حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی ختم ہو سکے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیز اعظم عمران خان کے وزیر و مشیر پی ڈی ایم کو طعنوں کے نشتر مار رہے تھے ۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ ہوش سے نہیں جوش سے کام لیتی ہوئی پی ڈی ایم ضمنی اور سینیٹ کے الیکشن میں حصہ نہ لے اور یہ میدان اس کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے۔ شاید کچھ لوگ اس بات سے اتفاق نہ کریں مگر حقیقت یہی تھی۔ حکومت نے کوشش کی کہ سینیٹ کے الیکشن خفیہ بیلٹ بکس سے نہ ہوں بلکہ اوپن رائے شماری سے ہوں جس کے لئے اس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

مگر سپریم کورٹ نے 226 ایکٹ کے مطابق خفیہ بلیٹ باکس کو ہی ترجیح دی۔ اس دوران ووٹ کی خریدو فروخت کے کئی سکینڈل سامنے آئے۔ یوسف رضا گیلانی جو جنرل سیٹ کے لئے پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار تھے۔ وہ اپنے دعوے کے مطابق جیت گئے۔ ان کی جیت حکومت کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا۔ حکومت چلا اٹھی کہ ووٹرز کی بہت بڑی خرید و فروخت ہوئی ہے۔ یوسف رضا گیلانی سزا یافتہ ہیں وہ سینیٹر نہیں بن سکتے۔ مگر الیکشن کمیشن نے ان کی جیت کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

اپوزیشن نے مطالبہ کر دیا کہ وزیراعظم اپنے قول کے مطابق مستعفیٰ ہو جائیں۔ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے تمام ہونے والے الیکشن جیت لئے حتی کہ پشتونخواہ جو پی ٹی آئی کا گھر ہے وہاں پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ماسوائے ڈسکہ حلقہ نمبر 75 حکومت کی کوششوں کے باوجود الیکشن کمشنر نے حلقہ 75 کے الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ مگر حکومت نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے کہ ان ضمنی الیکشن میں اپوزیشن کی بڑی فتح تھی۔

سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کے فوراً بعد صدر نے وزیر اعظم کو لکھا کہ وہ اسمبلی ممبران کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے بڑی عجلت میں اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے فوراً قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کر دیا اور اپنی حلیف جماعتوں کے ممبران کو ایک جگہ اکٹھا رکھا تاکہ کوئی ان سے رابطہ نہ کرپائے اور اگلے ہی دن اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا۔ جس میں پی ڈی ایم نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ وزیراعظم نے 178 ووٹ حاصل کیے ۔

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد جس طرح وزیراعظم عمران خان نے اشتعال انگیز تقریر کی اور نواز شریف، آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور مولانا فضل الرحمان اور دیگر کو جن خطابات سے نوازا۔ وہ تاریخ کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مزید تلخ پیغام دیا کہ انہیں اپوزیشن کی کوئی ضرورت نہیں۔ حالانکہ حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ اسے اپوزیشن کی ضرورت نہ پڑے۔ کیونکہ حکومت تنہا قانون سازی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

پچھلے اڑھائی سالوں میں حکومت تنہا کوئی بھی قانون پاس نہیں کر سکی۔ ان رویوں کی وجہ سے نقصان براہ راست عوام ہی کا ہوا ہے۔ جنہیں مزید غربت کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ اسی روز پی ٹی آئی کارکنوں نے مسلم لیگ نون کے سنیئر رہنماؤں سے جس بداخلاقی کا مظاہرہ کیا، یہ ان کی دوسری بڑی غلطی تھی۔ ان تلخ رویوں کے بعد کیا پی ٹی آئی مسلم لیگ نون کے کارکنوں سے کوئی اچھی توقع رکھ سکتی ہے۔ اس واقعے کے فوراً بعد مریم نواز نے بھی اپنی تقریر میں واضح کر دیا کہ اس بدتمیزی کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

وزیراعظم کے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے دوران اسمبلی سے باہر ریڈ زون میں اپوزیشن کی مریم اورنگزیب اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نہایت بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ اب تو لگتا ہے کہ بدتمیزی کا کلچر فروغ پانے لگا ہے۔ کہنا یہ تھا کہ کاروبار زندگی ہو یا حکومتیں ، یہ عقل و فہم سے چلتے ہیں۔ مجرم دوچار تو ہو سکتے ہیں۔ سارے منتخب نمائندے تو مجرم نہیں ہو سکتے ، وہ بھی تو عوام کا ووٹ حاصل کر کے آئے ہیں۔ اس کی سزا عوام کو کیوں مل رہی ہے۔ یہاں بات اصول کی کم اور انا اور دشمنی نبھانے کی زیادہ نظر آ رہی ہے۔ یہ بات حکومتی وزراء کے دماغ میں نہیں بیٹھتی۔

بلوچستان میں مسلم لیگ نواز کی اتحادی حکومت کو گرانے کی سازش میں کون ملوث تھا ، کیا یہ جمہوری عمل تھا جو بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ نون لیگ کے باغی ارکان نے بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنا لی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ کشیدگی خدا نہ کرے کسی بند گلی میں چلی جائے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور سب کو ساتھ لے کر ملک کی بھلائی اور عوام کی خوشحالی کے لئے کام کریں۔ ورنہ دشمن جو گھات لگائے بیٹھے ہیں، انہیں موقع مل جائے گا۔ پھر تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی ۔ اب بھی وقت ہے سمجھنے کا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments