فنکار، فن اور پاگل پن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تخلیق: ڈاکٹر خالد سہیل
ترجمہ: ہما دلاور

”شاعر ایک آزردہ ہستی ہے جس کا دل پراسرار کرب سے زخمی ہے، مگر اس کے لبوں کی حیران کن بناوٹ ایسی ہے کہ جب ان میں سے آ ہیں اور چیخیں برآمد ہوتی ہیں، تو وہ دلکش موسیقی کی طرح سنائی دیتی ہیں۔“

Soren Kierkegaard

یہ خیال نیا نہیں ہے کہ تخلیقی صلاحیت اور جنون کا کوئی آپسی تال میل ہے، گو کہ دونوں عوامل اور ان کی حرکیات کے بارے میں ہماری سمجھ کے ساتھ ساتھ صدیوں سے اس خیال میں تغیر وقوع پذیر ہوتا رہا ہے۔ یونانیوں کے ہاں الوہی دیوانگی کا تصور ملتا ہے، جس سے مراد ان کا یہ عقیدہ تھا کہ دیوانگی صرف ذہنی بیماری ہی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذہنی کیفیت بھی ہے جس میں روحیں ان پر قابض ہو جاتی ہیں اور انہیں دیوتاؤں کا وجدان حاصل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے دیوتاؤں کو مختلف قسم کے وجدان کے مطابق مختلف نام بھی دے رکھے تھے جیسے مستقبل شناسی کے لیے اپالو، محبت کے لیے ایروس، گائیکی اور شاعری کے لیے متعدد فنون کی دیویاں۔ اس عمل کے لیے ان کے ہاں باقاعدہ ایک لفظ موجود تھاEnthusiasm جس سے انہوں نے Inspiring تخلیق کاروں کے لیے لفظ Enthusiast اخذ کیا جس کا مطلب ہے جس میں دیوتا بسا ہو۔

سقراط نے کہا تھا، ”اگر کوئی شخص جسے فن کی دیویوں کے جنون نے چھوا تک نہ ہو یہ گمان کر کے شاعری کی دہلیز پر وارد ہوتا ہے کہ محض اسلوب میں مہارت اسے اچھا شاعر بنا دے گی، نہ تووہ خود نہ اس کی ذی فہم دھنیں کبھی اوج کمال حاصل کرسکیں گی، بلکہ دیوتاؤں کی آشیر وار حاصل دیوانوں کی کارکردگی انہیں بری طرح گہن لگا دے گی۔“ ارسطو نے کہا تھا، ”ایسا کیوں ہے کہ وہ تمام افراد جو فلسفہ، شاعری اور فنون لطیفہ میں ممتاز حیثیت کے مالک ہیں مالیخولیا کا شکار ہیں؟“

صدیوں سے بیش بہا لکھاریوں، فنکاروں اور فلسفیوں کی تحریروں میں اس تصور کی عکاسی ہوتی ہے کہ تخلیقی صلاحیت اور دیوانگی ایک دوسرے سے نتھی ہیں۔ سترہویں صدی عیسوی میں رابرٹ برٹن یوں رقم طراز ہوئے، ”سب شاعر دیوانے ہیں۔“

کچھ فنکاروں نے یہاں تک مشاہدہ کیا کہ کچھ گھرانوں میں دیوانگی نسل در نسل چلتی ہے۔ اپنے ایک خط میں وان گوف یوں لکھتا ہے، ”دیوانگی کی جڑ خود سیرت میں مضمر ہے، مہلک انداز میں نسل در نسل کمزور تر ہوتے گھرانوں میں پوشیدہ ہے۔ نفسیاتی مسئلے کی جڑ یقینی طور پر وہیں ہے، اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔“

انیسویں صدی میں نفسیات اور ذہنی امراض کے ماہرین نے زیادہ سنجیدگی سے فنکاروں اور ذہنی مسائل کے شکار افراد کی گھرانوں کا مطالعہ شروع کیا۔ اطالوی ماہر ذہنی امراض سیزر لیمبروسا وہ پہلا سائنسدان تھا جس نے دماغی خلل اور تخلیقی صلاحیت کا تعلق بھانپا لیکن حتمی نتیجے تک پہنچنے میں وہ حد سے زیادہ ہی پرجوش ہو گیا۔ وہ یہ مان بیٹھا کہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال سبھی افراد دماغی خلل کا شکار ہوتے ہیں۔ اپنے مفروضے کو ثابت کرنے کے لیے اس نے شوپنہار، بیتھوون، دوستو وسکی اور ایسی کئی دوسری مثالیں دیں۔

لیکن کہیں بیسویں صدی عیسوی میں جا کے تحقیق کے طریقہ کار اتنے کثیف ہو پائے اور تخلیقی صلاحیت کے حامل اور ذہنی انتشار کے شکار افراد کے گھرانوں کا مطالعہ اس قدر وسیع ہو سکا کہ باوثوق اور معتبر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں جا کے کہیں سائنسدان یہ ثابت کر پائے کہ نہ صرف دیوانگی اور تخلیقی صلاحیت کچھ گھرانوں میں نسل در نسل چلتی ہے بلکہ یہ دونوں ایک ہی گھرانے میں بیک وقت پائی جا سکتی ہیں۔

شیزوفینیا اور Manic Depressive عارضوں کے شکار افراد، جن سے کل آبادی کا ایک فیصد متاثر ہوتے ہیں، کے گھرانوں کا مطالعہ یہ آشکار کرتا ہے کہ یہ دونوں عارضے مریض کے قریب ترین رشتوں ( والدین، بہن، بھائی اور اولاد) میں عام لوگوں کہیں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ کئی مقالے واضح انداز میں نشاندہی کرتے ہیں کہ ان دونوں طرح کے دماغی عارضے موروثی طور پر منتقل ہوتے ہیں اور ان بیماریوں میں لاحق افراد کے گھر والوں کو عام آبادی کی نسبت اس میں مبتلا ہونے کا کہیں زیادہ امکان ہوتا ہے۔

یورپ اور شمالی امریکہ میں کیے گئے کئی دیگر خانوادگی مطالعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد اور ان کے اقارب کو ذہنی عارضے میں لاحق ہونے کا خطرہ دیگر عام آبادی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور تخلیقی صلاحیت اور دیوانگی دونوں ہی موروثی طور پر گھرانوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ یہ بھی قابل نشاندہی ہے کہ تخلیقی صلاحیت کا اظہار بہت سی اشکال میں پایا گیا، یہ کسی خاص صنف سے منسلک نہیں ہے تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کچھ بھی ہو سکتے ہیں، وہ مصنف ہو سکتے ہیں، فنکار ہو سکتے ہیں، موسیقار ہو سکتے ہیں یا رقاص ہو سکتے ہیں۔

یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد نفسیاتی عارضوں کے شکار لوگوں میں کیا قدر مشترک ہے؟ یہ عمومی طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے کہ یہ دونوں گروہ اپنی غیر روایتی سوچ اور غیر رسمی طرز حیات کے ساتھ ایک عمومی رویے کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، دونوں گروہ ذہن کے لاشعور سے نپٹتے ہیں اور دونوں اپنے اردگرد کی دنیا کو بدل لیتے ہیں۔ امریکی سائیکاٹرسٹ آریٹی سلوانو کے بقول ان دونوں میں فرق کچھ یوں ہے، ”تخلیقی صلاحیتوں کا حامل اور ذہنی انتشار کا شکار دونوں ہی دنیا میں بدلاؤ چاہتے ہیں مگر ان دونوں کے یہ بدلاؤ بہت مختلف ہیں۔

تخلیقی صلاحیت کا مالک فرد حقیقت کو نکھارنے، سنوارنے کے لیے اس میں تغیر چاہتا ہے، پھر انسانی علم اور تجربے کو وسعت دینے کے لیے تبدیلی چاہتا ہے تا کہ اس سے افادیت، سمجھ بوجھ اور پیشگوئی کی صلاحیت میسر آ سکے یا وہ ایسا اس لئے چاہتا ہے کہ دنیا بھر میں اسے سمجھا جا سکے۔ اس کی بجائے ذہنی انتشار کا شکار فرد حقیقت کو اس انداز میں بدلنا چاہتا ہے کہ کہ وہ اس کے ذاتی طرز احساس اور اختباطی سوچ سے مطابقت رکھے اور وہ ایسا اس انداز سے کرتا ہے جس سے اس کا شعور بیدار نہ ہوا بلکہ اکثر یہ سختی سے انفرادیت پسند، بے ڈھنگا، نرالا، ناقابل ابلاغ اور حتی کہ خود اپنے اور دوسروں کے لئے باعث بربادی رہتا ہے۔ ”

ایک اہم سوال جس کا سامنا دماغی صحت کے ماہرین کو اپنی پریکٹس کے دوران ہوتا ہے یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیت کا حامل فرد جو کسی ذہنی واردات سے بھی گزر رہا ہے جیسے شیزوفینیا، ڈپریشن یا کسی اور قسم کی ذہنی بیماری، کا علاج کیسے کیا جائے؟ فنکار خود تخلیقی اظہار اور نفسیاتی رجعت (Psychotic regression) کے ادوار کے مابین تعلق کے بارے میں متعجب رہتے ہیں۔

تخلیقی صلاحیتوں کے مالک کچھ افراد جب جذباتی کرب اور ذہنی بیماری کا سامنا کرتے ہیں تو علاج کروانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں چاہے یہ ادویات کی صورت میں ہو یا نفسیاتی معالجے کی شکل میں یا دونوں کا مرکب ہو، تاکہ وہ اپنی علامات پر گرفت پا سکیں ؛جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ادویات ان کی تخلیقی صلاحیت میں مخل ہوں گی۔ ان کا ماننا ہے کہ تخلیقی صلاحیت اور دیوانگی ایک اجتماعی سودے کا حصہ ہیں ( ایک دوجے سے نتھی ہیں ) ۔ دونوں کو کھو دینے کی بجائے وہ دونوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایڈورڈ منچ جو اپنے ڈپریشن کے دوروں کی وجہ سے متعدد بار ہسپتال میں رہ چکے تھے، کہتے تھے، ”ایک دفعہ ایک جرمن نے مجھ سے کہا ’مگر تم اپنی بہت کٹھنائیوں سے جان چھڑا سکتے ہو۔‘ تو اس کا جواب میں نے یہ دیا کہ یہ میرے وجود اور میرے فن کا حصہ ہیں۔ یہ میرا ناقابل تفریق حصہ ہیں اور (انہیں الگ کرنے سے ) میرا فن تباہ ہو جائے گا۔ میں اپنے کرب اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہتا ہوں۔“

گزشتہ کچھ دہائیوں میں کئی ایک اقسام کی ادویات دریافت ہوئی ہیں جو دماغی امراض کی علامات پر قابو پانے میں بہت معاون ہیں۔ مانع نفسیاتی عوارض سے لے کے مانع افسردگی اور پھر ٹیگریٹول تک کی اقسام کی ادویات میسر ہیں جو Manic depressive عارضے کی علامات پر قابو پانے میں کافی موثر پائی گئی ہیں۔

1979 میں ڈاکٹر پولاٹن اور فیو لکھتے ہیں، ”تخلیقی صلاحیت کا حامل فرد جو اپنا بہترین کام خفیف خبط (Hypomanic Period) کے دور میں کرتا ہے، میں ٹیگریٹول کے مسلسل استعمال کے بارے میں یہ شکایت آتی ہے کہ یہ ایک بریک کی طرح اثر کرتی ہے۔ یہ مریض بتاتے ہیں کہ ٹیگریٹول تخلیقی عمل میں کچھ یوں رکاوٹ ڈالتی ہے کہ وہ اپنے آپ کے اظہار کے قابل نہیں رہتے، تحریک ماند پڑ جاتی ہے اور یہ کوئی ترغیب نہیں دیتی۔ یہ مریض یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب ڈپریس ہوتے ہیں تو ان کی علامات اس قدر حوصلہ شکن اور تکلیف دہ ہوتی ہیں کہ جیسے ہی ڈپریشن کی علامات غائب ہوتی ہیں وہ خوش مزاجی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ بعض فنکار ٹیگریٹول کے استعمال کے ذریعے حاصل ہونے والے اعتدال پسند موڈ کی بجائے جنوں دوری (جس میں موڈ کبھی ہشاش اور کبھی اداس ہوتا ہے ) کی اونچ نیچ کی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔“

لیکن جب اس اندیشے کو جانچا گیا اور تخلیقی صلاحیت کے حامل افراد کو ٹیگریٹول کے استعمال کے بعد تخلیقی اظہار کی کسوٹی پر پرکھا گیا تو ان میں سے اکثریت اس بات پر متفق نظر آئی کہ ان کی تخلیقی صلاحیت میں درحقیقت اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ادویات کے ذریعے ان کی علامات پر قابو پانے سے ان کی قوت ارتکاز بہتر ہوئی ہے۔ صرف چند ایک نے ادویات کا استعمال منفی ذہنی اثرات کی وجہ سے ترک کر دیا۔

فنکاروں کے حل طلب تضادات کے لیے نفسیاتی علاج کے کردار کو لے کے لکھاری اور نفسیاتی معالجین دونوں ہی ملے جلے تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک انتہا پر ورجینیا وولف جیسے لکھاری ہیں جو ’نفسیاتی علاج کو ذہن کا بلاتکار‘ سمجھتے ہیں اور دوسری جانب نفسیاتی معالجین ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تھیراپی (نفسیاتی علاج) کے ذریعے فنکار اپنی ذاتی اور تخلیقی زندگیوں میں افزودگی لا سکتے ہیں کیونکہ نفسیاتی معالج ان کی رکاوٹوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ Myron Marshall نے لکھا ہے، ”تخلیقی صلاحیتوں کے حامل کچھ فنکار اس لیے نفسیاتی علاج کی مدد لیتے ہیں کیونکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان رکاوٹوں پر گرفت حاصل کر سکیں جو ان کی صلاحیتوں کے آزادانہ استعمال میں مخل ہوتی ہیں۔“

کچھ نفسیاتی معالجین نفسیاتی علاج کو خود تخلیقی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں جو ناصرف مریضوں بلکہ نفسیاتی معالجین کی بالیدگی میں افزودگی کا موجب ہے۔ البرٹ روتھنبرگ اپنے مضمون ’تخلیقی صلاحیت اور نفسیاتی علاج‘ میں لکھتے ہیں، ”بالفاظ دیگر مریض اور نفسیاتی معالجین دونوں ہی تخلیقی عمل کی معاونت کی جانب رجحان رکھتے ہیں اس میں مشغول ہوتے ہیں، دونوں ہی مریض کی شخصیت کے مختلف پہلووں کی تخلیق پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں، اور دونوں ہی ایک باہمی تخلیقی عمل میں مشغول ہوتے ہیں جس میں مریض کی شخصیت، اوصاف اور وضع شامل ہوتی ہے۔

شخصیت کے اوصاف اور وضع کی تخلیق سے میری مراد آرٹس اور سائنس کے بمطابق اصل شعبوں میں تخلیقی صلاحیت سے براہ راست مشابہ کوئی چیز ہے۔ آخرالذکر شعبوں میں، تخلیق اور تخلیقی صلاحیت کی انتہائی معنی خیز تعریف کچھ ایسی پیداوار ہے جونو ساختہ بھی ہو اور گراں بہا بھی (Rothenberg and Hausman، 1976 ) ۔ نفسیاتی علاج میں بیش قیمت اور نو تراشیدہ دونوں ہی کی پیداوار ہوتی ہے۔ مریض بہترین شخصیت کے اوصاف اور وضع مرتب کرتا ہے۔ یہ (اوصاف اور وضع) مریض اور بڑے پیمانے پر سماج کے لئے بیش قیمت ہیں۔ ”

کئی ایک ماہرین کا ماننا ہے کہ انسانیت کے مستقبل کا انحصار تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کی بصیرت پر ہے چاہے وہ سائنسدان ہوں، فنکار ہوں، صوفی ہوں یا سماجی مصلح ہوں۔ جو انسانی ارتقاء کے اگلے زینے کی طرف ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی مصیبت جھیلنا پڑے تو وہ ہم سب کی خاطر سہ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے کارناموں کو عزیز جانیں، اور ان کا جشن منائیں۔ ”کے جیمیمسن“ یوں رقم طراز ہیں، ”پر تخیل فنکاروں نے اپنی ناؤ کو ہمیشہ ہوا کے مخالف ڈالا ہے اور انسانی غموں کا توڑ کرنے والے الفاظ، آوازوں اور نقوش کے ساتھ واپسی کی ہے۔ وہ اپنے حصے سے کہیں زیادہ ان غموں کی زد میں رہے ہیں، اس لیے وہ ہماری تحسین، ہمدردی اور درد مندانہ غور کے مستحق ہیں۔“

”فنون لطیفہ علاج ہی کی ایک شکل ہے۔ بعض اوقات مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو نہ کچھ لکھتے ہیں، نہ کوئی دھن ترتیب دیتے ہیں، نہ نقش نگاری کرتے ہیں کیوں کر انسانی فطرت میں مخفی جبلی پاگل پن، مالیخولیا اور دہشت سے فرار پاتے ہیں۔“ گراہم گرین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 414 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply