پنجابیوں نے پنجابی زبان سے بے اعتنائی کیوں برتی؟


21 فروری 1952 کو ڈھاکہ کی سڑکوں پر لسانی فسادات نے جس نئی ریاست کی بنیاد رکھ دی، وہ کبھی مشرقی پاکستان تھا اور آج بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ 1947 میں برطانوی نو آبادیاتی حکمران برصغیر سے واپسی پر دو ایسی قوموں کے ساتھ پاکستان کی بنیاد رکھ کر گئے جن کی نہ صرف زبانیں الگ تھیں بلکہ وہ ثقافتی طور پر بھی یکساں نہیں تھے۔ ایسے میں نطریاتی اختلافات ہونا ایک فطری عمل تھا۔

21 فروری کو پیش آنے والا واقعہ اس تصادم کا حتمی اور ناگزیر اظہار تھا۔ تو گویا اس ہولناک واقعے کی بنیاد دونوں ممالک کی تشکیل سے پہلے ہی رکھی جا چکی تھی۔ عبدالمتین اور احمد رفیق نے اپنی کتاب ’’لینگویج موومنٹ ہسٹری اینڈ سگنیفیکنس‘‘ یعنی ’تحریک زبان، تاریخ اور اہمیت‘ میں لکھا:

’اولین مشکل تو ادب اور ثقافت تک محدود تھی۔ باوجود اس کے کہ آبادی کی اکثریت بنگلہ بولنے والوں کی تھی، پاکستان کے قیام کے چند ماہ بعد ہی بنگلہ کو ڈاک کے ٹکٹوں، سکوں، ریل کے ٹکٹوں اور پوسٹ کارڈز سے ہٹا دیا گیا۔ تمام نقوش اردو اور انگریزی میں چھاپے گئے۔ یہ پہلا جھٹکا تھا اور بنگالیوں کے دلوں میں عدم اعتماد کا وہ بیج تھا جو تناور درخت بن گیا اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ اردو ان پر مسلط کی جا رہی ہے جو کہ ان کی مادری زبان سے بالکل مختلف ہے۔ سب سے پہلے مصنفین اور صحافیوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اس وقت کے مقبول اخبار ’ملت‘ نے اداریہ شائع کیا جس میں لکھا تھا ’اپنی مادری زبان کے بجائے کسی دوسری زبان کو سرکاری زبان کے طور پر قبول کرنا غلامی کے مترادف ہے۔‘

بنگالی تو اردو سے بغاوت کر گئے مگر ہم پر یہ بدستور مسلط ہی ہے، ہم تو پنجاب میں پیدا ہو کر بھی پنجابی بولنے والے نہیں رہے کیونکہ ہماری ماؤں نے ہمارے ساتھ ہمیشہ اردو زبان میں بات کی۔ نتیجتاً میں پنجابی سمجھ اور بول تو سکتی ہوں مگر پڑھ اور لکھ ہرگز نہیں سکتی لہٰذا گزشتہ فروری کو منایا گیا ”ماں بولی دیہاڑ“ میرے لیے تو سراسر تشویش کا باعث تھا، جس کے شرکاء پنجابی کو نصابی تعلیم کا حصہ بنانا چاہ رہے تھے اور میں سوچتی ہوں کہ ان کو یہ خیال اتنی دیر سے کیوں آیا۔ ان کو اردو اور انگریزی زبان سے بہت پہلے جان چھڑا لینی چاہیے تھی یا پھر اس کو اپنی ثقافت کا حصہ سمجھ کر اپنا لینا چاہیے۔ یہ جو ہر معاملے میں تذبذب کا شکار ہو جانے کا رویہ ہم اختیار کر لیتے ہیں وہ منافقانہ ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے جس کی وجہ سے ہم آگے نہیں بڑھ پاتے۔

پنجابی زبان سے دوری ایک دم تو عمل میں نہیں آئی ہوگی، ظاہر ہے زبان سے رشتہ بھی تو ضرورت کے ساتھ ہی برقرار رہتا ہے، اگر اس کی ضرورت ختم ہو جائے تو استعمال کم ہونے کی وجہ سے اس کا استحصال ہوتا ہے۔ جب ایک شخص کسی دوسرے ملک میں روزگار کے سلسلے میں جاتا ہے تو وہ خود کو وہاں کی زبان اور تہذیب میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیز اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب انگلینڈ جا کر کوئی انگریزی میں ہی بات کرے گا اور اس طرح اپنی مادری زبان میں کم بات کرنے کی وجہ سے اپنی زبان کی باریکیاں بھولتا جائے گا۔

برطانیہ میں ایسیکس یونیورسٹی کی ماہر لسانیات مونیکا شمڈ کہتی ہیں کہ جیسے ہی آپ دوسری زبان سیکھتے ہیں اس کا آپ کی مادری زبان سے مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور پنجابی تو کیا ہی مقابلہ کرتی کہ اس کے بولنے والے خود اس کے ساتھ وفا نہ کر سکے اور اپنے بچوں میں منتقل ہی نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں جس زبان نے بھی عروج حاصل کیا ، اس کی بنیادی وجہ اس معاشرے میں سائنسی، فنی، صنعتی اور ادبی ترقی ہے جو دوسری قوموں کو اس زبان کے تابع کرتی ہے۔

کیونکہ سائنسی تحقیق، ایجادات صنعتی پیداوار اور ادب کی ترسیل کسی بھی زبان کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ اگر اس کے بولنے والے ان پڑھ، بے ادب اور بے شعور ہوں گے تو زبان خاک ترقی کرے گی۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ آپ پنجابی بلکہ کسی بھی دیسی لباس میں ملبوس اپنے ہم وطنوں کو دیکھ کر ان سے اپنائیت محسوس کرنے کی بجائے ان پر ہنسنے لگتے ہیں اور زبانوں کے دن پر ماں بولی کے بینرز اٹھا کر اس کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو مجھ جیسے نوجوان یہ کہنے میں حق بجانب ہیں۔

ماں بولی جے گئ آ نی مائیں
مر جاواں گی تھاں نی مائیں

Facebook Comments HS