ملک کا بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ تو لے لیا لیکن لگتا تھا کہ اس مشکل وقت سے گزرنے کے بعد وزیراعظم کی سوچ میں کچھ بدلاؤ آئے گا ، وہ افہام و تفہیم کی بات کریں گے۔ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کریں گے۔ ملک کے مسائل حل کرنے کی بات کریں گے۔ لیکن وزیراعظم کارویہ افسوسناک تھا اپوزیشن کو للکارنے، دھمکانے والا وہی پرانا انداز تھا، کچھ نیا دیکھنے میں نہیں آیا۔

خان صاحب اس قوم کے اثاثہ تھے۔ انہوں نے قوم کو ورلڈ کپ جیت کر دیا تھا۔ نمل جیسی یونیورسٹی اور شوکت خانم جیسے ہاسپٹلز بنائے تھے۔ حالیہ الیکشن میں خان صاحب کی پارٹی ملک کی ایک بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی۔ اگر یہ پارٹی اقتدار میں آ کر بہتر کارکردگی دکھاتی، جمہوری روایات کو فروغ دیتی تو خان صاحب اتنے غیرمقبول نہ ہوتے اور یہ ملک اور جمہوریت کے مستقبل کے لئے بہتر ہوتا۔ کارکردگی کے لحاظ سے پارٹیوں میں مقابلہ ہوتا اور لوگوں کے پاس زیادہ چوائسس ہوتیں۔

جمہوری روایات بہتر طریقے سے پروان چڑھتی، جمہوریت پھلتی پھولتی اور ملک ترقی کرتا۔ لیکن خان صاحب نے اپنے غیر جمہوری رویے اور انا کی وجہ سے نہ صرف اپنی پارٹی کا نقصان کیا بلکہ ملک اور قوم کا بھی نقصان کر دیا۔ خان صاحب ایک ڈکٹیٹر نہیں تھے، ایک جمہوری لیڈر تھے۔ لیکن ان کو ایک پیج اور اپنی ذات پر اتنا ناز تھا کہ اپوزیشن کو نیست و نابود کرنے اور سدابہار بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ اگر وہ پارلیمنٹ کی طرف توجہ کرتے اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلتے تو آج حالات اور طرح کے ہوتے نہ ان کی حکومت ڈگمگاتی، نہ اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت پڑتی، نہ عوام کی حالت اتنی ابتر ہوتی اور نہ پی ڈی ایم بنتی۔ ہماری اپوزیشن کی جماعتیں ماضی کے گرم سرد سے گزر کر اب بہت میچور ہو چکی ہیں ، اس لئے بغیر کسی رکاوٹ کے اس کو اقتدار کے پانچ سال آرام سے پورے کرنے دیتی۔

لیکن جب ایک جمہوری لیڈر جمہوری روایات کو چھوڑ کر غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے تو وہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارتا ہے۔ کیونکہ جمہوریت نہ ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے نہ کسی کی میراث ہوتی ہے۔ یہ عوام کی بہتر خدمت اور اصولوں پر چلنے کا نام ہے۔

خان صاحب نے 22 سالہ کے جدوجہد سے سیاسی پارٹی بھی بنائی اور اقتدار بھی حاصل کیا۔ اچھا ہوتا اگر ان 22 سالوں میں اپنے کارکنوں کی کچھ اخلاقی تربیت بھی کرتے۔  کاش! انہیں سکھاتے ایتھکس کیا ہوتے ہیں۔  تحریک انصاف کے کارکنوں کی حرکتیں چاہے وہ سوشل میڈیا پر ہوں، ایوان میں ہوں، پارلیمنٹ لاجز میں ہوں یا ٹی وی ٹاک شوز میں ہوں شرمناک رہی ہیں۔

ہر سیاسی پارٹی کو اپنے کارکنوں کی اخلاقی تربیت کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے کارکن شروع ہی سے اخلاقی اور جمہوری روایات رکھتے ہیں۔ بلکہ تحریک انصاف کے بڑے رہنماؤں کو خان صاحب، شیخ رشید اور گنڈاپور کو پیپلز پارٹی کے رہنماء بلاول سے تربیت لینے کی ضرورت ہے کہ سیاست میں احترام اور شائستگی کیا ہوتی ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کی خواہش تھی کہ خان صاحب اس کے دست شفقت کے نیچے ایک پاپولر لیڈر بنیں لیکن حالات اور قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ خان صاحب تو پاپولر نہ ہو سکے بلکہ اس بحرانی کیفیت میں بلاول اور مریم پاپولر سیاسی لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے آ گئے۔

مفاہمت کے بادشاہ آصف زرداری واقعی آج کل سب پہ بھاری ہوتے نظر آتے ہیں۔ جن کی حکمت عملی کی وجہ سے پی ڈی ایم آج ایک بارگینگ پوزیشن میں ہے۔ پی ڈی ایم سینیٹ انتخابات سے پہلے ایک مخمصے کا شکار تھی۔ یوسف رضاگیلانی کی جیت اور ایک پیج میں فاصلے کی وجہ سے ملک کا پورا سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو گیا ہے۔

پی ڈی ایم اب اپنی مرضی سے اپنے کارڈز کھیل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی ایوانوں میں رنج والم ہے۔ جبکہ پی ڈی ایم جشن منا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم اپنے کارڈز کو اگے کیسے استعمال کرتی ہے؟ اور آنے والے وقت میں ملک کا سیاسی منظرنامہ کیا ہوتا ہے؟ اور اقتدار کی بھول بھلیوں میں کیا تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply