عورت آدھی ادھوری نہیں، پوری انسان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ کا مہینہ موسم بہار کا مہینہ ان بہاروں کے مہینے مین اللہ کی تخلیق کی گئی سب سے خوبصورت مخلوق کا دن منایا جاتا ہے، وہ ہے عورت۔ وہ عورت جو برداشت کے کوہ گراں سے گزر کر نسل انسانی کو جنم دیتی ہے اور ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے یہی عورت صرف اتنا چاہتی ہے کہ اسے برابر کا انسان سمجھا جائے، اس سے صنفی امتیاز نہ برتا جائے یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی مارچ کے مہینے کی شروعات ہوتی ہے ہر طرف عورت کی ذات موضوع بحث بن جاتی ہے۔

دو طرح کے رویے نظر آتے ہیں کچھ وہ جو عورت کو مکمل محترم اور آزاد تصور کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف عورت کو نامکمل، محکوم اور کمتر سمجھنے کا رویہ۔ ہر طرح کی تحریر نظر آتی ہے، عورت کی مرضی پہ رکیک جملے بازی، عورت کو زرخرید لذت کی چیز سمجھنا، اسے انسان کا درجہ بھی نہ دینا یہ انتہا پسندوں کا رویہ ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنا ہے، اس شاہی نظریے کا خاتمہ ہی حل ہے اور یہیں سے عورت کی برابر کا انسان سمجھنے کی سوچ نے جنم لیا۔

عورت حقوق کی بات کرے تو فوراً یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ اسے گھر بیٹھے سب مل تو جاتا ہے۔ عورت کو زمانے سے ڈرانا، بیٹوں کے مقابلے پہ بیٹی کو نیچا دکھانا، ہر وقت یہ کہنا لڑکی ہو لڑکی بن کر رہو، پہننے اوڑھنے غرض کھانے پینے ہر چیز میں لڑکے کو اہمیت دینا، تعلیم کے میدان مین بھی لڑکیوں کو واجبی تعلیم اور لڑکوں کی تعلیم پر بے دریغ خرچ کرنا۔ ان سب رکاوٹوں کے باوجود عورت نے اپنی اہمیت ثابت کی ہے اور منوایا ہے لیکن باہر نکلنے والی عورت زمانے کی سفاکی اور بھوکی ننگی نگاہوں کا مقابلہ کیسے کرتی ہے یہ وہ بخوبی جانتی ہے اگر مزاحمت کرے تو فوراً طعنہ ملتا ہے گھر بیٹھو کیوں کمانے نکلیں، ڈرائیونگ کرتی عورت کیسے گندی نگاہوں اور فحش اشارے برداشت کرتی ہے۔

یہی رویہ ہے جس نے عورت کو سوچنے پر مجبور کیا کہ ایسی کیا کمی اس میں ہے جو وہ یہ سب نہیں کر سکتی، وہ سنتی ہے دیکھتی ہے، سمجھتی ہے اور بول سکتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی ذات میں کمی نہیں رکھی اسے بھی اشرف المخلوقات کا درجہ دیس تو پھر کیوں اسے ہر وقت کم عقل، ناچیز کم تر ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے یہیں سے اس سوچ نے جنم لیا کہ عورت کو اپنے بارے مین سوچنا ہے کہ وہ برابر کی انسان ہے۔ عورت کا سب سے پہلا مطالبہ بھی یہ ہے کہ اسے انسان سمجھا جائے، فاطمہ حسن نے کیا خوب کہا ہے

پوری نہ ادھوری ہوں، نہ کم تر نہ بر تر
انسان ہوں، انسان کے معیار پہ دیکھیں

قطع نظر ان سب باتوں کے اگر اپنے ملک میں دیکھیں تو عورت کو جائیداد میں جائز حصہ، پسند کی شادی، تعلیم کا حصول غرض کسی چیز کی آزادی نہیں سوائے چند فیصد کو چھوڑ کر، قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہیں، آج بھی پنچایت کے فیصلے میں عورت کو بطور سزا استعمال کیا جاتا ہے۔ پنچایت بھی غلیظ ترین فیصلہ دیتی ہے اور سزا میں عزت کے بدلے عزت لوٹنے کی سزا دی جاتی ہے نا کہ عزت لوٹنے والے کو سنگسار کیا جائے۔ کاری کر کے اپنا جرم چھپانا کتنا آسان ہے، قبائلی روایات میں عورت کو بولنے کا حق ہی نہیں۔

کھیتوں میں کام کرنے والیوں کی عزت کھیتوں میں ہی لوٹی جاتی ہے، بھٹے پر کام کرنے والیاں اپنی زندگی بھٹوں کی آگ کی نذر کرتی ہیں اور عزت بھٹہ مالکان کے پاس گروی رکھی ہوتی ہے، کس کس جگہ عورت کا استحصال نہیں ہوتا لیکن چند دھن کی پکی انہی تکالیف سے گزر کر منزل بھی پا لیتی ہیں۔ طعنوں اور ہوسناک نگاہیں ان کے ڈھکے جسموں کے کے آر پار ہوں وہ ہمت نہیں ہارتیں۔ ابھی حال ہی میں ایک بزرگ ایم این اے نے تیرہ سالہ بچی سے شادی کی کیا کسی نے اس پر چائلڈ میرج کا قانون یاد دلایا۔ سب سے بڑی خرابی ہی قانون کی عملداری نہیں ہے صرف قانون پاس کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

عورت کے عالمی دن پر اگر حکومت عورت کی تعلیم پر توجہ دے، عورت پر گھریلو تشدد کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے، چائلڈ میرج کے قانون پر عمل، بلکہ جتنے بھی قوانین عورت سے متعلق ہیں ان سب کو سختی سے نافذ کیا جائے، سزاؤں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ جائیداد میں حق تو تسلیم بہت کرتے ہین لیکن ادا کرنے ہر تیار نہیں وہ حق دیا جائے۔ ملازمت تعلیم غرض ہر جگہ عورت کی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے ساتھ برابر کے انسان کا سلوک کیا جائے، جب عورت کا ووٹ پورا ہے تو گواہی آدھی کیوں؟ عورت کو انسان سمجھو کوئی مطلق العنان بادشاہ نہیں جو عورت کو زر خرید غلام سمجھ کر اپنی مرضی ٹھونسو۔ عورت آدھی ادھوری انسان نہیں پوری انسان ہے، اب یہ شاہی رویہ ترک کرنا ہوگا یہی اس سال کے عورت مارچ کا مقصد ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply