سیاست کے گھوڑے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میدان میں جم غفیر جمع ہے۔ مجمع سے بھانت بھانت کی آوازیں رہی ہیں، ایسے میں تربیت یافتہ گھوڑا، ڈھول کی تھاپ پر ایک فوک دھن پر رقص کر رہا ہے، عوام کا شور و غوغا گھوڑے کا ماہرانہ رقص دیکھ کر ہوا میں تحلیل ہو گیا ہے، ہر شخص حیرانی سے کبھی گھوڑے کے ٹرینر کو دیکھتا ہے اور کبھی گھوڑے کے کرتب کو، اتنے میں مجمعے سے کسی من چلے کی زوردار آواز گونجتی ہی۔ ”واہ! گھوڑا واہ!“ ( گھوڑے کو داد دینے کا مخصوص انداز) اور مجمع زور و شور سے تالیاں بجانے لگ جاتا ہے۔

منظر تبدیل ہوتا ہے، پنڈال عوام سے بھرا ہوا ہے۔ کان پڑی سنائی نہیں دیتی، لوگ اپنی دھن میں مگن ہیں۔ اپنے محبوب سیاسی رہنما کی تقریر کا انتظار ہو رہا ہے۔ شور و غوغا میں عوامی رہنما سٹیج پر تشریف لاتے ہیں اور کرتب دکھانا شروع کر دیتے ہیں، عوام کا جوش و جذبہ دیدنی ہے لیکن اس بار واہ! گھوڑا واہ! کی آواز میرے ایک کان کو سنائی دیتی ہے جب کہ دوسرے کان میں ”آوے ہی آوے۔“ اور زندہ ہے فلاں، ووٹ کو عزت دو کے پر جوش نعرے سنائی دے رہے ہیں۔ میں گنگ سا کھڑا یہ سوچ رہا ہوں کہ گھوڑے اور سیاسی رہنما میں کیا فرق ہے؟ گھوڑے کا مالک بھی منظر سے غائب ہوتا ہے اور سیاسی لیڈر کا بھی، فرق یہ ہے کہ گھوڑے کے تربیت کنندہ کا گھوڑے کی لگام میں ہاتھ سب کو نظر آتا ہے لیکن سیاسی گھوڑے کی لگام جن ہاتھوں میں ہوتی ہے وہ پس پردہ ہوتے ہیں۔

موجودہ سیاسی حالت کی منظرکشی سے ضروری ہے کہ ہم تقسیم پاکستان سے لے کر اب تک اپنے ملکی سیاست کے ان تربیت یافتہ گھوڑوں کے رقص پر بات کریں جن کی تربیت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ کی طرح بیرونی ٹرینر کرتے ہیں اور ان کو سیاسی ڈھولکی پر رقص کروا کر اپنے اپنے مطالب حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اقتدار کے ایوانوں کی ڈوریاں مستقل اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں کیونکہ اقتدار کے مسند نشینوں کی لگام ہمیشہ سے ان کے ہاتھ میں رہی ہے۔

وکیل انجم اپنی کتاب۔”سیاست کے فرعون“ میں رقم طراز ہیں کہ انگریزوں کے وفاداروں میں پنجاب کے جاگیرداروں کا بڑا حصہ رہا ہے ۔ ان میں ٹوانے، نون، بہاولپور کے نواب، لاہور کے ممدوٹ، ملتان کے قریشی، گیلانی پنڈی کے راجوں کے علاوہ ایک بہت بڑی فہرست ہے جنہوں نے ہر موقع پر دامے درمے، قدمے، سخنے انگریزوں سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا بلکہ ان کے ظلم کے خلاف ہر اٹھنے والی آواز کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔

وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا، انگریزوں کے وفادار، تقسیم پاکستان کے بعد غیر ملکی سکونت حاصل کرنے یا ڈالروں کی بارش میں وطن عزیز کے مظلوم اور غیور عوام کا سودا کرتے رہے اور اپنے جانشین گھوڑوں کی تربیت غیر ممالک میں کرنے کے بعد ان کو سیاست کے عملی میدان میں اتار کر اپنی اپنی تجوریاں بھرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی بصارت و بصیرت سے محروم لوگوں سے داد بھی سمیٹتے رہے۔

موجودہ سینٹ الیکشن پر ایک نظر ڈالیں تو مجھ جیسے ساست کے بارے میں کم جاننے والے کے علم میں بھی یہ بات آسانی سے آ جاتی ہے کہ ڈوریاں ہلانے والے اب اتنے کاریگر ہو چکے ہیں کہ سیاست کے شوقین امیر امراء کی جیبیں خالی کروانے کے ساتھ ساتھ اس شرط پر معاہدے کر رہے ہیں کہ آپ کی ڈوریاں اور لگامیں نادیدہ ہاتھوں میں ہی رہیں گی۔ وطن عزیز کے سیاست دانوں کے ہائیڈ آؤٹ اور پناہ گاہیں ہمیشہ سے غیر ممالک ہی رہے ہیں جہاں وہ یا تو قلیل وقت کے لئے آرام کرتے ہیں یا پھر بوڑھے ہو کر ان ممالک میں آرام فرمانے کے ساتھ ساتھ ہماری سیاست کی ڈوریاں ہلاتے رہتے ہیں اور اغیار کی گود میں پلنے کے ساتھ ساتھ ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

چند دہائیاں پہلے ہمارے دیہات کی شادی بیاہ کے موقع پر عوام کو اپنے فن سے محظوظ کرنے کے لئے ڈومنوں اور نٹوں کی ایک ایسی ٹیم ہوتی تھی جنہوں نے لکڑی اور کپڑے سے ایک ایسا گھوڑا تیار کیا ہوتا تھا جس کے اندر ایک ماہر فنکار چھپ کر ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا کرتا تھا جبکہ بادی النظر میں یوں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی حقیقی گھوڑا اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ سیاست کے میدان میں دوڑنے والے یہ کاٹھ کے گھوڑے ایسے ہی ہیں جن کے اندر ایک ایسا فنکار چھپا ہوتا ہے جس نے عوام کے جذبات و احساسات کے ساتھ کھیلنے کے ساتھ ساتھ ان کی مجبوریوں کو آڑ بنا کر اپنے فوائد حاصل کرنے ہوتے ہیں۔

تقسیم پاکستان سے لے کر اب تک کبھی کک بیک کمیشن لے کر تو کبھی پلاٹ، لفافے اور نوٹوں کے بریف کیسوں کی مدد سے ان کی وفاداریاں خریدنا ایک وتیرہ بن چکا ہے۔ حال ہی میں سینٹ الیکشن میں جب سید یوسف رضا گیلانی نے حکمران جماعت کے امیدوار کو چاروں شانے چت کیا تو ہمارے وزیراعظم نے وہ دردمندانہ تقریر کی جس کو سننے کا مجھ میں یارا نہ تھا لیکن اکثریت ایسے افراد پر مشتمل تھی جو اس تقریر کو سن کر آنسو بہا رہے تھے اور ان کو ماضی کے چوروں سے جو تھوڑی بہت انسیت تھی وہ ہمارے موجودہ وزیراعظم کی تقریر کی بدولت دم توڑ گئی اور وہ اس حکمران جماعت کے سال گزشتہ کی ہارس ٹریڈنگ کے کارنامے پس پشت ڈال کر پھر تبدیلی کا راگ الاپتے نظر آئے۔

جہاں تک سنجیدہ طبقے کی بات کی جائے تو وہ میدان سیاست میں دوڑنے والے تمام گھوڑوں کی اصلیت کو نہ صرف بھانپ چکے ہیں بلکہ نجی محفلوں میں ان کے کرتوت کا بھانڈا پھوڑنے سے باز نہیں آتے۔ سینٹ الیکشن اور سینٹ چیئرمین کے ممکنہ انتخاب میں ہمارے بھولے بھالے اور معصوم عوام یوں گم ہیں کہ ان کو موجودہ مہنگائی کی صور ت حال کا علم بھی نہیں، حالانکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں مہنگائی میں مزید 0.61 فیصد اضافہ ہوا جس سے اس کی شرح 14.95 فیصد ہو چکی ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ چکن 13 روپے 30 پیسے فی کلو مہنگا ہوا اور اس کی اوسط فی کلو قیمت 263 روپے 58 پیسے ہو گئی، چینی 2 روپے 64 پیسے فی کلو، پیاز 81 پیسے اور آلو ایک روپے 40 پیسے فی کلو مہنگا ہوا، بیف 92 پیسے اور مٹن 35 پیسے فی کلو مہنگا ہوا، اس رپورٹ کے مطابق تازہ دودھ، دہی، انڈے، صابن، چاول کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔

حکمران جماعت کے کارپرداز اور جغادری دفاع کاروں کی توجہ کرپشن اور مہنگائی جیسے عذابوں کی طرف مبذول کروائی جاتی ہے تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ کون سا ایسا سیاسی دور ہے جس میں مہنگائی اور کرپشن میں کمی ہوئی ہو لیکن یہ کہتے ہوئے شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے نام کی طرح تحریک انصاف کا ماضی میں ایک ہی نعرہ تھا کہ ہم اس کو نیا پاکستان بنا کر ایک ایسا نظام لائیں گے جس کی جڑیں بہترین نظام انصاف پر قائم ہوں گی لیکن بجائے اس کے کہ پورے ملک میں گندے انڈوں کو گلی میں پھینک کر تطہیر کا عمل مکمل کیا جاتا، خود تحریک انصاف کے اندر ہی صفائی کا عمل مکمل نہیں ہو رہا جس کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کی سیاسی گاڑی میں اوور لوڈ نگ ہے اور جس چور لٹیرے کا جہاں تک بس چلتا ہے اور اپنی ہیرا پھیری سے باز نہیں آ رہا۔

ہر اہل دل اور درد مند پاکستانی نہ صرف اس صورت حال سے پریشان ہے بلکہ تہ دل سے دعا گو ہے کہ کاش پاکستانی نظام سیاست میں ایسا انقلاب آ جائے جس کی بدولت صرف محب وطن اور میرٹ پہ کام کرنے والے وزراء اور مشیران کرام ہوں، جن کی زندگی کا مقصد نہ صرف کار خیر ہو بلکہ وہ وطن عزیز کی دفاعی دیواروں کو مزید مضبوط کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *