آئین و حلف کی پاسداری اور مشکوک اعتماد


رواں سال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج حکمران جماعت کے لئے ناخوشگوار رہے جبکہ ڈسکہ کا انتخابی معرکہ انتخابی شکست سے زیادہ اثرات کا حامل رہا۔ جہاں انتخابی عملے کی گمشدگی نے برسراقتدار جماعت کے متعلق اپنائی گئیں خوش فہمیاں پوری طرح رفع کر دیں۔ حکومت اس انتخاب کے بعد الیکشن کمیشن سے جس برے انداز میں الجھ گئی ہے، اس کا دوسرا منظر سینیٹ کے انتخاب میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار جناب یوسف رضا گیلانی کی فتح کے برعکس ’پی ٹی آئی ایم ایف‘ کے مشترکہ امیدوار جناب حفیظ شیخ کی ہار کے بعد وزیراعظم کے ردعمل کی صورت میں ابھر کر سامنے آیا۔

حکومت نے سینیٹ انتخابات کا طے شدہ آئینی طریقہ کار بدلنے کی کوششیں کیں پارلیمان میں ترمیمی مسودہ پیش کیا تو مطلوبہ تعداد میں ارکان پورے نہ ہونے کی بناء پر سیاسی تدبر کا تقاضا تھا کہ حزب اقتدار حزب اختلاف کے ساتھ گفت و شنید کر کے باہمی اتفاق رائے پیدا کر کے آئینی ترامیم منظور کراتی۔ لیکن حکومت کے سینئر سیاست دان مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایوان میں برملا اعتراف کر لیا کہ ”حکومت نے آئینی ترامیم کا مسودہ پیش کر کے حزب اختلاف کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ ترمیم منظور کرانے کے لیے مطلوب عددی قوت تو ہمارے پاس تھی ہی نہیں“

جناب شاہ محمود قریشی سمیت پوری حکومتی ٹیم کا جو بعد ازاں اپوزیشن کو ہدف تنقید بناتی رہی، کا اشارہ میثاق جمہوریت کی ایک شق کی طرف تھا جس پر مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے بالاتفاق دستخط کیے تھے۔ طے کیا تھا کہ سینیٹ کے انتخابی طریق کار کو شو آف ہینڈ سے بدلیں گے۔ میثاق جمہوریت محض اس ایک شق کا نام تو نہیں تھا۔ المیہ ہے کہ حکمران جماعت نے اس اس پہلو کو بری طرح نظرانداز کیے رکھا ہے۔

میثاق جمہوریت تو ایک بڑا سیاسی پیکیج ہے، حکومت جس طرح میثاق جمہوریت سے انحراف کے طعنے دیتی رہی ہے، اس سے تاثر ابھرا کہ شاید پی ٹی آئی نے بھی میثاق جمہوریت کو من حیث المجموع قبول کر لیا ہے۔ ظاہر ہے معاملہ یوں نہیں ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر حکومت انتخابی عمل کو شفافیت کے نام پر خفیہ رائے شماری کے طریقہ کار کو بدلنا چاہتی ہے تو اسے میثاق جمہوریت کی تمام شقوں پر مشتمل آئینی ترامیم کا مسودہ پارلیمان میں لانا چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔

جناب شاہ محمود قریشی کے محولہ بالا اعتراف سے درحقیقت آئین کے احترام و بالادستی بارے حکومتی سوچ عزائم اور رویے کی کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ گئی تھی، پھر بھی حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے ذریعے خفیہ رائے شماری ختم کرانے کی کوشش کی مگر عدالت کی رائے کا انتظار کیے بغیر ایک صدارتی فرمان جاری کر دیا جسے مشروط طور پر نافذ العمل ہونا تھا۔ عدلیہ نے صدارتی فرمان کو رد کر دیا۔ تاہم ریفرنس کی سماعت میں غیر ضروری طوالت پانی میں مدھانی چلانے کے مترادف رہی۔

سپریم کورٹ نے وفاقی الیکشن کمیشن سے رائے طلب کی، چیف الیکشن کمشنر نے آئین کی دفعہ 226 کی موجودگی میں سینیٹ انتخاب کا طریقہ بدلنے سے انکار کر دیا۔ یہ موقف آئین کے عین مطابق تھا جس کی بعد ازاں سپریم کورٹ نے ریفرنس پر اپنی رائے دیتے ہوئے توثیق کر دی تھی لیکن ناقابل فہم بات یہ ہے کہ سینیٹ میں جناب حفیظ شیخ کی شکست کے بعد وزیراعظم نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اس کردار شدید تنقید کی۔ جس کے تین پہلو تھے۔

ان کا فرمانا تھا کہ ”اپوزیشن کی جیت میں کرپشن ہوئی ہے، یہ کہ ان کی پارٹی کے ارکان کو پیسے کے بل بوتے پر منحرف کیا گیا تھا۔ اگر الیکشن کمیشن بیلٹ پر بار کوڈ لگا لیتا تو آج ہمیں اپنے ارکان کو شناخت کرنے میں سہولت ہو جاتی۔“

وزیراعظم کی تنقید کا وہ پہلو زیادہ بھیانک تھا جب انہوں نے چیف کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ”مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ نے کس بنیاد پر خفیہ رائے شماری کی حمایت کی؟ کیا کوئی قانون بدعنوانی کی اجازت دیتا ہے؟“

وزیراعظم نے الیکشن کمیشن پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونے کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہا کہ
” جمہوریت کو نقصان ہوا ہے نیز ہمارے بکنے والے 16 ارکان کو بھی بچا لیا گیا ہے۔“

وزیراعظم تنقید کرتے ہوئے جوش خطابت میں بھول گئے کہ اسی خفیہ رائے شماری کے طریقہ کار کے ذریعے ان کی نامزد خاتون امیدوار محترمہ فوزیہ زیادہ ووٹ لے کر جیت چکی ہیں۔ طرفہ تماشا ہے کہ تین روز بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل اپنے انہی بکے ہوئے 16 ارکان کو معاف فرما دیا تاکہ وہ اعتماد کے لیے وزیراعظم کو ووٹ دیں۔ یوں وہ قومی اسمبلی سے 178 ارکان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ 178 رائے دہندگان میں وہ 16 ارکان اسمبلی بھی شامل تھے جو بقول وزیراعظم پیسہ لے کر اپنا ووٹ اور ضمیر بیچ چکے تھے اور آئین کی شق 63 کے مطابق صادق و امین نہیں رہے تھے، کیا یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ وزیراعظم پر ان ارکان نے بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے جو ضمیر فروشی کے ذریعے اسمبلی کے رکن رہنے کا حق کھو چکے تھے؟

چیف الیکشن کمشنر کا موقف آئین کے عین مطابق تھا، جس پر عمل کرنے کی پاداش میں وزیراعظم نے برہمی کا اظہار کیا حالانکہ وزیراعظم نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے، آئین پاکستان کی شق ( 5 ) 91 میں وزیراعظم کے حلف نامہ کے الفاظ ہیں :

” کہ بحیثیت وزیراعظم پاکستان میں اپنے فرائض و کار ہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق انجام دوں گا، میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ کروں گا“

آئین کی شق 226 جس کا بہت ذکر ہو چکا ہے، مکرر نقل کرنا چاہوں گا تاکہ بات واضح ہو سکے کہ آیا الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخاب میں آئین پر عمل کیا ہے یا انحراف۔ نیز یہ کہ وزیراعظم کی تنقید آئین کی روح سے مطابقت رکھتی ہے یا اس سے آئینی انحراف کا سوال ابھرتا ہے؟

شق 226 ”تمام الیکشن آئین کے ماتحت ماسوائے وزیراعظم یا وزرائے اعلیٰ ہوں گے بذریعہ خفیہ رائے شماری“

میرا سوال یہ ہے کہ آئین میں طے کیے گئے طریقہ انتخاب پر عمل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پاکستان نے سینیٹ کے جو انتخابات کرائے ہیں اس پر وزیراعظم کی تنقید سے کیا خود وزیراعظم اپنے حلف کی پاسداری نہ کرنے کے مرتکب نہیں ہو گئے؟

علاوہ ازیں کیا آئین و قانون کو سمجھنے میں بھی انہوں نے اپنی ”انتہائی صلاحیت“ کی عدم موجودگی کا اعتراف نہیں کیا؟ اس نا اہلی کا اظہار صدارتی ریفرنس اور صدارتی فرمان کے اجراء کی سمری بھجواتے ہوئے بھی ہو چکا ہے۔

کیا وزیراعظم ان ارکان کو جو بقول ان کے بک گئے تھے معاف کرنے کا قانونی اختیار رکھتے ہیں؟ کیا یہ بدنام زمانہ این آر او نہیں جو انہوں نے اپنے ”بکاؤ“ ارکان اسمبلی کو عطا فرمایا ہے؟

زیادہ مناسب ہوتا اگر وہ معافی کا اعلان کرنے سے قبل الیکشن کمیشن سے بھی معذرت کرتے۔ میرے خیال میں گو کہ وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کے بعد آئینی طور پر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے کے اہل نہیں رہے تاہم المیہ یہی ہے کہ مملکت پاکستان ایک آئینی ریاست ہے مگر یہاں آئین کی پاسداری کا شدید قحط جبکہ پامالی کی روایت بہت توانا ہے۔

سوال یہ ہے کہ نئی صورتحال میں جبکہ جناب عمران خان قومی اسمبلی سے 178 ارکان (مشکوک ) کا اعتماد حاصل کر چکے ہیں، اگر الیکشن کمیشن سینیٹ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی از خود تحقیقات شروع کرے تو کیا جناب وزیراعظم الیکشن کمیشن کو اپنے ان سولہ ارکان کے نام بتانا پسند کریں گے؟ جو بکاؤ تھے وزیراعظم انہیں اس جرم پر معافی بھی دے چکے، معافی دینے کا واضح مطلب ہے کہ وہ ان 16 ارکان کے ناموں سے آگاہ ہیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان مذکورہ 16 ارکان کی نشاندہی کا حکم دے تاکہ انہیں ان کی نشستوں سے فارغ کیا جا سکے تو وزیراعظم ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ارکان کا تحفظ کریں گے؟ یا الیکشن کمیشن کا ساتھ دیں گے تاکہ اپنے مبینہ بکاؤ ارکان پر لگائے اپنے الزام پر کارروائی کی حمایت کریں گے؟

ایسا نہ ہوا تو ہارس ٹریڈنگ کا الزام بے معنی ہی رہے گا۔ ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ پیسے دے کر سینیٹر منتخب ہونے والے جناب گیلانی اہل نہیں رہے تو کیا پیسے لے کر ووٹ بیچنے والے اہل قرار دیے جا سکتے ہیں؟

اس سوال کے درست جواب کا نتیجہ وہی نکلے گا پی ڈی ایم جس کے لیے برسرپیکار ہے۔ جناب گیلانی نا اہل ہوئے تو حکومت بھی گر جائے گی۔ کیا اپوزیشن یہی نہیں چاہتی؟ حکومت بچانے کی کوشش میں جناب عمران خان کی آئینی سیاسی اخلاقی ساکھ داؤ پر لگ جائے گی۔ ویسے جناب شیخ تو برادر سلیم صافی کے روبرو فرما گئے ہیں کہ 16 ارکان کے خلاف کارروائی کر کے ہم اپنی حکومت گرانا کیوں پسند کریں گے۔

ملکی سیاسی صورتحال کا منظر نامہ اس صورت ابھرا ہے کہ 25 جولائی 2018 ء کا بنایا گیا ہائیبرڈ سیاسی نظام ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ اس کے انہدام کا عمل رواں ہے۔ دریں حالات جناب یوسف رضا گیلانی کا چیئرمین سینیٹ منتخب ہونا اس بات کی تائید ہو گی کہ کارخانہ ہائیبرڈ نظام اپنے تشکیلی نظام کی ناکامی تسلیم کرنے جا رہا ہے، بصورت دیگر جناب گیلانی چیئرمین نہیں بن پائیں گے، یوں ہائیبرڈ نظام کا تسلسل برقرار رہے گا۔ کیا اس تسلسل سے ملک میں سیاسی استحکام آنے کا ذرا سا بھی امکان ہے؟

کیا سیاسی استحکام لائے بغیر معاشی ترقی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہو گا؟ کیا غیر مستحکم سیاسی نظم حکومت کی موجودگی میں دنیا کے ممالک اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان پر اعتماد کر پائیں گے؟ اگر ان سوالوں کے جوابات مثبت نہیں۔ اور پھر بھی ہائیبرڈ سیاسی ڈھانچہ برقرار رکھنے پر اصرار کیا جائے گا تو اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان میں مہنگائی کے جن پر قابو پانے کے لئے ہمارا ریاستی عزم مفقود ہے۔ عوام کی معاشی بہتری کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی رت ابھی بہت دور ہے۔ بے روزگاری، سماجی جرائم، معاشی استحصال اور افلاس کا بھوت ہمارے سروں سے ٹلنے والا نہیں۔ ابھی سیاہ شب میں کمی کا فوری امکان نہیں

پس نوشت:
کیا جناب عمران خان کی الیکشن کمیشن پر جارحانہ تنقید محض سینیٹ انتخاب کی بنا پر ہے؟

بظاہر یہی لگتا ہے لیکن عمیق غور کیا جائے تو اس تنقید کے مقاصد میں الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ پر فیصلے سے گریز کرے، کیس التوا میں رکھے اور اگر پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ آئے تو پہلے سے ہی ایسی فضا بنا لی جائے جس میں الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کرنا سہل ہو سکے۔

Facebook Comments HS