کیا عورت مارچ صرف چڑانے کی حد تک رہ گیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ سے پہلے ہی اس بحث کا آغاز ہو گیا تھا اور بات وہیں سے شروع ہوئی کہ عورت مارچ فنڈڈ ہے، عورت مارچ بلا ضرورت ہے یا دوسری جانب عورت مارچ ہی ضرورت ہے، مداوا ہے، کل اظہار ہے۔ ایک جانب سے زور کہ یہ دن ضرور منانا ہے، ایک جانب سے ضد کہ بالکل بھی نہیں منانا۔ دو انتہا پسندی کی حد کو پہنچے طبقات ایک دوسرے کو شد و مد سے نیچا دکھانے میں مشغول ہیں اور یہ مہینہ ایسا ہی گزرنے والا ہے۔ اس میں کچھ ضد پہ اڑی، خواتین کے حقوق کی خود ساختہ علمبردار چیخ چیخ کر اڑ جائیں گی کہ جو میں بولوں وہی حق ہے، وہ تمہیں بھی بولنا ہو گا۔ جبکہ دوسری طرف ایک خود پسندی کا شکار ڈرامہ نگار ایسے افراد کھلے عام خواتین کو مغلضات بک کر مردوں کی نگری کے ہیرو بن جائیں گے۔

توازن کہاں ہے؟ کیوں ایک پلڑا بھاری ہی رکھنا ہے۔ کیوں خواتین کا موٹر سائیکل چلانا یا طلاق لینا ہی اولین حقوق گردانے جائیں گے، کیوں تحمل سے اپنا موقف دینے اور اصل ایشو اٹھانے کے بجائے چیخنا چلانا زیادہ ضروری ہو گا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے عورت مارچ ہائی جیک ہو چکا ہے اور مجھے بڑے افسوس اور ہمت کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کیونکہ مجھے اندازہ یے کہ اس سے میرے اپنے رفقاء بھی مشتعل ہو سکتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ جس طرح، جس طریقے سے جو بات کی جا رہی ہے، اصل مسائل شاید ویسے حل نہ ہو پائیں۔ البتہ آپ معاشرے کو اتنا چڑا رہے ہیں کہ جو پہلے بغیر کوشش کہ خواتین کے حقوق کی بات کرتے تھے وہ دانستہ طور پر محض ان دنوں میں خاموشی اختیار کریں گے کہ کہیں مجھے بھی اسی گنتی میں نہ شمار کر لیا جائے۔

پہلے تو آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ برابری چاہتے ہیں یا برتری؟ کیونکہ ایک کو عظیم تر دکھانے کے لئے دوسرے کو ذلیل ترین دکھانا اگر فارمولا ہے تو اس طرح تو مقصد میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے ملک کی خواتین کی حالت اس قدر دگرگوں ہے کہ وہ محض سائیکل چلانے یا کھل کھلاکر بیٹھنے سے بہتری حاصل نہیں کر پائیں گی۔ ہمیں خواتین کو ذہنی طور پر خود مختار بنانا ہے۔ اسے بتانا ہے کہ تعلیم کا محض یہ مطلب نہیں کہ کاغذ پہ قابل کہلاؤ۔

اٹھو، سماجی رائے کی پرواہ کیے بغیر وہ تعلیم حاصل کرو، وہ نوکریاں کرو جو عام طور پر نہیں پسند کی جاتیں۔ اگر تم مضبوط ہو تو معاشرتی روئیے کا سامنا کرو۔ کیوں ہم نے خواتین کی نوکری کو ڈاکٹر اور ٹیچر سے منسوب کر دیا ہے؟ کیوں کہتے ہو کہ ائر ہوسٹس کا کردار اچھا نہیں ہوتا، خاتون وکیل کام نہیں کر سکتی ہزار مردوں کے بیچ۔ نہیں میڈیا میں شریف عورت کا کیا کام؟ ہم نے اپنی بچیوں کو کیریئر بنانا سکھایا ہی کب؟ ہر فلم ڈرامہ میں یہ بتایا کہ تم ڈری، سہمی ہاتھ میں فائل پکڑے آفس میں داخل ہو گی تو امیر ترین، خوبرو باس تم پر دل ہار بیٹھے گا۔

تمہاری شادی ہو گی اور نند، بھاوج، ساس کے جھگڑے۔ بس۔ ہر سنڈریلا کی حالت کو شہزادے سے شادی کرنے سے ہی بدلنا بتا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین کی اکثریت بھی خود کو محض شادی شدہ دیکھنا چاہتی ہے۔ کسی کو بھی کیریئر کا چیلنج لینا نہیں پسند۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی عورت کی زندگی میں کیا چل رہا ہے اس میں سب سے زیادہ دلچسپی ہم عورتوں کو ہی ہوتی ہے کہ پٓر کا کوا کب اور کیسے بنایا جائے؟

چیخیں مارنا یا اچھل کود کر کے چڑانا آزادی نہیں۔ آزادی اور خودمختاری یہ ہے کہ ”اسٹالکنگ“ یا نظر بازی کو محبت نہ سمجھا جائے، اتنی عقل آ جائے کہ جذباتی بلیک میلنگ میں نہ آیا جائے، اتنی برداشت ہو کہ خود بھی دوسری خواتین اور مردوں کو عزت دی جائے نہ کہ شرلک ہومز بن کر اپنا ہی ذہنی سکون خراب کریں۔ جو آزادی آپ کو چاہیے، اتنا ہی سکون اپنے اطراف کے مرد کو بھی دیں۔ بچوں کی تعداد آپ کا مکمل حق ہے اور خدا نے اس کے لیے آپ کو بھی با اختیار بنایا ہے۔

اگر آپ چاہتی ہیں تو آپ بھی احتیاطی تدابیر کر سکتی ہیں۔ محض رونے دھونے سے کسی کی حالت نہیں بدلتی۔ اگر مطالبہ یہ ہے کہ جہیز نہ لیا جائے تو آپ بھی بٓری، اپنا گھر، دعوت، منہ دکھائی اور دیگر فضول مطالبات نہ کریں۔ اگر ورکنگ لیڈی بنیں تو ذہن اور جسم مضبوط کریں۔ آپ کے آدھے مسائل خود حل ہو جائیں گے۔ جتنی بیٹی کی حفاظت، تعلیم اور شعور ضروری یے اتنا ہی بیٹے کا بھی۔ کچھ ایسے ادارے بنائے جائہں یا تجویز کیے جائیں جو تنہا خواتین یا تنہا ماؤں کو محفوظ روزگار اور رہائش فراہم کریں جو ان کی تعلیم اور معیار زندگی کے عین مطابق ہوں۔ طلاق کا مشورہ مفت دیا جاتا ہے۔ طلاق کے بعد کے مشوروں میں محض ٹیچنگ اور سلائی مشین کے ذکر ہی سنے ہیں۔

مختصر یہ کہ میری نظر میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں۔ دونوں برابر عزت کے حقدار ہیں۔ جب ہم ”آل مین آر ڈاگ“ لکھتے ہیں تو دراصل یہ ایک انتہائی بھونڈی تاویل ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی کمی کو دنیا کی حقیقت سمجھ لیا۔ اگر مجھے کھانا گرم نہیں کرنا تو کوئی مسئلہ نہیں۔ مجھے بھی پھر سواری اور سودا سلف خود لانا چاہیے۔ یہ چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں۔ یہ بحث طویل چل سکتی ہے، اس کے لیے ہم سب کو اپنی اور آنے والی نسل کی ذہن سازی کرنی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply