صورتِ خورشید جینے والے


تحریر: سلیم رضا ٹھاکر

ترجمہ: صفوراً چوہدری

علامہ محمد اقبال نے بے شمار سبق پڑھائے اور ہم نے علامہ صاحب کے سارے سبق یاد کرنے کی بجائے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق سبق یاد کر لیے ہیں۔ مثلاً ”ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے“۔ یہ سبق ہمارے چند بھائیوں نے یاد کر لیا اور اس کی مدد سے ستر سال دستار و جبہ اوڑھ کے بڑے ٹھاٹھ سے گزار لیے۔ جب کبھی پاکستان کے باہر بندہ مر جائے تو وہ ایک شور برپا کر دیتے ہیں کہ بھاگو، بھاگو، مدد کرو، مدد کرو، چندہ، جہاد، چندہ، جہاد۔

جذباتی تقریروں سے لوگوں کی جیبیں ٹٹولتے ہیں جبکہ پاکستان میں مرنے والے ان کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں۔ اور وہ جو شعر ہے ناں جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا، وہ دہشت گرد بھائیوں نے یاد کر لیا ہے اور اپنی عقابی نظروں سے اپنے شکاروں کو چننا شروع کر دیا۔ پھر کہنا پڑتا ہے زمین اور عقاب کھا گئے آسماں کیسے کیسے۔

’میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے‘ والا شعر گداگروں نے یاد کر لیا ہے اور جب بھی کسی سڑک پر کہیں تھوڑا سا گڑھا پڑ جائے وہاں محکمہ شاہرات بجری ملا تارکول بھیجنے کی بجائے ایک فقیر بھیج دیتا ہے۔

یہاں فقیروں عقابوں اور دستار کی بات تو یونہی آ گئی۔ یہاں میں اقبال کے ایک دوسرے سبق کا ذکر کرنے لگا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ”جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں“ علامہ صاحب نے اہل ایمان کے اِدھر اور اُدھر ڈوبنے نکلنے کی جو بات بتائی ہے وہ ہمارے سیاست دانوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ ایمان کی اس نشانی کے مطابق بے ایمان سیاست دان آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ سیاست دان اپنے ایماندار ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ہی ایک جگہ ڈوبتے اور دوسری جگہ نکلتے ہیں۔ مثال حالیہ سینٹ الیکشن ہے۔

اس ڈوبنے نکلنے میں سیاست دان عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ خاتون سیاست دان نے پارٹی بدلی تو پھر اس پارٹی کی ’نیشنلٹی‘ لینے کی غرض سے پارٹی چیئرمین سے شادی رچا لی۔ یہ خواتین بہت عقل و فہم رکھتی ہیں۔ سب کچھ سنبھال کے رکھتی ہیں یہاں تک کہ ایس ایم ایس بھی سنبھال کے رکھتی ہیں۔ وہ اس لیے کہ جب دوسری پارٹی میں طلوع ہونا چاہیں تو وہ ایس ایم ایس سابقہ پارٹی کو بدنام کرنے کے کام آئیں۔

سیاست دانوں کے طلوع و غروب کے ساتھ ایک اور بات یاد آ گئی۔ زمینداروں کی کچھ بھینسیں، بھینسوں کے بچے اور بچھڑے مالک کے پیچھے پیچھے چلنے کے عادی ہوتے ہیں۔ پھر جدھر وہ مالک جائے، ادھر وہ اس کے پیچھے جاتے ہیں۔ کچھ ووٹر بھی بھینسوں، بھینسوں کے بچوں اور بچھڑوں کی طرح ہیں۔ علامہ صاحب کی بتائی ہوئی ایمانی صفت پوری کرنے کے لیے سیاست دان جدھر بھی جائیں یہ بھی اِدھر اُدھر ہی جاتے ہیں بچھڑوں، کٹوں اور کٹیوں کی مانند۔

Comments - User is solely responsible for his/her words