عورت مارچ: جیو اور جینے دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مارچ کے آٹھویں تاریخ کو ”خواتین کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے۔ اس دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں انسانی حقوق کے کارکن ہر مقام پر خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مظاہرے اور مطالبے کرتے ہیں۔

پہلے پہل تو یہ تصور مقبول نہیں تھا۔ 2018ء کے بعد یہ تحریک جو پہلے سے موجود تھی ، زور پکڑ گئی، اب اسے عورت مارچ کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ سماجی رابطوں کی ترقی اور نئی نسل میں ذہنی وسعت کی وجہ سے لوگ اس تحریک سے خوف محسوس کرنے لگے۔

دراصل یہ ایک سماجی تحریک خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کی جہدوجہد ہے۔ ایک خاتون کارکن نے نہایت ہی نفیس جملے میں اس تحریک کا مرکزی خیال بیان کیا ہے۔ بقول اس محترمہ کے ”ہماری لڑائی ہماری پہچان کی لڑائی ہے“ دراصل اس جملے کی تشریح کچھ یوں کی جاتی ہے کہ میری پہچان ہی میرا پہلا حق ہے۔ اگر کوئی مرد عورت مارچ سے متعلق کوئی رائے دینا چاہے تو سب کی توپوں کا رخ اس کی جانب مڑ جاتا ہے کہ آپ تو مرد ہے، بھلا آپ کا عورت مارچ سے کیا واسطہ؟

بعض جگہوں پر ہم جیسے اچھوت لوگوں کو عورت مارچ کی حمایت پر برے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم نے ہمیشہ پاکباز اور محترم لوگوں کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہیں اور انہیں یہ یقین دلانے میں ہر لمحہ صرف کیا ہے کہ روئے زمین پر برابری اور مساوات کا نظام قابل قبول ہے۔ پاک اور ناپاک اونچ ونیچ جیسے الفاظ کی ہمارے ہاں کوئی جگہ نہیں۔

بدقسمتی سے بہت سے لوگوں کو ”نسوانی تحریک“ یعنی فیمینزم لفظ سے نفرت ہے اور اس طرح کی سوچ رکھنے والے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ تصور اس لئے برا ہے کہ یہ مغرب سے آیا ہے اور ہم مشرق والوں کا اس سے کیا لینا دینا۔

مغرب کی سوچ اور نظریات کو قبول نہ کرنا اور بعد میں اعتراف کر لینا کہ ہم غلطی پر تھے، کوئی نئی بات نہیں۔ فیمنزم تو کسی بلا کا نام نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سیاسی، سماجی، معاشی اور ذاتی اعتبار سے عورتوں اور مردوں کا رشتہ برابری کا ہو تاکہ گھریلو تشدد، ریپ، جنسی ہراسانی اور تیزاب پھینکنے کے واقعات کم ہو جائیں یا بالکل ختم ہو جائیں۔

لباس کے انتخاب کا اختیار بھی عورتوں کے پاس ہونا چاہیے۔ اگر ایک لباس کسی خاتون کا انتخاب ہو تو وہ خودمختار ہے۔ لباس سے عورت کو کبھی بھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ لباس سے مسئلہ صرف اس محترم سوچ کو ہو سکتا ہے جن کا روزمرہ کا موضوع گفتگو خواتین سے متعلق ہو اور خواتین سے جڑی عجیب و غریب باتیں ان کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں۔

پاکستان میں بہت سے مارچ اور تحریکیں چلتی رہی ہیں، چاہے وہ سیاسی ہوں یا مذہبی تو پھر عورت مارچ پر بحث ہی کیوں؟ تحقیق و تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 12 فیصد خواتین جو کہ 4.9 ملین بنتی ہیں جن کی عمریں 18 سے لے کر 49 سال کے درمیان ہیں، ان  کے لیے چھوٹی عمر میں شادیاں، بہتر تعلیم و تربیت، ان کے صحت کے حوالے سے بہتر اقدامات اور ان کے لئے اچھے اور محفوظ ماحول میں نوکریاں بڑے چیلنجز ہیں۔ یہ وہی بنیادی چیزیں ہیں جس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن محترم لوگوں کو دو چار پوسٹرز نظر آتے ہیں جن سے ان کی غیرت جاگ جاتی ہے اور وہ اسے مغرب کی سازش قرار دے کر بنیادی مسائل سے آنکھیں چراتے ہیں۔

خواتین اس مارچ کے ذریعے ہر اس نظام سے آزادی چاہتی ہیں جس میں ان کے حقوق چھین لیے جاتے ہیں اور انہیں محکوم بنانے کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ آزاد انسان خود انتخاب کرتا ہے۔ وہ خوف اور لالچ کا شکار ہو کر اپنے فیصلے بدلنے پر مجبور نہیں ہوتا۔ اگر کوئی خاتون کسی مسئلے کا شکار ہے تو ضروری نہیں کہ برائی اور کمزوری اس خاتون کی ہے، ہمیں اس کے معاشرے کی حالت اور اس میں رونما ہونے والی برائیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

خواتین کی تحریک خواتین کی مرضی سے ہونی چاہیے ، وہ جس طریقے سے بہتر سمجھیں۔ عورتیں سجا کر رکھنے کی چیزیں نہیں بلکہ انہیں اپنی طرح کا انسان سمجھنا چاہیے۔ یہاں پر سعادت حسن منٹو کا وہ جملہ کیسے نظر انداز کریں کہ ”میرے شہر کے معززین کو میرے شہر کی طوائفوں سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا“ لہٰذا خود کی اصلاح کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ دوسروں کی کردار کشی کی جائے۔ یہ دنیا جینے کی جگہ ہے۔ جیو اور جینے دو کا راستہ اپنایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply