ووٹ کو عزت دو: کیا واقعی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کے شیدائی میرے دوست ناراض ہوئے جاتے ہیں کہ غیر جانبدار اور غیر متعصب ہو کر لکھا کروں۔ تعصب تو خیر بلا ہی بری ہے اور ہر ایک کو خود کو اس سے بچانا چاہیے لیکن یہ غیر جانبداری کیا ہوتی ہے؟ کیونکر غیر جانبدار رہا جا سکتا ہے؟

میری ناقص رائے میں غیر جانبداری کسی بھی متنازع موضوع پر رائے دیتے ہوئے ممکن ہی نہیں اور اگر کوئی اس کا دعویٰ کرتا ہے تو سراسر جھوٹ بولتا ہے۔ ایک لکھاری کو ہمیشہ جانب دار رہنا چاہیے لیکن یہ جانب داری کسی جھنڈے یا کسی پارٹی کے لئے نہیں بلکہ حق اور سچ کے لئے ہونی چاہیے، اپنے ضمیر کی آواز کے لئے۔

کوئی کہے گا کہ ہر بندہ حق اور سچ کا دعویدار ہوتا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے۔ اس سوال کا جواب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک قول مبارک میں ہے کہ ہر بندے کا اپنا سچ ہوتا ہے اور ہر بندہ اپنے سچ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایک قاری کے لئے کوئی بھی کالم پڑھنے سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ لفظوں کے معانی اور مفاہیم کو ان کی روح کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرے۔ کسی بھی کالم نگار کی خوامخواہ کی تنقید یا توصیف آپ بہ آسانی معلوم کر سکتے ہیں اگر اس کے لفظ کسی منطقی استدلال سے خالی ہوں تو۔

عمران خان سے کوئی لاکھ اختلاف کرے، ان کی سیاسی کارکردگی جتنی بھی بری ہو ایک بات تو بہر حال طے ہے کہ عمران خان لاکھوں دلوں پر راج کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے ہر عمر کے لوگوں میں ہیں لیکن نوجوان تو سچ مچ ان کے پروانے ہیں۔

پاکستانی سیاست میں لاکھ پارٹیاں اور لیڈر سہی لیکن فی زمانہ یہ گھومتی دو بندوں کے گرد ہی ہے ؛ عمران خان اور نواز شریف۔ اب میرے جیسا بندہ جسے اپنے محلے سے باہر کوئی جانتا تک نہ ہو، وہ لکھے گا تو اس کی توجہ کا مرکز لازماً حکومت ہی ہو گی کہ وہیں سے ہی سارے دکھ ملتے ہیں اور وہیں سے ہی چارہ گری کی توقع کی جا سکتی ہے ، اگرچہ امید ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مرتی جاتی ہے۔

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لادوا نہ تھے

ایک بات یہ بھی کہ ہماری تنقید و توصیف سے کیا فرق پڑتا ہے، سوائے اس کے کہ کچھ دوست ناراض کچھ خوش ہو جاتے ہیں؟ عمران خان پر تنقید اس لئے بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے کہ وہی اس نظام کو تبدیل کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ ڈاکوؤں، چوروں اور لٹیروں کے پیٹ سے اس ملک کے ہڑپ کیے گئے پیسے نکالنے پر کس کافر کو اعتراض ہو سکتا ہے لیکن جب کپتان کے چاروں طرف یہی کردار نظر آئیں تو کوئی کیسے یقین کرے کہ یہ دعوے پرخلوص اور مبنی برحقیقت ہیں؟

سینیٹ الیکشن میں جو ہوا، کیا کسی بھی مہذب معاشرے میں اس کا تصور بھی ممکن ہے۔ ایک سو اسی لوگ جب ایک سو ساٹھ لوگوں کے ساتھ مقابلہ کریں تو کیسے ہار سکتے ہیں؟ یاد رہے کہ مقابلہ کشتی یا پنجہ آزمائی کا نہیں تھا بلکہ ووٹ ڈالنے کا تھا۔ سب نے دیکھا کہ زیادہ عددی قوت رکھنے والی حکومت کم عددی قوت رکھنے والی اپوزیشن سے ہار گئی۔ یہ انتہائی شرمناک اور تشویشناک صورتحال ہے لیکن ذرا یاد کیجیے سینیٹ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی تو ناکام ہوئی تھی جہاں عددی برتری اپوزیشن کو حاصل تھی۔

یہ ہے وہ نظام جس میں ہم سر تا پا دھنسے ہوئے ہیں اور جس کی تبدیلی کا نعرہ لگا کر عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تھا لیکن وہی بات کہ ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد۔ میرے جیسے رسوائے زمانہ جب الیکٹیبلز کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کرتے تھے تو یاران نکتہ داں ہمیں سمجھاتے تھے کہ الیکٹیبلز کو ٹکٹ دینا کپتان کی مجبوری ہے کہ فرشتے کہاں سے لائیں؟ اب بھگتیں اپنے الیکٹیبلز کو۔ ان لوگوں کو پارٹی میں کون لایا تھا؟ ہم جب کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں پر چڑھ کر وزیراعظم تو بنا جا سکتا ہے، تبدیلی نہیں لائی جا سکتی تو ہمیں درس ملتا تھا کہ اوپر لیڈر ٹھیک ہو تو نیچے سب سیدھے ہو جائیں گے، اب کریں سیدھا، کس نے ہاتھ پاؤں باندھے ہیں؟

اس نظام کی لاچارگی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ فیصل واؤڈا جن پر الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی داخل کراتے وقت جھوٹ پر مبنی حلفیہ بیان دینے کا الزام لگ بھگ دو سال سے عدالت میں زیر سماعت تھا، سینیٹ انتخابات کے دن کس طرح اس نظام کی ناک رگڑوا کر صاف نکل گئے۔ واؤڈا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس یہ تھا کہ موصوف نے کاغذات جمع کراتے وقت حلفیہ بیان دیا تھا کہ ان کے پاس دوہری شہریت نہیں ہے جبکہ بعد میں انہوں نے دوہری شہریت ترک کرنے کی درخوست دی تھی۔

تین مارچ کو واؤڈا صاحب اسمبلی آتے ہیں، اپنا ووٹ کاسٹ کر کے استعفا دیتے ہیں، اسی دوران وہ سندھ سے سینیٹر بھی منتخب ہو جاتے ہیں۔ ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد واؤڈا صاحب اپنا استعفا دیتے ہیں اور اس کی ایک کاپی اسلام آباد ہائیکورٹ بھیج دیتے ہیں۔ ہائیکورٹ واؤڈا کے خلاف دو سال سے چلنے والا کیس اس بنیاد پر خارج کر دیتی ہے کہ جن کے خلاف کیس ہے وہ اب عوامی عہدے پر فائز نہیں۔ تین مارچ کو یہ سب کرنا اس لئے ضروری تھا کہ اسی دن انہوں نے قومی اسمبلی سے استعفا دیا تھا اور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹیفیکیشن ابھی جاری نہیں ہوا تھا۔

گویا دو اور چار مارچ کے بیچ تین مارچ ہی وہ مبارک دن تھا جس دن ہائیکورٹ کا فیصلہ آنا ضروری تھا۔ تین مارچ سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد واؤڈا صاحب عوامی عہدے پر فائز تھے اور ہیں لیکن کیس ختم۔ اب کوئی ذی شعور بندہ کس طرح یقین کرے کہ یہ لوگ اس بوسیدہ نظام کی بیخ کنی کر کے حق اور سچ کی بنیاد پر نیا نظام لائیں گے جو کرپشن سے پاک ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج صاحب کو کسی روحانی کشف سے قابو کیا گیا تھا کہ یہ فقید المثال فیصلہ دیں یا پھر انہوں نے خدا ترسی کے جذبے کے تحت واؤڈا صاحب پر رحم کیا؟ یہ کرپشن نہیں تو کرپشن کیا ہوتی ہے؟

مسلم لیگ نواز کی سیاست بھی عجیب ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں برباد ہونے کی فریاد دن رات جاری لیکن درد کا علاج بھی وہیں سے کرنے کی امید پر سیاست جاری رکھے ہوئے ہے۔ میرؔ کا شعر اتنی دفعہ لکھا گیا لیکن قربان جاؤں پاکستانی سیاست کے کہ اس شعر کی تازگی اسی طرح برقرار ہے۔ بیماری کا سبب بننے والے لونڈے سے دوا جاری رکھیے، اس طرح آپ کی سیاست تو شاید شفایاب ہو جائے لیکن اس ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا، خلق خدا اسی طرح رلتی رہے گی۔

پیپلز پارٹی اپنے پتے خوب کھیل رہی ہے۔ زرداری صاحب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ سندھ تک محدود ہونے والی جماعت مرکز میں دوسروں کی لڑائی کا فائدہ کمال مہارت سے حاصل کر رہی ہے۔ زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی نواز شریف اور عمران خان کی لڑائی میں کوئی بھی انتہائی پوزیشن لئے بغیر اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلا رہی ہے۔ عمران خان کی پارلیمنٹ سے ان ہی کو شکست دینا معمولی کام ہرگز نہیں۔ مسلم لیگ نواز اپنی سیٹ ہارنے کے باوجود شادیانے بجانے پر مجبور ہے حالانکہ اس کے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔ طرفہ تماشا یہ کہ ایک سو ساٹھ ووٹوں سے ایک سو اسی ووٹوں کو شکست دینے کے باوجود مسلم لیگ نواز ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگانے سے باز نہیں آئے گی۔ ووٹ کو عزت دو سے شاید اس جماعت کی مراد یہ ہے کہ ووٹ صرف اسی وقت عزت حاصل کرے گا جب اس سے عمران خان کو ہزیمت اٹھانی پڑے۔

کالم بھی پاکستانی سیاست کی طرح بے ربط ہو گیا ہے۔ کیا کریں پاکستانی سیاست پر لکھنا آسان کام نہیں۔ بقول احمد ندیم قاسمی

ہم سیاست سے محبت کا چلن مانگتے ہیں
شب صحرا سے مگر صبح چمن مانگتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply