کیا ہم واقعی گٹر میں رہ رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ دنوں اپنے کیس میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ”لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں کسی گٹر میں رہ رہے ہیں۔“ اس دن سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی کی درخواستوں کی لائیو کوریج سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے منیر اے ملک کی بیماری کے باعث جسٹس قاضی فائز کو دلائل دینے کی اجازت دے دی تھی۔ اپنے دلائل کے آغاز میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت سے کہا کہ جہاں آپ کو محسوس ہو کہ میں حد پار کر رہا ہوں وہا‍ں مجھے روکا جائے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ججز کی ایک ذمہ داری صبر اور تحمل کرنا بھی ہے، اگر کچھ لوگ آپ کے خلاف ہیں تو آپ کے حامی بھی ہیں۔

جس کے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ موجودہ کیس اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے اور آزادی اظہار رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی سے مکالمہ کیا کہ اپنی درخواستوں میں اٹھائے گئے نکات پر دلائل دیں، دائیں بائیں بیٹھے ججز اتنی تفصیلات سن کر فوکس نہیں کر پا رہے لہٰذا بہتر ہو گا کہ براہ راست اصل مدعے پر آئیں۔ جس پر جسٹس قاضی فائز نے بھی دلائل دیتے ہوئے عدالت سے سوال کیا کہ عمران خان، عارف علوی اور وزرا ذاتی حیثیت میں گفتگو کر سکتے ہیں، تو میں بطور جج ذاتی حیثیت میں بھی گفتگو نہیں کر سکتا؟ عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ زیادہ چالاک نہ ہونے کی وجہ سے اپنا نکتہ سمجھا نہیں سکا، دو سال سے میرے خلاف حکومتی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، سپریم کورٹ کے جج اور اہلخانہ کے خلاف سرکاری چینل سے پروپیگنڈا کیا گیا، مسئلہ 10 لاکھ تنخواہ کا نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا ہے اور میں یہ جنگ اپنے ادارے کے لیے لڑ رہا ہوں۔

ہم جسٹس فائز عیسیٰ کی نیت پر شک کا سوچ بھی نہیں سکتے اور نہ ان کی ان باتوں میں کوئی جھوٹ کا شائبہ ہے لیکن کیا سچ اور لگی لپٹی بولنے کے لئے کسی اپنے ذاتی مسئلے یا انوالمنٹ کا انتظار کریں گے۔ یا پھر فوجی افسروں، سفرا، امرا اور افسر شاہی کے سبکدوشی کی راہ تکتے رہیں گے اور پھر وہ ہمیں رام کہانیاں لفظ بہ لفظ دہراتے رہیں گے اور خود کو معصوم باور کرواتے رہیں گے۔

اعلیٰ عہدوں پر فائز افسروں نے ہمیشہ اپنی سبکدوشی کے بعد یہ عمل دہرایا ہے اور خود کو عوامی کٹہرے میں اس طرح پیش کیا ہے جیسے ان سے ہٹ کر مفاہمت پسند اور جمہوری اقدار کا دلدادہ کوئی اور تھا ہی نہیں۔ لیکن جہاں تک جسٹس فائز عیسی ’کا تعلق ہے وہ اس لئے الگ فوٹنگ پر ہیں کہ وہ آن سروس مزاحمت کاروں کے صف میں شامل رہے ہیں، اور وہ اس خدشے کا اظہار بھی درست طور پر کر رہے ہیں کہ ان سے ان اقدامات یا مزاحمت کا بدلہ لیا جا ریا ہے۔

ایک وقت تھا کہ جب مشرف کے دور میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے متعدد ججز صاحبان پی سی او کا شکار ہوئے تو بلوچستان ہائی کورٹ میں کوئی حاضر سروس جج باقی نہیں رہا تو ایسے وقت میں فائز عیسی ایڈووکیٹ کو براہ راست ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا اور انہوں نے اپنی مدبرانہ سرکردگی میں بلوچستان ہائی کورٹ کو عزت بخشی۔ لیکن شاید بیٹسمین کریز پر کھیلنے کے بجائے باہر جاتی ہوئی گیندوں کو چھیڑنے یا اندر آتی ہوئی ڈیلیوریز کو بیٹ ان پیٹ کرنے کی وجہ سے فیلڈرز کی اپیلوں کی زد میں رہا اور رہ رہا ہے۔

لیکن سپریم کورٹ کے جج کے منہ سے سپریم کورٹ میں لارجر بنچ کے سامنے یہ نکلنا کہ لگتا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں کسی گٹر میں رہ رہے ہیں۔ ذی شعور لوگوں کے ذہنوں میں ایک علامتی سوال پیدا کرتا ہے۔ گٹر کی اصطلاح یا علامت منفرد ہے اس لیے کہ گٹر تب تعفن اور بدبو چھوڑتا ہے جب وہ ابلتا ہے لیکن پھر وہ صرف ابلتا نہیں، بہتا بھی ہے، کیچڑ بھی بناتا ہے، راستہ بھی خراب کرتا ہے اور بدبو بھی وہ چھوڑتا ہے اور یہ سب انسانی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply