عورت مارچ: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آٹھ مارچ ہمارا دن تھا، عورتوں کا دن۔ فطری طور پر اس دن کے حوالے کچھ توقعات اور امیدیں وابستہ رہتی ہیں۔ ایک دن کے لیے ہی سہی لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پوری کائنات آج ساتھ ہے اور ہماری تعظیم کر رہی ہے۔

ویمن ڈے کے حوالے سے ملک بھر میں تقریبات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس بار مجھے اسلام آباد میں ایسی دو ایک تقریبات میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ یہ تقریب ایک بڑے ادارے کے فورم سے تھی ، اسی لیے میرا جوش اور میری امیدیں ذرا زیادہ تھیں۔ میری یہ توقع تھی کہ خواتین مقررین آج کے دن اپنا ٹھوس موقف پیش کریں گے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ تقریب سے قبل مقررین سے گپ شپ کے دوران میں نے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کی تقریب کا ذکر کیا جس میں جمی جمائی نصابی گفتگو کا عورتوں کے حقوق سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ اکثریت نے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے اپنے مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ میں نے اسی گپ شپ میں پرجوش ہوکرایک مقرر کے حوالے سے پاکستان میں جنسی تفریق و تحفظ کے حوالے سے خطرناک تقابلی اعداد و شمار پیش کیے۔ بس پھر کیا تھا بیشتر نے ایسے عالمی اعداد و شمار کی صداقت پر ہی شک کا اظہار کر دیا۔

میں چپ ہو کر بیٹھ رہی اور گفتگو عورت، صنفی برابری اور تحفظ سے ہٹ کر خاندان کی اہمیت و افادیت پر چلی گئی اور خاندان کو عورت کا محفوظ ترین قلعہ ثابت کیا جانے لگا۔ یہ میرے لیے لمحہ فکریہ تھا کہ عورت کا دن جو ہم اس کے سماجی رشتوں سے ہٹ کر بطور فرد منانا چاہ رہے ہیں ، ہماری ادیبوں کو تو اس کا احساس بلکہ شعور ہی نہیں۔ دراصل جب عورت کے تحفظ کی بات کی جاتی ہے تو دراصل اسے بچے یا بوڑھے کی مانند minor جنس بنا دیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ محکوم جنس اپنا خیال نہیں رکھ سکتی اور پدرسری معاشرے کا یہ خاندان ہی اسے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔

مجھے لگا ویمن امپاورمنٹ کا پہلا بنیادی نعرہ ابتدا میں ہی فوت ہو گیا ہے۔ مجھے گھٹن محسوس ہونے لگی۔ وہاں مزید کہا جانے لگا کہ کس طرح مغرب میں ازدواجی تعلق کے بعد لوگ اپنے راستے جدا کر لیتے ہیں اور عورت اپنے بچوں کے ساتھ تن تنہا رہ جاتی ہیں۔ میں انہیں بتانا چاہتی تھی کہ ساری عمر زبردستی کے تعلق نبھانے کی بجائے خوشی و اطمینان سے ایک دوسرے سے جدا ہونا بہتر ہے۔ گو جدا ہونا مشکل ہے لیکن سالہا سال جبری تعلق کی چکی میں پسنا بھی تو کم اذیت نہیں ہے۔

ہمیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ مغرب میں خاندان کا تصور نہیں ہے؟ یا وہاں لوگ مادر پدر آزاد حیوانی خصلتوں کے مارے ہوئے ہیں؟ وہاں شادیاں بھی ہوتی ہیں اور محبت و احترام بھی اور اولاد کی تربیت بھی۔ ترقی کی جس سطح پر وہ آج کھڑے ہیں وہ ایسی سماجی بے قاعدگیوں سے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ ان کی فلمیں دیکھیں، ان کا لٹریچر پڑھیں، رشتوں کی گہرائی، جزئیات، نزاکت اور احساس جیسا وہاں ہیں یہاں اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ ہاں یہ فرق ہے کہ وہاں مرد اور عورت دونوں انسان ہیں۔ دونوں اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں اور ان فیصلوں میں باہمی احترام کا جذبہ بھی موجود ہے۔

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ تقریب کا آغاز ہوا تو دو مقررین ایسی تھیں جنہوں نے واشگاف الفاظ میں یہ کہا کہ عورت کو مزید آزادی کی بالکل بھی ضرورت نہیں بلکہ آزادی کا اگلا مرحلہ بربادی کا ہے۔ عورت ماں، بیٹی اور بہن کے رشتوں میں مطمئن ہے اور اس سے آگے کسی سوال کا کوئی جواز نہیں ہے۔ میرے اندر کی عورت کہنے لگی: ”ہن آرام ای۔“

کہانی ابھی بھی جاری ہے۔ آٹھ مارچ سے اگلے دن حسب معمول میں نے اعلیٰ ڈگری یافتہ خواتین کی گفتگو سنی۔ وہ عورت مارچ پر ہونے ہونے والے خواتین کے رقص اور نعروں پر گفتگو کر رہی تھیں۔ ان کے لہجے طنزیہ اور اہانت آمیز تھے۔ ان کے خیال میں عورتیں سڑکوں پر ڈانس کرنے کی آزادی چاہتی ہیں اور یہ سب بے حیائی و فحاشی ہے۔

آٹھ مارچ سے میری توقعات اور امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ میں مایوس اور دکھی ہوئی۔ کیونکہ اس دن کی تقریبات نے مجھے بتایا ہے کہ ہماری عورتیں گلی، کوچوں بازاروں میں ہونے والی ہراسمنٹ سے مطمئن ہیں۔ انہیں فحش نظروں، گالیوں اور ہراسانی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ صبح سے لے کر رات تک کی بلا معاوضہ مشقت پر راضی ہیں۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ محض نسل انسانی کے ارتقاء کا آلہ ہیں اور کچھ نہیں۔

خاندانی رشتوں کی وہ جکڑن جو انہیں بطور فرد اور انسان کے عزت نہیں دیتی انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، انہیں عورتوں کے ریپ پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں مجبوریوں سے لدی پھندی ان عورتوں سے بھی کوئی ہمدردی نہیں جو اپنا جسم بیچنے پر تیار ہیں۔ انہیں اپنی بچیوں کے لیے تعلیم کی ضرورت نہیں اور ویسے بھی اب انہیں اتنی تعلیم تو مل ہی جاتی ہے جتنی اچھے رشتوں کے لیے چاہیے۔ انہیں کم سن بچیوں کی شادی سے بھی کوئی مسئلہ نہیں جو دوران زچگی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ وہ یہ بالکل نہیں چاہتی کہ کسی دن جب وہ باہر نکلیں تو انہیں ایک عام انسان کی طرح ٹریٹ کیا جائے۔

انہیں دوپٹہ پھسلنے یا کہیں سے کچھ نظر نہ آ جانے کا ڈر نہ ہو۔ وہ نہیں چاہتیں کہ وہ اپنی زندگی اپنے مطابق جینے کی جرأت کر سکیں۔ اس آٹھ مارچ کو میں پدرسری معاشرے کے حامیوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ وہ اپنی مؤثر حکمت عملی سے سماج کے ہر فرد کے اندر سے آزادی، بغاوت اور احتجاج کی جڑیں کاٹنے میں ابھی تک کامیاب ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments