سینیٹ الیکشن اور ضمیر کے قیدی
پاکستان کی مروجہ سیاست نہ تو نظریاتی سیاست ہے اور نہ ہی کسی اصول و ضابطے کو خاطر میں لاتی ہے۔ انفرادی حیثیت سے لے کر پارٹی کی سیاست تک تمام تر فیصلے وقتی اور ذاتی مفادات کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ چھانگا مانگا کے جنگل میں قید ضمیر کے قیدیوں میں اور یکم اگست 2019 کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی میں کردار ادا کرنے والے ضمیر کے قیدیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے کے مصداق حالیہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی پالیسی کی زنجیروں میں جکڑے ضمیر کے قیدیوں نے روایت کو قائم رکھا اور اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کو کامیاب کرا دیا۔
کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر یہ ادھوری بات ہے۔ مکمل بات یہ ہے کہ صرف دل ہی نہیں بلکہ ناک، آنکھیں اور کان بھی نہیں ہوتے۔ سیاست کرنے والے وقت آنے پر نہ تو کسی تعلق کو دیکھتے ہیں نہ ہی اپنے ضمیر کی آواز پر کان دھرتے ہیں۔ اس کی واضح دلیل وزیراعظم عمران خان کو پڑنے والے اعتماد کے ووٹوں کی تعداد ہے۔ وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لے لیا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ سینیٹ میں حکومتی اتحادیوں کے سینیٹرز کی تعداد اپوزیشن کے سینیٹرز سے کم ہے، اپنے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا۔ جو سوال یوسف رضا گیلانی سے حکومت کر رہی تھی کہ ووٹ نہ ہونے کے باوجود وہ کیسے منتخب ہو گئے تو یہی سوال حکومت سے بھی تو بنتا ہے کہ سینیٹ میں نمبرز گیم پوری نہ ہونے کے باوجود وہ چیئرمین سینیٹ کی کامیابی کے لیے پرامید کیسے ہیں؟
اس کا جواب شاید حکومت اور اپوزیشن میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ اور اگر جواب ہو بھی تو حکومت کے لیے جواب دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ وہ ایک صفحے پر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صادق سنجرانی کا ببانگ دہل اعلان کیا گیا ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اپنے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی حمایت سے باز آ جائیں اور صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بننے دیں۔ اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو یوسف رضا گیلانی نااہل بھی ہو سکتے ہیں۔
تاہم پی ڈی ایم نے سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار نامزد کر دیا اور اس کے بعد ایک نجی کمپنی کے مالک سمیر حسین میڈیا پر آئے اور سید یوسف رضا گیلانی پر 2010 میں ایل این جی ٹھیکہ دلوانے کے عوض 63 کروڑ روپے لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مبینہ رقم کی واپسی اور سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا مطالبہ کر دیا۔
ہو سکتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کی مبینہ کرپشن کے خلاف قانون فوری طور پر حرکت میں آ جائے اور متاثرہ شخص کی داد رسی ہو جائے اور یوسف رضا گیلانی نااہل ہو جائیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سب قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوں اور یوسف رضا گیلانی الیکشن لڑیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوران الیکشن کچھ ضمیر کے قیدیوں کے ضمیر جاگ جائیں اور سینیٹ میں اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو جائے اور صادق سنجرانی ہی کامیاب ہو جائیں۔ بالفرض سید یوسف رضا گیلانی کامیاب ہو جاتے ہیں تو معاملات بند گلی میں پہنچ جائیں گے اور پھر شاید پوری بساط ہی لپیٹنی پڑ جائے۔ لہٰذا بساط نہیں لپیٹنی بلکہ سسٹم کو کسی نہ کسی طرح چلانا ہے اور جب تک سیاست میں ضمیر کے قیدی موجود ہیں یہ سسٹم چلتا رہے گا۔
رہی بات سینیٹ الیکشن میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تو پی ڈی ایم نے کسی امیدوار کا اعلان نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق ایسا بلاول بھٹو زرداری کی خواہش پر کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن سے مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں کوئی حکومتی اتحادی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اتحاد کو چھوڑ دے اور اپوزیشن کی طرف سے امیدوار بن جائے۔ اس لیے آئندہ ایک سے دو روز اپوزیشن کی طرف سے کوئی سرپرائز نام آ جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ سرپرائز معنوی اعتبار سے حقیقی سرپرائز ہو گا اور حکومت کے لیے یہ سرپرائز کسی دھچکے سے کم نہیں ہو گا۔
ویسے سرپرائز تو وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ روز دیا ہے۔ سردار عثمان خان بزدار نجی دورے پر ملتان آئے ہوئے تھے کہ ایک ہی رات میں ملتان کی ٹاپ بیوروکریسی کو نہ صرف معطل کیا بلکہ آبائی شہر تونسہ شریف اور ڈیرہ غازی خان میں بھی افسران کی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معطلی اور ٹرانسفر کے احکامات جاری کیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے جارحانہ اقدامات دیر سے سہی مگر درست ہیں۔ بہت پہلے یہ ہونا چاہیے تھا کم سے کم عوام کو تو ریلیف ملتا۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب کے دوروں کا سلسلہ جاری رہا تو معاملات نسبتاً بہتری کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدارکو سرپرائز وزٹ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔
رہی بات پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی تو اس کی تاریخ کافی پہلے سے دی گئی ہے۔ 26 مارچ کو حکومت کے خلاف مہنگائی مارچ ہوگا۔ تاہم اس بات کا فیصلہ نہیں ہو پایا کہ مارچ کا رخ جڑواں شہروں میں سے کس شہر کی طرف ہو گا۔ میرا اندازہ ہے کہ اگر سینیٹ الیکشن میں ممبران کے ضمیر نہ جاگے اور اپوزیشن اپنا چیئرمین سینیٹ کامیاب کرا گئی تو لانگ مارچ کی منزل ڈی چوک ہو گا۔ جبکہ سینیٹ الیکشن کے نتائج اگر اس کے برعکس ہوئے تو ردعمل کے طور پر منزل راولپنڈی بھی ہو سکتی ہے۔


