سیاسی سرگرمیوں کا محور پنجاب، اپوزیشن کے اگلے اہداف کیا ہیں؟

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اسلام آباد سے حزب اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے تین دن کے اندر ہی وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کر لیا۔ اپوزیشن نے اس کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور اس وقت اپوزیشن رہنماؤں کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے اگلے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پنجاب کے مرکز لاہور میں ڈیرے ڈال دیے۔ انھوں نے نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کے ہمرا اہم ملاقاتیں بھی کیں۔
جن اہم سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی گئی ہیں ان میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہیٰ، چوہدری شجاعت حسین اور پنجاب کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز سے شامل ہیں، جنھیں حالیہ دنوں میں نیب مقدمات میں جیل سے رہائی ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جیت کر بھی ہار جانے کا خوف، آخر کیوں؟
عمران خان: ’الیکشن کمیشن ملک کی ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لے‘
’اپوزیشن کے دن لمبے ہوتے ہیں خان صاحب، اور اقتدار کے دن تھوڑے‘
اس وقت سب سے اہم سیاسی سرگرمی نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہے۔ حکومت نے 12 مارچ کو ہونے والے اس انتخاب کے لیے تین سال سے چیئرمین سینیٹ رہنے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے صادق سنجرانی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دینے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کو اکثریت حاصل ہے مگر یہ انتخابات اس قدر دلچسپ ہوتے ہیں کہ یہاں اکثریت رکھنے کے باوجود شکست بھی مقدر بن جاتی ہے۔ شاید اس کی بڑی وجہ سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کا طریقہ ہے۔
تاہم اس وقت یوسف رضا گیلانی کو نہ صرف اپوزیشن کا مکمل اعتماد حاصل ہے بلکہ ان کی جیت پر اپوزشین کی تمام جماعتیں جشن بھی مناتی نظر آ رہی ہیں۔
اپوزیشن کا اگلا ہدف کیا ہو سکتا ہے؟
اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آخر اپوزیشن کا اگلا ہدف کیا ہو سکتا ہے اور وہ حکومت کو کہاں اور کس طرح کا اپ سیٹ دینا چاہتی ہے؟
بلاول بھٹو وزیر اعظم کی طرف سے اعتماد کے ووٹ کو مسترد کرتے ہوئے پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ فیصلہ اپوزیشن نے کرنا ہے کہ عمران خان کب تک کرسی پر رہیں گے، قومی اسمبلی کے سپیکر کب تک اپنی کرسی پر براجمان رہیں گے اور یہ حکومت کب تک چلے گی اس کا فیصلہ حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے کرنا ہے۔
سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب وہ ہر جگہ حکومت پر ضرب لگانے کی کوشش کرے گی۔ ان کے مطابق اس کامیابی کے بعد اب آئندہ کے لائحہ عمل پر اپوزیشن جماعتوں میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔
ان کے مطابق اپوزیشن ایک جانب اپنا حمایت یافتہ چیئرمین سینیٹ لانے کی کوشش کرے گی تو دوسری طرف پنجاب میں تبدیلی بھی اس کے ایجنڈے پر شامل ہو گی۔
اتوار کو ہی مسلم لیگ ن نے اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا، جس کے بعد مریم نواز نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں لانگ مارچ سمیت دیگر امور پر بات ہوئی ہے۔
اس سے قبل مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ اسمبلی اراکین اگلے انتخابات کے لیے ن لیگ کے ٹکٹ کے بدلے اپوزیشن کی حمایت پر آمادہ ہوئے ہیں۔
کیا پنجاب میں تبدیلی ممکن ہے؟
سیاسی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی عارف نظامی نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی کمزوری اپوزیشن کے لیے سب سے بڑا فائدہ ثابت ہو رہی ہے۔ لیکن ان کے خیال میں فوج اس وقت عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے تو ایسی صورت میں اپوزیشن کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی۔
سہیل وڑائچ کے خیال میں اب حکومت کے لیے ایک مشکل سفر نظر آ رہا ہے۔ ان کے مطابق جب ایک بار شگاف پڑ جائے تو پھر بار بار اس پر وہیں وار کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق اپوزیشن اب اس بات پر متحد نظر آتی ہے کہ ہر محاذ پر حکومت کو ’ٹف ٹائم‘ دیا جائے۔ ان کے مطابق اپوزیشن اس مقصد کے لیے لانگ مارچ کے آپشن کی طرف بھی ضرور جائے گی۔
عارف نظامی کے خیال میں پنجاب جہاں بظاہر آسان لگ رہا ہے وہیں اب یہ اپوزیشن کے لیے اس وجہ سے بھی مشکل میدان ثابت ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ اب عمران خان کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں ق لیگ سمیت تمام اتحادی بھی عمران خان کی ہی حمایت کریں گے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ یہ تو اب ظاہر ہے کہ پنجاب میں تبدیلی ہونی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ جو نیا امیدوار ہو گا وہ عمران خان کی مرضی کا ہو گا یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ بھی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہیں۔
ان کے مطابق پنجاب میں اگلا الیکشن مسلیم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان ہونا ہے تو پھر مریم نواز کی اس بات میں وزن نظر آتا ہے کہ کچھ حکومتی اراکین ضرور ان سے رابطے میں ہوں گے۔
عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا اگلا ہدف وزیر اعظم پر عدم اعتماد کو یقینی بنانا ہو گا، جس کے لیے انھوں نے تیاریاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔ ان کے مطابق سارے منظر نامے میں اب پاکستان پیپلز پارٹی بھی ایک نئے عنصر کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
’اس وقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے مگر پھر بھی معاملات گھمبیر ہیں۔‘


