عورت مارچ انسانی حقوق کی تحریک نہیں ہے


میری ماضی کی تمام تحریریں نابینا، سماعت سے محروم، ٹرانس جینڈرز اور افراد باہم معذوری کے بنیادی انسانی حقوق پر لکھی گئی ہیں۔ میں پاکسان میں سماعت سے محروم افراد کے لئے ایسی ترقی یافتہ اشارتی زبان بنانا چاہتا ہوں جس کی مدد سے انھیں ملک کے کسی حصے میں پڑھائی اور روزگار کے حوالے سے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نابینا افراد کے لئے ایسا ماحول تشکیل دینا چاہتا ہوں جہاں انھیں نوکری کے حصول کے لئے ڈنڈے نہ کھانے پڑیں۔

میں پاکستان کی ہر بلڈنگ، دفتر گھر، تعلیمی اداروں اور سیاحتی مقام کو ویل چیئر فرینڈلی بنانے کا خواہش مند ہوں۔ میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی سے ناچ، گانا اور سیکس ورک ختم کر کے انھیں برابر کے انسانی حقوق دلوانا چاہتا ہوں۔ ”نارمل خواتین“ کے مسائل پر لکھی گئی گزشتہ تحریرمیری زندگی کی پہلی تحریر تھی۔ سارا دن پڑھنے والوں کی فون کالز اور میسجز کا سلسلہ چلتا رہا۔ پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے صرف مارچ کے مہینے میں نظر نہیں آیا کروں نگا۔ بلکہ مجھے جب بھی وقت ملا کرے گا میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق پر لکھنے کی کوشش کرتا رہونگا۔

چند روز قبل ایک انٹرنیشنل این جی او کے دوستوں نے خواتین سے متعلق میری رائے جاننے کی کوشش کی۔ میرا جواب بڑا سادھ سا تھا کہ میں خواتین اور مردوں کو انسانی حقوق کے لحاظ سے برابر سمجھتا ہوں۔ خواتین کی تعلیم، نوکری اور آزادی پر قدغن کے سخت خلاف ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مردوں اور عورتوں کے کاموں کی واضح درجہ بندی کر دی جائے۔ معاشرے کے سامنے خواتین اور مردوں کے کرنے کے کاموں اور ذمہ داریوں کا روڈ میپ رکھ دیا جائے۔ روڈ میپ اخلاقی بنیادوں پر تیار کیا جائے اس کی قانونی حیثیت نہیں ہونی چاہیے۔

صاحب کہتے ہیں کہ ہم مرد اور عورت کو برابر سمجھتے ہیں اور درجہ بندی کے خلاف ہیں۔ میں نے گزارش کی آپ ایک عورت اور مرد کو میرے سامنے کھڑا کر دیں اگر وہ دکھنے میں برابر لگتے ہوں تو میں کہوں گا کہ آپ ٹھیک ہیں۔ اگر دنیا کی کوئی سائنس یہ کہہ دے کہ مرد اور عورت کی کیمسٹری، طاقت، سوچنے اور کام کرنے کی صلاحیت ایک جیسی ہے تو میں آپ کی بات تسلیم کر لوں گا ورنہ اپنے موقف پر ہی قائم رہونگا۔

خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسان کو بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت دے رکھی ہے۔ پھر بھی انسان کی بہت سے عادات جانوروں سے ملتی جلتی ہیں۔ اگر آپ انسانی معاشرے کا نچوڑ نکالیں تو یہ کسی نہ کسی طرح زن، زر اور زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ جنگل میں ہونے والی تمام لڑائیاں بھی زن، زر اور زمین کے پیچھے ہوتی ہیں۔ جانوروں کے گروپوں میں آپس کی لڑائیاں گروپ کی سرداری اور ماداؤں پر قبضے کے لئے ہوا کرتی ہیں یا خوراک کے لئے یا پھر اپنے علاقے کی حفاظت کے لئے ہوتی ہیں۔

قدرت نے نر اور مادہ کی ذمہ داریوں کو بڑی ہی خوبصورتی سے ترتیب دے رکھا ہے جس کے ساتھ کی جانے والی چھیڑ چھاڑ پورے نظام کو برباد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر شیر جنگل کا بادشاہ ہے۔ اسے اس کی طاقت اور بہادری کی وجہ سے ہی جنگل کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ جنگل کا بادشاہ دن کا متعدد حصہ سونے میں ہی صرف کر دیتا ہے۔ شکار اور بچوں کو سنبھالنے کی مشکل ذمہ داریاں شیرنی کو ادا کرنی پڑتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سارے دن سوئے رہنے والے شیر میں ایسی کون سی خاص بات ہے کہ جس کی وجہ سے یہ ڈیکٹیٹر والی زندگی گزارتا ہے۔

سوال کا جواب یہ ہے کہ شیر جاگنے کے چار سے چھ گھنٹوں کے دوران اپنے علاقے کا چکر لگاتا ہے۔ اہم مقامات پر پیشاب کرتا ہے اور خوب دھاڑتا ہے تاکہ اردگرد کے علاقوں کے شیروں کو یہ پیغام مل جائے کہ یہ علاقہ اس کا ہے اور یہاں قدم رکھنا ان کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ جب شیرنیوں سے کوئی مشکل شکار قابو نہ آئے یا شیرنیوں کو جنگلی کتے گھیر لیں یا دوران شکار شیرنی کی جان کو خطرہ لاحق ہو تو شیر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے نکلتا ہے۔ اپنی طاقت کو مشکل کاموں کے لئے سنبھال کر رکھنے کے لئے سارا دن سویا رہتا ہے۔ اب اگر کسی دن شیرنیاں شیر سے کہیں کہ تمھارے اور ہمارے حقوق برابر ہیں آج سے جتنی دیر تم سویا کرو گے اتنی ہی دیر ہم بھی سویا کریں گے۔ اگر جنگل میں ایسا کبھی ہوا تو شیروں کی نسل فوری طور پر ختم ہو جائے گی۔

انسانی معاشرے میں قدرت نے مرد کو طاقت اور عورت کو نزاکت دے کر توازن قائم کیا ہے۔ نہ کوئی کم تر ہے اور نہ برتر۔ دونوں کے انسانی حقوق برابر ہیں۔ دونوں گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیں۔ خواتین سے یہ کہہ دینا کہ تم ہر وہ کام کر سکتی ہو جو مرد کر سکتا ہے اصل میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔

دنیا چلانے والی طاقتوں نے مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی، عورت مارچ اور ہم جنس پرستی وغیرہ جیسی تحریکوں کے ذریعے انسان کو مصروف رکھا ہوا ہے۔ تاکہ انسان یہ نہ جان سکے کہ یہ دنیا کون چلا رہا ہے۔ حقیقی سپر پاور کون ہے، ہم درپردہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

وطن عزیز میں چلنے والی عورت مارچ ایک مخصوص طبقے اور میڈیا کی بھر پور سپورٹ کے باوجود عوام میں پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عورت مارچ عام خواتین کے مسائل پر بات نہیں کرتی۔

ہماری عام خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا رہی ہیں۔ وطن عزیز کی یہ عام خواتین معاشرے اور معیشت میں اپنے جائز حقوق کے لئے کسی بھی وقت باہر نکل سکتی ہیں۔

کیوں نہ ہم عام عورت کے گھر سے باہر نکلنے سے پہلے ہی ایک گریٹ ڈیبیٹ کا اہتمام کریں۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ٹیبل پر بٹھا کر ان کی بات سنیں۔ مسائل کی نشاندہی کریں اور حل نکالنے کی کوشش بھی کریں۔ عام عورت جتنی آزادی اور خود مختاری کی طلبگار ہے اسے یہ آزادی نہ صرف فراہم کی جائے بلکہ اس کی رہنمائی اور مدد بھی کی جائے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایک متوازن معاشرہ ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ ورنہ مختلف قسم کی مارچیں قوم کو تقسیم در تقسیم کرتی چلی جائیں گیں۔

اس وقت ہمارے ملک میں عورت مارچ کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستی بھی فروغ پارہی ہے۔ محسوس یہ ہو رہا ہے کہ مستقبل قریب میں عورت مارچ کے ساتھ ہم جنس پرستوں کی مارچ بھی دیکھنے میں آیا کرے گی۔ مستقبل کے مسائل سے نمٹنے کے لئے پلاننگ کرنا بہت ضروری ہے۔ عورت مارچ اور ہم جنس پرستی انسانی حقوق کی تحریکیں نہیں ہیں۔ بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ اور معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنے کی سازش ہے۔

انسانی حقوق کی موجودہ شکل اور انتہا پسندی کا چورن ایک مخصوص وقت کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ جیسے جیسے یہ چورن پرانا اور بے اثر ہونا شروع ہو جائے گا یا لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ چلنا شروع ہو جائے گا تو اسے بدل دیا جائے گا۔ نئے فارمولے کے ساتھ کوئی نئی دوائی تیار کی جائے گی۔ اسے بھی اسی طرح فروغ دیا جائے گا پھر اور کچھ نیا آ جائے گا۔ موجودہ دہائی انسانی حقوق اور طاقت کے توازن کے حوالے سے کافی اہم ہے۔ طاقت کا توازن بگڑتے ہی کافی ساری چیزوں نے بھی تبدیل ہو جانا ہے۔ ہمارے لیے اپنی تہذیب اور ثقافت سے جڑے رہنے میں ہی عافیت ہے۔

Facebook Comments HS