افسانہ: چراغ
گلی کی نکڑ پہ کھڑے چراغ کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ جھکے کندھوں کے ساتھ وہ برسوں کا بیمار لگ رہا تھا۔ اس نے نگاہ اٹھا کر دو منزلہ عمارت کو دکھ سے دیکھا، جس کی تیسری منزل پر کام ہو رہا تھا۔ کبھی یہ عمارت اس کے لیے خوشی کا سبب تھی۔ لیکن آج اس کے چہرے پر اداسی، بے بسی اور لاچاری تھی۔ آج اسے اپنے کیے پر شرمندگی بھی تھی، اسے دکھ ہو رہا تھا کہ کاش اس نے وہ سب نہ کیا ہوتا۔ اگر اس کے ساتھ یہ سب ہی ہونا تھا تو پھر وہ کسی کا حق نہ مارتا، کاش وہ انصاف سے کام لیتا، کاش وہ خدا کی رحمت کی قدر کرتا۔
کاش وہ اسے پکارنے کے قابل ہوتا، کاش وہ اس سے معافی مانگ سکتا۔ لیکن معافی مانگے بھی تو کس منہ سے۔ کاش۔ اور اس کاش کے بعد اس کے پاس کچھ نہیں بچا تھا۔ ’کاش‘ بظاہر اک لفظ ہے، لیکن حقیقت میں ’کاش‘ اک پچھتاوا ہے۔ کاش کا لفظ سب ہی کچھ نگل جاتا ہے اور پیچھے دکھ اور غم چھوڑ جاتا ہے۔ وہ بھی اس کاش کے بعد لاچار تھا، اور اب اس کے پاس مالکوں کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اسے مالکوں کی مرضی سے چلنا تھا، اب وہی کرنا تھا جو مالک کہتے تھے۔ اور اس نے مالکوں کی مان لی تھی۔ دو بیٹوں اور پوتے پوتیوں سے بھرے گھر کے باوجود اسے اس عمارت کی سب سے اوپر والی منزل پر اکیلے رہنا تھا۔ کاش وہ بڑے مالک کی مان لیتا تو کم از کم آج اپنے ضمیر پہ بوجھ تو محسوس نہ کرتا۔
چراغ نے اپنے سخت کھردرے ہاتھوں میں گول مٹول پیارے سے دو بچوں کو اٹھا رکھا تھا۔ کتنی منتوں مرادوں کے بعد اسے یہ نعمت ملی تھی۔ اس کے ہاں پہلی اولاد رحمت تھی جسے اس نے ہمیشہ زحمت سمجھا۔ اس رحمت کی آمد پر کتنا برا منہ بنایا تھا اس نے۔ ارے ہمارے ہاں تو سات نسلوں میں پہلی اولاد بیٹا ہی ہوتا ہے ’شریکوں میں سر جھکانے کو کر دی نا بیٹی پیدا‘ وہ بیوی پر غصہ ہوتا۔ اور یہ غصہ بڑھتا گیا جب تین سال تک مزید کوئی اولاد نہ ہوئی۔
اسے اولاد میں اضافہ چاہیے تھا، ، اسے گھر کے چراغ کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے یہ گھر ہمیشہ روشن رہے۔ اسے اس گھر کے وارث کی ضرورت تھی۔ وہ پیروں فقیروں درگاہوں اور حکیموں کے چکر لگاتا رہتا۔ بیٹے کی پیدائش کی منتیں مانگتا، حکیموں کے نسخے اور بیوی کا صبر آزماتا۔ اس کی شادی کو اتنا عرصہ نہیں گزرا تھا جتنا وہ اولاد میں جلد اضافے کے لیے اتاولا تھا۔ آخر شادی کے چار سال بعد اس کو بیٹے کی خوشی نصیب ہوئی تھی۔ بیٹے اور وہ بھی ایک ساتھ دو، جڑواں بیٹے دیکھ کر چراغ تو جیسے خوشی سے پاگل ہو گیا تھا۔
پورے گاؤں میں مٹھائی بانٹی تھی اس نے۔ ، گاؤں کے میراثیوں کے تو بھاگ کھل گئے تھے۔ پورا مہینہ آ کر ڈھول بجاتے رہے اور چراغ سے بدہائیاں لیتے رہے تھے۔ آج اس کا سر شریکوں میں اونچا ہو گیا تھا اس کے وارث دنیا میں آئے تھے۔ اس کی نسل بڑھانے والے، یہ کوئی چھوٹی بات تو نہ تھی۔ چراغ کو لگتا اس کے گھر جڑواں بیٹے نہیں دنیا کی کوئی انہونی چیز آ گئی ہے۔ وہ بیٹوں کی پیدائش پہ اترایا پھرتا۔ چراغ کو بیٹوں کا باپ ہونے پر بڑا مان تھا۔ بیٹی تو۔ پرائی تھی، جسے کسی اور کے گھر جانا تھا۔ مان تو بیٹوں پہ ہوتا ہے جن سے نسل چلتی ہے جن سے نام چلتا ہے۔ بیٹی پہ کیا مان کرتا، اسے تو پیسے لگا کر اگلے گھر بھیجنا تھا، ہونہہ نرا خرچہ، صرف گھاٹے کا سودا۔ نفع تو بیٹوں نے دینا تھا کاروبار اور نسل بڑھا کر۔
چراغ کے بیٹوں نے جائیداد میں بٹوارہ چاہا تھا جو اس نے خوشی خوشی کر دیا۔ کہ اس کے بعد بھی تو سب کچھ اس کے بیٹوں ہی نے سنبھالنا تھا، تو پھر آج ہی کیوں نہیں۔ بیٹی کی شادی پہ بڑا خرچہ ہو گیا تھا، اب اس کو کسی چیز میں حصہ کیوں دیتا۔ اس نے سب کچھ بیٹوں کے نام کر دیا تھا، بیٹے ہی تو اس کے وارث تھے۔ لیکن چراغ کے بیٹوں نے ثابت کیا کہ وہ باپ کی جائیداد کے وارث ہیں باپ کے نہیں۔ انھیں باپ کی جائیداد چاہیے تھی، لیکن جائیداد بانٹنے والا باپ نہیں۔ بوڑھا باپ جائیداد تقسیم کرنے کے بعد ان کے کسی کام کا نہیں رہا تھا۔ کیونکہ وہ خالی ہاتھ تھا اور بیمار تھا۔ اس لیے وہ ایک بوجھ تھا اور بوجھ کو کوئی اپنے سر کتنی دیر اٹھائے اوربنا مطلب کے کیوں اٹھائے، اسی لیے آج دونوں بھائیوں نے فیصلہ سنا دیا تھا۔
بڑے بیٹے نے کہا تھا دیکھ ابا بچے بڑے ہو رہے ہیں ان کے اپنے مشغلے ہیں، پریشان ہوتے ہیں تیری ہر وقت کی دخل اندازی سے، تو خیال کیا کر ذرا۔ اور تیری ہر وقت کی کھانسی سے تیری بہو کے بھی سردرد رہنے لگی ہے۔ اب تو اوپر صابر کے پاس رہ، آخر اس کا بھی تو حق ہے کہ تجھے رکھے، میں نے اکیلے نے ساری زندگی تجھے سنبھالنے کا ٹھیکہ تو نہیں لے لیا نا۔ بس اب تو آج سے اوپر صابر کے پاس رہے گا۔ اور صابر کہنے لگا، میدا وچاری سارا دن بچوں کے ساتھ ہلکان ہو جاتی ہے اور پھر جوڑوں کا درد بھی رہتا ہے اسے، وہ کیسے رکھ سکتی ہے ابا تیرا خیال۔
اور دیکھ ابا تیری کھانسی سے اگر بچے بیمار ہو گئے تو تکلیف تو پھر تجھے ہی ہوگی کہ آخر خون ہیں تیرا، جانتا تو ہے تو کتنے نازک مزاج ہیں میرے بچے۔ نہ ابا تو پا بابر کے پاس ہی رہ۔ وڈا ہے وہ، اس کا زیادہ حق ہے تجھ پر۔ اور اس کے حصے میں کمرے بھی تو زیادہ ہیں، مجھ سے جتنا ہوا میں کر دوں گا۔ دونوں بھائی پہلے باپ کی جائیداد کے لیے جھگڑے تھے کہ انھیں چاہیے، اور اب باپ کے لیے جھگڑ رہے تھے کہ یہ انھیں نہیں چاہیے۔
دونوں بھائیوں نے باپ کو رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی باتیں سن کر چراغ کی آنکھوں کے چراغ بچھ رہے تھے۔ چراغ نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔ تم دونوں مجھے رکھنے کو تیار نہیں تو بتاؤ میں کہاں جاؤں گا اس عمر میں۔ جن بیٹوں کو اس نے منتوں مرادوں سے مانگا تھا آج انھی کی منتیں کر رہا تھا کہ مجھے اپنے پاس رہنے دو۔ آخر فیصلہ چراغ کے حق میں ہو گیا تھا۔ بیٹوں نے دل بڑا کیا تھا۔ گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ دیکھ ابا تجھے تیسری منزل پر کمرہ ڈال دیتے ہیں۔
ہم دونوں بھائی اپنی اپنی باری پہ تجھے روٹی پہنچا دیا کریں گے، تو فکر نہ کر، اپنی ساری ذمہ داری نبھائیں گے، لیکن ایک شرط ہے کہ پھر تو نیچے نہیں آیا کرے گا، بچے تنگ ہوتے ہیں۔ اور اگر تو نیچے آیا تو پھر ہم سے گلہ نہ کرنا کہ تجھے رکھا نہیں، فیصلہ تو خود کر لے کہ کیا کرنا ہے۔ چراغ کا دل کانپ اٹھا تھا، بیٹوں کا باپ ہونے کا غرور دم توڑ گیا تھا۔ اس نے غنیمت جانا کہ اسے گھر میں رکھ لیا گیا ہے۔ اس نے بیٹوں کی شرط مان لی تھی، وہ نیچے نہیں آتا تھا۔ گھر میں رکھی کل وقتی ملازمہ اوپر کمرے میں کھانا پہنچا آتی۔ باپ اور بھائی کے سخت روئیے کی وجہ سے بیٹی ویسے ہی سالوں بعد آتی اور ماں کے مرنے کے بعد یہ کبھی کا آنا بھی ختم ہو چکا تھا۔
چراغ اوپر چھت پہ چارپائی پہ پڑا کھانستا رہتا۔ اس کا ساتھ دینے کو کمرے کی دیواریں تھیں۔ جنھیں وہ بے بسی سے دیکھتا تو کبھی دل کا بوجھ اتارنے کو ان سے سرگوشیاں کر لیتا۔ یہ دیواریں اس کے دکھ درد کی گواہ تھیں۔ چراغ۔ رات کو دھاڑیں مار مار کر رویا تھا، اپنے جسم کی ساری توانائی لگا کر زور زور سے چلایا تھا، لیکن کسی نے اس کی آواز نہیں سنی تھی۔ اور پھر اس کی آواز بند ہو گئی تھی، شاید وہ تھک کر سو گیا تھا۔
رات سخت سردی تھی، چراغ سردی سے ٹھٹھر رہا تھا، لحاف سردی کی شدت کو کم کرنے میں ناکام ہو رہا تھا۔ اس نے ہمت کی اور اٹھ کر کوئلوں کی انگیٹھی جلائی۔ لیکن کمرہ گرم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ اس نے کوئلے کی انگیٹھی چارپائی کے نیچے رکھ لی۔ کوئلوں کی تپش سے اس کا بستر گرم ہو رہا تھا، آہستہ آہستہ اس کے ٹھنڈے بدن کو حرارت ملی تھی۔ اور اسی حرارت نے اس کو گہری نیند میں بھیج دیا تھا۔ صبح ملازمہ ناشتہ دینے آئی تو دیکھا، نائیلون سے بنی چارپائی کوئلوں کی تپش سے اکٹھی ہو کر ٹوٹ چکی تھی اور چراغ اپنے لحاف سمیت اس پہ کوئلوں کے ساتھ جل رہا تھا۔


