عورت کے سینے میں دل نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کی سنگ دلی کے مظاہرے ایسے وحشت ناک ہیں کہ انہیں سنانے کے لیے شیر کا جگر درکار ہے۔ ان عورتوں سے کچھ بعید نہیں، نہ جانے کس وقت کیا کر ڈالیں۔ سڑک پر نکلتی ہیں تو بھولے بھالے مردوں کو ایسی ہوس ناک نظروں سے گھورتی ہیں کہ ان بے چاروں کا دل چاہتا ہے زمیں پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ مگر بات گھورنے تک محدود نہیں رہتی، یہ جان بوجھ کر جاتے جاتے مردوں کو کہنی مارنا یا چٹکی کاٹنا اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ مرد لاکھ بچ بچا کر نکلنے کی کوشش کریں پھر بھی یہ اپنا کام کر کے رہتی ہیں۔

شادی شدہ عورت پرائے مردوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسانا اور پھر انہیں دھوکا دینا معمول کی بات سمجھتی ہے لیکن اگر یہی رویہ اس کے خاوند کا ہو تو دنیا بھر کی لعنت و ملامت کے بعد اس کی جان لینا بھی اپنا حق سمجھتی ہے۔ بیٹی کو تو اعلیٰ تعلیم دلائی جاتی ہے، اس کی ہر خواہش پوری کی جاتی ہے، حتیٰ کہ اگر وہ کسی لڑکے کو جھوٹی محبت کے جال میں پھنسا کر اس کا جسمانی استحصال بھی کر دے تو معاملے کو دبا دیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ خیر ہے لڑکی ہے۔ لڑکی جوان ہو جائے تو ایسی باتیں ہو ہی جاتی ہیں جب کہ یہی حرکت لڑکا کرے تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ کم ترین سزا تو یہ ہے کہ اس کے خوابوں اور ارمانوں کا گلا گھونٹ کر اس کی فوراً شادی کر دی جاتی ہے بصورت دیگر اسی کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔

ایک مرد کے لیے نوکری کرنا کس قدر مشکل ہے اس کا اندازہ فقط مرد ہی لگا سکتے ہیں۔ جس دفتر میں جائیں وہاں عورتیں زہریلی ناگنوں کی طرح ڈسنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہیں۔ مرد کی حالت بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے ایک معصوم کبوتر کی باز کے اس پر جھپٹنے سے چند سیکنڈ پہلے ہوتی ہے۔

مردوں کا جائیداد میں حصہ بھی یہ سنگدل عورتیں کھا جاتی ہیں۔ کچھ جذباتی تقریریں کر کے بیٹوں کو ان کے حق سے دستبردار کروا لیتی ہیں اور کچھ محض اس لیے ان کی عمر بھر شادی نہیں کرواتیں کہ جائیداد میں حصہ نہ دینا پڑے۔ اگر کوئی بیٹا اپنی پسند سے شادی کرنا چاہے تو گویا قیامت آ جاتی ہے۔ اسے جی بھر کر گالیاں اور بد دعائیں دی جاتی ہیں، مارا پیٹا جاتا ہے اور بعض اوقات غیرت کا بہانہ بنا کر مار ڈالا جاتا ہے۔

خود تو یہ عورتیں جب دل چاہتا ہے جیسے مرضی کپڑے پہن کر باہر نکل جاتی ہیں لیکن مردوں کے کپڑوں پر گہری نگاہ رکھتی ہیں۔ چاہے جون کی گرمی ہو مردوں کو ہلکا پھلکا لباس پہننے کی قطعاً اجازت نہیں دی جاتی۔ بھاری بھرکم کپڑوں کی کئی تہوں کے اوپر برقع پہننا بھی لازم ہے اور جو مرد ایسا نہ کرے اسے بے حیا، بے شرم، فحاشی کا علم بردار اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر خوب بے عزت کیا جاتا ہے۔ شریف مرد تو ایسی باتیں سن کر توبہ کر لیتے ہیں کہ آئندہ چاہے گرمی اور حبس سے ان کی روح جسم سے نکل جائے لیکن وہ گھر سے باہر نہیں نکلیں گے۔

جب کسی مرد کی شادی ہوتی ہے تو وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر عورت کے گھر جاتا ہے۔ یہاں سے ایک نئی داستان شروع ہوتی ہے۔ اگر وہ مرد روپیہ پیسا اور قیمتی ساز و سامان کے بغیر رخصت ہو کر آ گیا تو طعنوں سے اس کی زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے۔ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا لالچی خاندانوں میں مرد پر تشدد بھی معمول بن جاتا ہے، اسے ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس ایذا رسانی کا سلسلہ لامتناہی ہوتا ہے۔ کئی مرد تنگ آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جوانی میں ہی قبرستانوں کی خاک ہو جاتے ہیں۔

عورتیں مردوں کی نہ عمر دیکھتی ہیں نہ رشتہ، بس ہر وقت انہیں پامال کرنے کا موقع دیکھتی ہیں۔ مرد خواہ چار سال کا ہو یا اسی سال کا یہ عورتیں موقع ملتے ہی اس کا ریپ کرنے سے نہیں ہچکچاتیں۔ حد تو یہ ہے قبروں میں سکون ڈھونڈنے والے مردوں کو قبر سے نکال کر ان کا ریپ کرتی ہیں۔ مرد جائے تو کہاں جائے؟

یہ مظلوم مرد اگر طلاق کا مطالبہ کریں تو اسے عورت کی عزت پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ عورتیں طلاق کے مطالبے کو ذاتی توہین سمجھتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ایسا مرد نشان عبرت بن جائے۔ ایسے مرد سے پھر کوئی عورت شادی کرنے کو آسانی سے تیار نہیں ہوتی۔ ایسے مردوں سے ایسی عمر رسیدہ عورتیں ہی تیار ہوتی ہیں جن کو ایسے مردوں سے کوئی ذاتی مفاد ہوتا ہے۔

اس کے باوجود اسی معاشرے میں ایسے مرد بھی موجود ہیں جو عورت کو بھی انسان سمجھتے ہیں اور خود کو بھی۔ ایسے مرد پلے کارڈز وغیرہ اٹھا کر سال میں ایک بار مارچ کرنے نکلیں تو عورتوں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ مرد مارچ کرنے والے مردوں کو جی بھر کر کوسا جاتا ہے، گالیاں دی جاتی ہیں، ان کو فحاشی اور عریانی کے نمونے قرار دیا جاتا ہے۔ غرض ان کی خوب مٹی پلید کی جاتی ہے تا کہ وہ تھک ہار کر گھر بیٹھ جائیں اور دوبارہ کبھی ایسا خواب مت دیکھیں کہ انہیں بھی عورتوں کے برابر انسان سمجھا جائے گا۔ ایسی سنگدلی کے مظاہرے پر فقط یہی کہا جا سکتا ہے کہ عورت کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *