ست رنگے پرندے کے تعاقب میں


کہانی کار:رشید امجد۔ انتخاب و تجزیہ:احمد اعجاز

ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ہی خیال آیا کہ پچھلے ٹیرس پر پڑی چارپائی کو بنوانا چاہیے۔ محلے والے گھر سے اس نئے گھر میں منتقل ہوتے ہوئے اپنا بہت سا پرانا سامان وہیں بانٹ بونٹ آئے تھے، بس یہ ایک چارپائی کسی طرح ساتھ آ گئی۔ کچھ عرصہ پچھلے ٹیرس پر دھوپ میں بیٹھنے کے کام آئی، پھر زندگی کی مصروفیات بڑھیں تو دھوپ میں بیٹھنا بھی کبھی کبھار ہو گیا۔ چارپائی نواڑ کی بنی ہوئی تھی، بارشوں اور دھوپوں میں نواڑ گل گئی۔ جگہ جگہ سے گل کر نواڑ کی پٹیاں لٹکنے لگیں، ایک دن اس کے بڑے بیٹے نے نواڑ کھول کر چارپائی کو دیوارے کے ساتھ کھڑا کر دیا، پھر برسوں وہ اسی طرح پڑی رہی۔

کبھی کبھی کوئی پچھلے ٹیرس کی طرف جاتا تو خیال آتا کہ اب کوئی پرانی چیزیں لینے آیا تو اسے بیچ دیں گے، پھر بات بھول بھال جاتی، کسی کو خیال نہ آتا کہ اسے بنوالیا جائے۔ اس کا کوئی استعمال ہی نہ تھا۔ ہر کمرے میں نئی طرز کے بیڈ تھے اور چارپائی رکھنے کی کہیں جگہ بھی نہ تھی، لیکن اس صبح ناشتہ کرتے ہوئے اسے خیال آیا کہ چارپائی بنوالینی چاہیے، سردیاں آ رہی ہیں۔ دھوپ میں بیٹھنے کے کام آئے گی۔ زیادہ نہ سہی چھٹی والے دن تو بیٹھ ہی سکتے ہیں۔

دھوپ میں بیٹھ کر کھانا کھانے کا کتنا مزہ ہے۔ پرانے گھر میں وہ اکثر چھت پر ہی کھانا کھاتے۔ سردیوں میں تو یہ معمول تھا، لیکن اب تو ڈائنگ روم تھا۔ میز کرسیاں تھیں مگر دھوپ میں چارپائی پر بیٹھ کر کھانے کا مزہ ہی اور ہے۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا لیکن بیوی سے ذکر نہیں کیا۔ وہ حسب معمول پیچھے پڑ جاتی کہ اس بلاوجہ خرچے کی کیا ضرورت ہے۔ گھر میں خرچے اور بلا ضرورت اور ضرورت کا ذکر تو چلتا ہی رہتا تھا۔ بس گزارہ چل رہا تھا۔

وہ کہتا۔ یہی کیا کم ہے کہ عزت سے گزر ہو رہی ہے۔ لیکن بیوی کو ابھی کئی چیزیں بنوانی تھیں، کہیں پردے بدلوانا تھے، کہیں بیڈ شیٹیں لانا تھیں، پھر بچوں کے آئے دن کے تقاضے یہ وہ، یہ وہ۔ اس پرانی چارپائی کو بنوانا کسی حساب میں نہ آتا تھا، پورے گھر میں کوئی بھی اس کی تائید نہ کرتا اس لیے اس نے سوچا کہ جب تک سامان نہ آ جائے اور بننے والا نہ آ جائے کسی سے اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ پرانے محلے میں تو چارپائی بننے والے دوسرے تیسرے دن گلی میں آواز لگاتے گزرتے تھے، لیکن ان نئی آبادیوں میں چارپائی کہاں تھی کہ بننے والے ادھر کا رخ کرتے، اس کے لیے شہر جانا پڑتا تھا، اس نے سوچا دفتر سے فارغ ہو کر شہر کا چکر لگا آئے اور کسی بننے والے کو ساتھ لے آئے گا۔

دفتر سے نکل کر وہ پرانے شہر کی طرف آ گیا۔ اب نواڑ کا تو زمانہ نہیں رہا۔ پلاسٹک کی رنگ برنگی رسیوں سے بنی چارپائی بہت اچھی لگتی ہے۔ اس طرح کی کئی دکانیں سیڑھیوں والے پل کے پاس تھیں۔ وہاں پہنچا تو دکانوں کے باہر رنگ برنگی رسیوں سے بنی چارپائیاں اسے بڑی ہی بھلی لگیں۔ پہلی ہی دکان سے کورا جواب مل گیا۔ دکاندار نے کہا۔ ”رسی تو مل جائے گی لیکن بننے والا نہیں۔“

اس نے کہا۔ ”میں بننے والے کو ساتھ لے جاؤں گا اور گاڑی میں واپس چھوڑ جاؤں گا۔“

دکاندار نے نفی میں سر ہلایا۔ ”اب یہ کام کرنے والے کم ہیں۔ یہ چند لوگ بمشکل دکانوں کی ڈیمانڈ ہی پوری کرپاتے ہیں۔ آپ کو بننے والا مشکل ہی سے ملے گا۔“

دوسری تیسری اور چوتھی دکان سے بھی یہی جواب ملا۔ وہ کچھ مایوس سا ہو گیا اس کے ذہن میں ٹیرس پر پڑی رنگ برنگی چارپائی کا تصور دھندلا سا گیا۔ ”تو کوئی صورت نہیں۔“ اس نے آخری دکاندار سے پوچھا۔

”شاید بنی والے چوک میں کوئی مل جائے۔ میرا خیال ہے مل جائے گا، وہاں بڑی مارکیٹ ہے۔“ دکاندار نے کہا۔

اس رش والے وقت میں شہر کے اس حصے میں جانا آسان کام نہیں تھا، لیکن وہ چل پڑا۔ تنگ بازاروں سے چیونٹی کی طرح رینگتی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اسے عجب طرح کا سرور آیا۔ زندگی تو یہیں ہے۔ اس نے سوچا۔ لبالب بھری ہوئی۔

اسے خیال آیا کہ چند برس پہلے جب وہ بھی اندرون شہر رہتا تھا تو اس کی زندگی بھی اسی طرح لبالب بھری ہوئی تھی، ہر وقت ایک ہنگامہ، ایک شور، ڈھیر سارے لوگوں کے درمیاں، اپنائیت کے گرم لمس کے ساتھ اور اب اس نئی آبادی میں سکون ہی سکون تھا خاموشی، اپنے کام سے کام۔ معیار بڑھ گیا تھا لیکن جیسے زمین سے نکل کر گملے میں آ گئے تھے، لیکن یہ تو صرف اس کا احساس تھا۔ بیوی بچے تو خوش تھے کبھی اندرون شہر کا ذکر آتا تو ان کی بھنوئیں سکڑ جاتیں، مگر وہ کبھی کبھار کسی نہ کسی بہانے ادھر نکل ہی آتا۔ اس وقت بھی بھوک کی شدت کے باوجود اسے رینگ رینگ کر چلنے میں مزہ آ رہا تھا۔

ادھر والی مارکیٹ بڑی تھی، اس نے گاڑی مشکل سے ایک جگہ کھڑی کی۔
پہلی دو تین دکانوں سے وہی مایوسی جواب ملا۔ ”چارپائی یہاں لے آئیں۔“

یہ تو ممکن نہیں۔ اس نے سوچا۔ ایک طرف سے ہی سوزکی والا دو سو سے کم نہیں لے گا۔ چار سو تو کرایہ ہی ہو گیا۔

اس کا دل بیٹھ سا گیا۔ تو چارپائی نہیں بنی جا سکتی۔

پچھلے ٹیرس پر چہچہاتا پرندہ چشم زون میں اڑ گیا۔ وہی اداس ٹیرس اور کونے میں دیوار سے لگا چارپائی کا فریم۔

”تو واپس چلوں“ اس نے اپنے آپ سے کہا۔ ”خوا مخواہ بھوک بھی کاٹی۔“
”جناب اندر آئیں نا، میرے پاس بڑی ورائٹی ہے۔“ وہ جس دکان کے باہر کھڑا تھا، اس کے اندر سے آواز آئی۔
وہ اندر چلا گیا۔ دکاندار بڑا خوش اخلاق تھا۔ کہنے لگا۔ ”پسند کریں نا میرے ریٹ بڑے مناسب ہیں۔“
”مجھے خریدنا نہیں۔“ وہ جھجکتے ہوئے بولا۔ ”چارپائی بنوانا ہے۔“
”بنوانی ہے۔ کہاں؟“

ہے تو ذرا دور پر میں بندے کو ساتھ لے جاؤں گا اور واپس چھوڑ دوں گا۔ ”پھر جلدی سے بولا۔“ سارا سامان تو آپ سے لینا ہے بس بندہ۔ ”

دکاندار نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر بولا۔ ”بندہ تو آج کل مشکل ہی ملتا ہے، لیکن آپ ذرا بیٹھیں میں پتہ کرتا ہوں۔“

رنگ برنگا پرندہ آسمان کی وسعتوں سے چکرا کر پھر پچھلے ٹیرس پر آبیٹھا۔ دکاندار اسے بٹھا کر باہر نکل گیا۔ اس کے آنے تک وہ امید و نا امیدی کے بھنور میں ابھرتا ڈوبتا رہا۔

”بندہ تو اس وقت موجود نہیں، ہاں صبح مل جائے گا، لیکن آپ کو صبح چھ بجے آ کر اسے لے جانا ہوگا، ورنہ اس نے کسی کا کام شروع کر دیا تو۔“ دکاندار نے ایک ہی سانس میں کہا۔

”میں آ جاؤں گا۔ آ جاؤں گا۔“ وہ جلدی سے بولا۔ ”صبح تو اتوار ہے چھٹی ہے۔ میں چھ بجے آ جاؤں گا۔“
دکاندار نے کہا۔ ”تو سامان آپ ابھی لے جائیں۔ دکان تو صبح دیر سے کھلے گی لیکن بندہ یہاں موجود ہوگا۔“

رسیوں کے گچھے گاڑی میں رکھتے ہوئے اسے خیال آیا اگر صبح بندہ نہ ملا تو یہ ساڑھے چار سو روپے تو ضائع ہو جائیں گے، اس نے دکاندار سے کہا۔ ”دیکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ صبح۔“

دکاندار نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”بندہ موجود ہوگا جی، لیکن چھ بجے کے بعد کی ذمہ داری نہیں۔“
پورچ میں گاڑی کھڑے کرتے ہوئے بیوی کی نظر پچھلی سیٹ پر پڑی گچھیوں کی طرف گئی۔
”یہ کیا ہے“ ؟

وہ گڑ بڑا گیا۔ کم از کم کھانا تو کھالیتا، پھر آرام سے موقع دیکھ کر بات کرتا، لیکن گیٹ کھولنے بیوی خود نکل آئی تھی۔

”یہ۔“ اس نے تھوک سے حلق ترکیا۔ ”یہ۔ میں نے سوچا وہ اوپر۔ وہ اوپر ٹیرس پر، پچھلے ٹیرس پر چارپائی پڑی ہے نا، اسے بنوالیا جائے۔“

کیا۔ ”وہ چیختی ہوئی آواز میں بولی۔“ وہ پرانی چارپائی، کس لیے۔ اور یہ سامان کتنے کا آیا ہے؟ ”
”بس زیادہ نہیں۔“ وہ ہکلاتے ہوئے بولا۔ ”زیادہ نہیں۔ تین چار سو کا۔“
”تین چار سو کا۔“ وہ پھر چیخی۔
”ساڑھے چار سوکا۔“ اس کے منہ سے گھبراہٹ میں نکل گیا۔
”ساڑھے چار سو۔“ اس کی چیخ اور بلند ہو گئی۔ ”اور بنوائی۔“
”دو سو۔ دو سو۔“

اس کی بیوی نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ ”تمھاری عقل تو کام کرتی ہے نا۔ ساڑھے چار سو ایک بیکار چارپائی کے لیے۔“

وہ اندر بھاگ گیا۔

”ہم یہاں بھوکے مر رہے ہیں اور یہ صاحب بہادر یہ رسیاں خریدتے پھر رہے ہیں، میں پریشان ہو رہی تھی کہ اب تک کیوں نہیں آئے اور یہ۔“

اس نے کچھ کہنا چاہا۔
”بس بس۔“ وہ غصے سے بولی۔ ”مجھ سے اب بات بھی نہ کرنا۔“
کھانا کھاتے ہوئے اس نے آہستہ سے کہا۔ ”دیکھو میری بات تو سنو۔“

”کیا سنوں۔“ اس کا غصہ اترنے ہی میں نہ آتا تھا۔ ”تمہاری کوئی ترجیح ہی نہیں، میں کہتی ہوں ہم نے اس چارپائی کا کرنا کیا ہے؟“

”سردیاں آ رہی ہیں، دھوپ میں بیٹھنے۔“

”کون بیٹھتا ہے دھوپ میں، وقت ہی کہاں ہوتا ہے؟“ اس نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”میں پوچھتی ہوں ہم نے کرنا کیا ہے اس چارپائی کا رکھنے کی جگہ نہیں۔“

”میرا کیلکولیٹر گم ہو گیا ہے، اسے لینے کے لیے تو پیسے نہیں اور ساڑھے چار سو چارپائی پر خرچ کردیے ہیں۔“ بڑے بیٹے نے ناگواری سے کہا۔

”تم لوگ چپ رہو۔“ اس نے ڈانٹا۔

”چپ کیوں رہیں؟“ بیوی کا غصہ اور بڑھ گیا۔ ”گھر کے لیے تو تمھارے پاس پیسے نہیں ہوتے اور فضول کاموں کے لیے۔ میں کہتی ہوں سامانں واپس کردو۔“

”یہ نہیں ہو سکتا“ اس نے آہستہ سے کہا۔

”کیوں نہیں ہو سکتا؟ دکاندار سے کہو کم پیسے دے دے۔ تم نہیں کر سکتے تو میں ساتھ چلتی ہوں۔ میں بات کرلوں گی۔“

”نہیں۔ نہیں۔“

”تو ٹھیک ہے اب مجھ سے بات نہ کرنا۔“ وہ اٹھ کر چلی گئی۔ دونوں بیٹے بھی اس کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔ وہ وہیں اکیلا بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔

کچھ غلط ہی ہو گیا ہے۔ اس نے سوچا۔ واقعی کیا ضرورت تھی۔

ابھی تو پورا مہینہ پڑا ہے، خوامخواہ چھ ساتھ سو روپے۔ پانچ سو کا کیلکولیٹر ہی لے دیتا بیٹے کو۔ روز کہتا ہے، پر اب کیا ہو سکتا ہے رسی کی گچھیاں بھی واپس نہیں ہو سکتیں اور صبح۔

اس نے ناگواری سے سرہلایا۔ چھے بجے۔ چھٹی والے دن ایک ہی تو لطف ہوتا ہے کہ دیر سے اٹھنا اور چھ بجے وہاں پہنچنا ہے، اس کا مطلب ہے پانچ بجے اٹھنا پڑے گا۔ واقعی غلط ہو گیا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو کوسا۔ یہ کوئی نئی بات بھی نہیں تھی، اس کے اکثر کام اسی طرح کے ہوتے تھے۔ پہلے کرلینا پھر پچھتانا۔ یہ پچھتاوا تو میرا مقدر ہے۔

شام تک ماحول کشیدہ رہا۔ شام کو چائے دیتے ہوئے بیوی نے کہا۔ ”میں نے تم سے بات تو نہیں کرنا تھی لیکن پھر کہتی ہوں یہ سامان واپس کردو، تم ہمیشہ بعد میں پچھتاتے ہو، میری بات مان لو۔“

اس نے کہا۔ ”اب یہ ممکن نہیں، وہ واپس نہیں کرے گا۔“
”میں بات کروں گی، تم خود سوچو ہم نے اس چارپائی کا کرنا کیا ہے؟“
اس نے نفی میں سر ہلایا۔ ”مجھے پتہ ہے نا وہ واپسی نہیں کرے گا۔“
بیوی پیر پٹختی کچن میں چلی گئی۔

رات کو کھانے پر بھی یہی صورت رہی۔ بیٹے منہ پھلائے الگ بیٹھے رہے بیوی نے بھی کوئی بات نہ کی۔ اس سے نہ رہا گیا، بولا۔ ”چلو غلطی ہو گئی، اب کیا ہو سکتا ہے؟“

”یہ آپ کا پرانا جواب ہے۔“ بڑے بیٹے نے کہا۔

”ہر بار غلطی۔“ بیوی کی آواز میں تلخی آ گئی۔ ”کب تمہیں عقل آئے گی میں پوچھتی ہوں تمہیں چارپائی کیسے گھس گئی دماغ میں، میں کئی دن سے کہہ رہی ہوں کہ کچن کا ایگزاسٹ فین بدلوا دیں، صحیح کام نہیں کر رہا، اس کے لیے پیسے نہیں اور یہ چارپائی۔“

وہ کچھ نہ بولا۔ بولتا بھی کیا، اپنے طور پر احساس ہو رہا تھا کہ بلاوجہ پیسے ضائع کردیے، چارپائی نہ بھی بنتی تو کیا فرق پڑتا۔ گھر کی اور کئی ضرورتیں توجہ چاہتی تھیں، لیکن بات وہی تھی کہ اب کیا ہو سکتا تھا ایک بار خیال آیا کہ سامان واپس کرنے کی کوشش کی جائے لیکن دکاندار کا رویہ وہ سارا منظر، اسے یقین تھا کہ سامان واپس نہیں ہوگا اب تو ایک ہی صورت تھی کہ صبح چھ بجے۔ اور اس کے لیے اتوار والے دن، چھٹی والے دن صبح پانچ بجے اٹھنا۔ اس نے بیٹھے بٹھائے کیا مصیبت مول لے لی تھی۔

ہفتہ کی رات تھی۔ دیر تک گپ شپ لگانے اور رات گئے تک جاگنے کا معمول تھا لیکن بیوی کا موڈ اتنا خراب تھا کہ اس سے بات کرنے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔ کھانا کھا کر بیٹے اپنے کمرے میں چلے گئے اور وہ دونوں میاں بیوی اپنی اپنی دیوار کی طرف منہ کیے لیٹ گئے۔ صبح پانچ بجے اٹھتے ہوئے بڑی کوفت ہوئی لیکن چھ بجے وہاں پہنچنا تھا۔ بندہ منتظر تھا۔ راستے میں اس نے کہا۔ ”یار بننا اچھی طرح، اس چارپائی نے تو بڑا کام خراب کر دیا ہے۔“

”فکر ای نہ کریں جی، ایسی بنوں گا جو دیکھے گا واہ واہ کرے گا۔“

گھر پہنچا تو ابھی سب سو رہے تھے۔ وہ کام کرنے والے کو پچھلے ٹیرس پر لے گیا۔ سامان کا تھیلا اس کے سپرد کر کے کچن میں آیا اپنے لیے چائے بنائی اور لاؤنج میں اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد بیوی اٹھی۔ لاؤنج میں خالی پیالی دیکھ کر بولی۔

”چائے پینی تھی تو مجھے جگا دیتے۔“ اب اس کے لہجے میں رات والی تلخی تھی۔
”وہ دراصل۔ جلدی جانا تھا نا۔“ وہ آہستہ سے بولا۔
”تو لے آئے ہو اسے۔“
”بس یار ہو گیا۔ اب جانے دو۔“
”یہ تو تمہارا پرانا وتیرہ ہے، پہلے کرلینا پھر پچھتانا۔“
”تو جان اسی لیے تو کہتی ہوں کوئی کام کرنے سے پہلے مشورہ کر لیا کرو۔“

اس نے اطمینان کا سانس لیا اور اوپر چلا گیا۔ کاریگر ماہر تھا آدھی سے زیادہ چارپائی بنی گئی تھی اور رنگ برنگا پرندہ پورے ٹیرس پر چہک رہا تھا۔

دو تین گھنٹے بعد اسے واپس پہنچایا۔ بیوی اور بیٹوں نے چارپائی دیکھی تو سب نے تعریف کی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی ست رنگا پرندہ پر پھیلائے ٹیرس پر رقص کر رہا ہے۔

”چلو پیسے تو خرچ ہو گئے لیکن لگ اچھی رہی ہے۔“ بیوی نے کہا۔
”بہت خوبصورت بنی ہے۔“ بڑے بیٹے نے کہا۔

”اور رنگوں کا کمبی نیشن تو کمال کا ہے۔“ چھوٹا بیٹا بولا۔ ”ابو یہ ضرور آپ کی پسند ہے۔ دکاندار اتنی اچھی کمبی نیشن نہیں کر سکتا۔“

وہ خوش ہو گیا۔
”اب اسے رکھنا کہاں ہے۔“ اس نے بیوی سے کہا۔ ”بارشوں میں تو خراب ہو جائے گی۔“
”ابھی تو ورانڈے میں رکھ دیں، پھر کوئی جگہ بناتی ہوں۔ بھئی لگ خوبصورت رہی ہے۔“

دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے گپیں لگیں، کہیں کہیں چارپائی کا ذکر بھی آیا اور رنگوں اور بنائی کی خوب داد دی گئی۔ کھانا کھا کر تھوڑی دیر سو کر وہ ایک دوست کے ہاں نکل گیا۔ وہاں تاش کی بازی لگ گئی۔ واپس آیا تو شام ہو چلی تھی۔ بیوی سامان کی ایک لسٹ لیے بیٹھی تھی۔ بازار میں کافی دیر ہو گئی۔ واپسی پر کھانے کا وقت ہو گیا۔ کھانا کھا کر ابھی لیٹا ہی تھا کہ سینے میں شدید جلن اور درد کا احساس ہوا۔ سانس بھی کچھ اکھڑ رہا تھا۔ بیوی نے بیٹے کو آواز دی۔ ”جلدی سے گاڑی نکالو“ تمھارے ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ ”

چھوٹا بیٹا بھی آ گیا۔ دونوں بیٹوں نے اسے پچھلی سیٹ پر لٹایا۔ بیوی نے اس کا سر زانو پر رکھ لیا اور جلدی جلدی کچھ پڑھنے لگی۔ گاڑی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اس کی حالت اور خراب ہو گئی۔ شاید سٹریچر پر ڈالتے ڈالتے یا ایمرجنسی کے بیڈ پر لٹاتے لٹاتے درمیاں میں کہیں سانس کی ڈوری ٹوٹ گئی۔

واپسی ایمبولینس میں ہوئی۔ بیوی ایمبولینس میں اور بیٹے پیچھے پیچھے گاڑی میں ایک کہرام مچ گیا۔ اڑوسی پڑوسی باہر نکل آئے۔ ایمبولینس سے سٹریچر اتار کر لاؤنج میں لائے تو کوئی بولا۔ ”لاش کہاں رکھنی ہے؟“

کسی نے بیڈ روم کی طرح اشارہ کیا تو پڑوس والی بڑی اماں بولی۔ ”گھر میں کوئی چارپائی نہیں۔“
”چارپائی“ دونوں بیٹوں نے ہچکیوں کے درمیان ماں کی طرف دیکھا۔
”اوپر پڑی ہے“ بیوی کی ہچکیاں بین میں بدل گئیں۔

لاؤنج کا صوفہ ایک طرف کر کے چارپائی درمیان میں بچھادی گئی اور سٹریچر سے اس کا وجود چارپائی پر منتقل کر دیا گیا۔

”گھر میں چارپائی کتنی ضروری ہے۔“ کسی عورت نے دوسری عورت کے کان میں کہا۔ ”اور ہمارے ان گھروں میں اب اس کا رواج ہی نہیں۔“

لاؤنج میں ست رنگا پرندہ پر پھیلائے چہک رہا تھا اور ناچ رہا تھا لیکن اس کی چہک کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی نہ اس کے رنگ کسی کو نظر آرہے تھے!

٭٭٭٭ تجزیہ ٭٭٭٭٭

مارکس نے کہا تھا :

” انسان کی یہ خصو صیت ہے کہ وہ اپنے طریق اور عمل سے فطرت کے پہلو بہ پہلو ایک نئی معرو ضی دنیا تخلیق کر لیتا ہے“ ۔

کہانی کار کی اس کہانی کا موضوعاتی دائرہ مٹتی اور دم توڑتی سماجی اور تہذیبی قدر اور اس کی تجدید کی خواہش ہے۔ سماجی اقدار کے مجموعے اور اس کے نظام کا نام تہذیب ہے، انسان اپنی تہذیب خود بناتا یعنی سماجی اقدار کا نظام تہذیب کی تخلیق کرتا ہے۔ جیسے جیسے سماجی اقدار کے مجموعے اور نظام میں تغیر و تبدل آئے گا ویسے ویسے تہذیب کی صورت بھی بدلتی جائے گی۔ سماجی اقدار کے نظام میں تبدیلی اور پھر اس کے نتیجے میں تہذیبی تبدیلی انسانی وجود سے ہے کہ انسانی ذہنی ارتقا تہذیبی ارتقا ٹھہر تا ہے کیو نکہ تہذیب افراد کے طریق زیست اور فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے۔

جب انسان ایک تہذیب سے اپنی تخلیق کر دہ دو سری تہذیب میں قدم رکھتا ہے تو کچھ پرانی سماجی اور تہذیبی قدریں دامن گیر ہو جاتی ہیں کہ ان کے ساتھ انسانی جڑت صد یوں کے سفر پر محیط ہوتی ہے۔ (کہانی کے مرکزی کردار کو اسی نوع کا معاملہ پیش آتا ہے ) صد یوں کے تعلق کو لمحوں میں تو نہیں توڑا جا سکتا۔ نائیجریا کے ناول نو یس چنوا اچیبے کا نا ول Things fall a part کا مرکزی کردار ’او کونک وو‘ کی اپنی تہذیب، روایات اور اقدار سے جڑت ملا حظہ کیجئے کہ جب سفید فام اپنی تہذیب اور روایات سمیت رخنہ انداز ہوتے ہیں تو ’او کو نک وو‘ افریقی تہذیب و تمدن کی علا مت بن کر ان کے سا منے سینہ سپر ہو جاتا ہے اور ایک سفید فام کو قتل کر ڈالتا ہے۔

پھر جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے قبیلے کے افراد اپنے تہذیب و تمدن کو بچانے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو وہ خود کشی کر لیتا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کے سا منے اس کی اپنی تہذیب و روایات دم توڑیں وہ خود دم توڑ دیتا ہے۔ لیکن واضح رہے یہ ہر ایک کا مسئلہ نہیں صرف اس فرد کا مسئلہ ہے جو اشیا میں سا نس لیتا ہے، جیسے اس کہانی کا مرکزی کردار ۔ ایسے کردار ارتقائی عمل کے نتیجے میں ایک تہذیب سے دو سری میں قدم تو رکھ دیتے ہیں لیکن خود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بٹ جاتے ہیں۔

پرانی روایات اور اقدار سے جڑت کوئی مرض ہرگز نہیں بلکہ ایک صحت مند رویہ ہے، میرے خیال میں یہ کوئی مجرد تصور بھی نہیں بلکہ اپنی مٹی اور اپنے وجود سے بے پایاں محبت کا اظہاریہ ہے۔ ”محلے وا لے گھر سے اس نئے گھر میں منتقل ہوتے ہوئے اپنا بہت سا پرا نا سامان وہیں با نٹ بو نٹ آئے تھے، بس یہ ایک چار پائی کسی طرح ساتھ آ گئی“

یہ سطر کہانی کی ابتدائی سطروں میں سے ہے۔ ”محلے وا لا گھر“۔ زند گی سے معمور اور لبالب، ایک عجب طرح کے زند گی بھرے ہنگاموں سے لبریز، محبت اور اپنائیت کے زند گی بخش گرم نرم لمس کا پورا پورا احساس لیے۔ در اصل پرانی اور آخری سانس لیتی تہذیب کی علامت اور ”نیا گھر“۔ زند گی آمیز جذبوں سے تہی، تھکا دینے والا سکون اور مضمحل کر دینے والی خاموشی لیے، یوں جیسے زمین سے رشتہ توڑ کر گملے میں آ جانا۔

نئی تہذیب کی علامت ہے۔ ”سامان“ ۔ وہ اقدار جو پرا نے نظام کا حصہ ہو کر رہ گئیں یا نئے تہذیبی نظام کے تخلیق ہوتے ہی از خود فرسودہ اور ازکار رفتہ ہو گئیں، البتہ ”چارپائی“ تمدنی ورثے کی علامت بن کر نئے تہذیبی نظام میں کسی نہ کسی طرح موجود رہتی ہے۔ اس تمدنی ورثے کو ازسرنو شناخت اور پہچان دینے کے لیے خواہش کا پرندہ چہچہا کر کہانی کے مرکزی کردار کو اکساتا اور اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔

جب کہانی کا مرکزی کردار خواہش کے چہچہاتے پرندے کی ہمراہی میں چا ر پائی بنوانے، در اصل اسے نئی تہذیب کا حصہ بنا نے کی غرض سے پرا نے شہر کا رخ کرتا ہے تو نواڑ جس سے چارپائی پہلے بنی ہوتی ہے کا زمانہ لد چکا ہو تا ہے۔ لیکن سعی پیہم کے بعد نواڑ کی جگہ اسے رنگ بر نگی رسی پسند آ جاتی ہے تو بننے والا ماضی کی گرد میں گم ہو چکا ہو تا ہے تو عین اسی لمحے رنگ برنگے پرندے کی چہچہا ہٹ ماند پڑ جاتی ہے اور وہ ہر سو اداسی بکھیر کے اڈاری مار جا تا ہے۔ پھر جب دکاندار کی ذاتی کو شش سے بننے والا ماضی کی گرد جھاڑتا کہیں سے نمودار ہوتا ہے تو پرندہ آسمان کی وسعتوں سے چہچہاتا لوٹ آتا ہے۔

”رسیوں کے گچھے گاڑی میں رکھتے ہوئے اسے خیال آیا اگر صبح بندہ نہ ملا تو یہ ساڑھے چار سو روپے تو ضائع ہو جائیں گے، اس نے دکاندار سے کہا۔“ دیکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ صبح”۔

کہانی کا مذکورہ اقتباس ایک خیال، سوچ اور اندیشہ کی ترجمانی کر رہا ہے۔ ساڑھے چار سو رو پے ضائع ہو نے کا خیال، سوچ اور اندیشہ؟ نہیں۔ تمدنی ورثہ کے مٹ جانے کا معصوم خیال، سوچ اور اندیشہ۔ یہی ہے تہذیب و تمدن سے جڑے اور اشیا میں سانس لینے والے شخص کا کرب اور المیہ۔

کہانی کے مرکزی کردار کو چارپائی کی بنوائی اور تکمیل کے دوران خاصی ذہنی اور جسمانی تکلیف کا سا منا کرنا پڑتا ہے کہ اس کا جرم اشیا میں سانس لینا ہے۔ چارپائی کی بنوائی کے دوران نئے گھر کے پرسکون ماحول میں شدت اور تناؤ کی کیفیت جنم لے لیتی ہے۔ بیٹے کا کلکو لیٹر اور کچن کا ایگزا سٹ فین جو نئی تہذیب اور نئے تمدن کی ضرورتیں ہیں، اس کی معصوم روح کو تار تار کر دیتی ہیں۔ اسے لمحہ بہ لمحہ یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ چارپائی پر اٹھنے والے خر چ سے کلکو لیٹر خریدا جاتا یا ایگزاسٹ فین بدلوا لیا جاتا۔ تاہم جب اعصاب شکن مراحل سے دو چار ہونے کے بعد چارپائی بنوائی کے بعد مکمل ہو جاتی ہے تو ست رنگا پر ندہ چہچہا اٹھتا ہے اور ساتھ ہی گھر کے ماحول میں بھی خو شی اور سرشاری کی ایک لہر دھمال ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔

کہانی کار کی فن کارانہ ہنر کاری اور تخلیقی اپج کا اظہار کہانی کے آغاز سے انجام تک برابر قائم رہتا ہے۔ ست رنگا پر ندہ، پرانا اور نیا گھر، رنگلی چارپائی، بننے وا لا کاری گر، کلکو لیٹر اور ایگزاسٹ فین ایسی اچھوتی اور بھرپور معنویت کی حامل علامتیں جو پرانی اور نئی تہذیب اور جدیدیت کی کش مکش کا بیانیہ ہیں، کہانی کا ر کی تخلیقی قوت کا مظہر ہیں۔ کہانی کا مر کزی کردار چارپائی کی تکمیل کے ساتھ جب اچانک وفات پا جاتا ہے تو یوں محسوس ہو تا ہے جیسے وہ پرانے تمدن کو ازسرنو حیات دینے کے واسطے زیست کر رہا تھا، مقصد پورا ہوا تو چل دیا، ست رنگے پرندے کو چہکتے اور ناچتے چھو ڑ کر۔

کہانی کار نے مٹتی تہذیب اور پرانے سماج سے جڑے شخص کے المیے کو اداس کر دینے والے لفظوں میں کس خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔

” گھر میں چارپائی کتنی ضروری ہے“ ۔ کسی عورت نے دو سری عورت کے کان میں کہا۔ ”اور ہمارے گھروں میں اب اس کا رواج ہی نہیں ”۔ لاونج میں ست رنگا پرندہ پر پھیلائے چہک رہا تھا اور ناچ رہا تھا لیکن اس کی چہک کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی نہ اس کے رنگ کسی کو نظر آرہے تھے“ !

یہ الفاظ کہ، گھر میں چا ر پائی کتنی ضروری ہے ’ کہانی کا نچوڑ ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جب ایک عورت دوسری عورت کے کان میں مذکورہ الفاظ کہتی ہے تو اعتراف ہے اس بات کا کہ کوئی بھی نیا تمدنی منظر نامہ کچھ پرانی اقدار کے بغیر ادھورا ہے۔

Facebook Comments HS