا دیا ہو گا کہ دیکھیں ہمارے منحرفین آپ کو ووٹ دینے کی بجائے بیمار پڑ جائیں گے اور آپ نے وضاحت مانگی تو میڈیکل سرٹیفکیٹ دے دیں گے، یوں آپ کے 172 ووٹ پورے نہیں ہوں گے اور بہت بے عزتی ہو جائے گی۔

دوسری طرف معتبر ترین ادارے اے آر وائی نے بتایا ہے کہ ”وزیر اعظم عمران خان نے ارکان سے کہا جس کو مجھ پر اعتماد نہیں وہ کھل کر اظہار کرے، سیدھی بات کرتا ہوں ہمارے 16 ارکان نے پیسے لے کر خود کو بیچا، میں اگر آپ کی نظر میں غلط ہوں تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دیں۔“

غالباً اسی وجہ سے وزیراعظم نے اپنے ممبران کو یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر حفیظ شیخ کے خلاف ووٹ دینے والوں نے انہیں اعتماد کا ووٹ دیا تو وہ انہیں معاف کر دیں گے۔

لیکن کمال یہ ہے کہ یہ تو علم ہی نہیں کہ یہ سولہ کا ٹولہ کون ہے، پھر وزیراعظم نہ جانے کسے معاف کریں گے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری کہتے ہیں کہ علی زیدی نے اگر وزیراعظم کو کوئی نام دیے ہیں تو اس کا مجھے علم نہیں، ہمارے پاس ثبوت نہیں کہ کون سے لوگ ہیں جنھوں نے ووٹ کے پیسے لیے ہیں، نہیں پتا کہ مخالف امیدوار کو ووٹ دینے والے ہمارے 16 ارکان کون ہیں۔

ایسے نازک وقت میں وزیراعظم کے اتحادی بھی لچ تلنے سے باز نہیں آ رہے۔ وزیراعظم کو 172 ووٹ درکار ہوتے ہیں جبکہ حکومتی بینچوں پر تحریک انصاف کے اراکین کی تعداد محض 156 ہے۔ باقی 21 کا تعلق ان کی پانچ اتحادی پارٹیوں سے ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما موقع دیکھتے ہی پہاڑ پر چڑھ کر کہنے لگے کہ بطور اتحادی کیے گئے حکومتی وعدے پورے نہیں کیے گئے، اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا عہدہ لینے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ باقی بھی اپنی اپنی خواہشات لیے پہنچے ہوں گے۔ ان اتحادیوں کو تو آئین کی شق 63 سے ڈرانا بھی ممکن نہیں۔

اب وزیراعظم اس بدقسمت گھوڑے کی طرح کیوں نہ سوچیں جو اکیلا بھی ریس میں دوڑتا تھا تو ڈرتا تھا کہ ہار جائے گا۔ مناسب یہی ہے کہ کل ان کے حامی ڈی چوک پر جمع ہو جائیں۔ ویسے تو فتح کا جشن منائیں گے لیکن گھوڑا لڑ گیا تو احتیاطاً کنٹینر کا آرڈر بھی دے کر جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply