EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

تعلیم کو عزت دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک و قوم کی ترقی کا انحصار آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت پر ہوتا ہے۔ جو قومیں تعلیم کو فوقیت دیتی ہیں وہ کامیاب ہوتی ہیں۔ تاریخ ایسی باتوں سے بھری پڑی ہے۔ خلافت امیہ اور عباسیہ کے دور میں جب بغداد میں علوم و فنون عروج پر تھے اور اندلس کے بازار کتابوں سے بھرے ہوئے تھے تو اس وقت مسلمان عروج پر تھے اور اہل یورپ و امریکہ پتھر کے دور میں رہ رہے تھے۔

پھر زمانے نے انگڑائی لی ۔ ہم نے علوم و فنون سے روگردانی کی اور بغداد کی درسگاہوں اور گلیوں میں سیاست پر بحث مباحثہ عروج پا گیا اور اس مباحثے نے ایسا ڈبویا کہ خلافت بھی چھن گئی اور بغداد ایسا تباہ ہوا کہ آج تک اپنی عظمت بحال نہ کر سکا۔ کچھ یہی حال خلافت عثمانیہ کا بھی رہا ہے اور آج بھی ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ آج بھی سیاسی سرکس کو برتری دی جا رہی ہے اور تعلیم کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ کورونا کے نام پر تعلیمی ادارے تو بند کیے جاتے ہیں لیکن سیاسی تماشا بند ہوتا ہے اور نہ تماشا بازوں کو روکا جاتا ہے۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کی بڑی وجہ یہ سیاسی سرکس ہے۔ جب پہلی لہر میں کمی آئی تو حکومت اور حزب اختلاف کے سیاسی شو شروع ہو گئے۔ سیاسی جماعتوں نے عوام کے جذبات کا غلط استعمال کیا اور اپنی شعبدہ بازی کو جاری رکھا۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ قوم کے مستقبل یعنی طلبہ کو تو بغیر امتحان کے پروموٹ کر دیا لیکن گلگت بلتستان میں انتخابات مقررہ وقت پر کرائے گئے اور جب کورونا بے قابو ہوا تو پھر غصہ صرف تعلیمی اداروں پر نکالا گیا اور دو ماہ کے لئے تعلیم روک دی گئی۔

اس کے بعد رہی سہی کسر حزب اختلاف کی تحریک نے نکال دی۔ پورے ملک میں جلسے جلوس ہوئے اور ایک بار پھر کورونا بے قابو ہو گیا ، ایک بار پھر قوم کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔

تعلیمی ادارے ہی ایسی جگہیں ہیں جہاں احتیاطی تدابیر پر عمل کرایا جا سکتا ہے اور عمل ہو بھی رہا ہے۔ اگر حکومت اس پر عمل نہیں کرا سکتی تو پھر حکومت کا کیا فائدہ ہے؟

بازاروں اور پارکوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں اور کوئی احتیاط نہیں ہے لیکن بند سکول کیے گئے ہیں۔ ہم اپنی نسلوں کو کورونا سے نہیں بچا رہے بلکہ آنے والی نسلوں کی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔ ویسے کیسی عجیب بات ہے کہ MBBS اورDVM کا طالب علم سرجری کا مضمون بھی آن لائن پڑھ رہا ہے تو کل کو پھر وہ سرجری بھی آن لائن ہی کیا کرے گا

حکومت کو چاہیے کہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرے اور تعلیم اور قوم کے مستقبل کو تباہی سے بچائے۔ کورونا کو کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی سرکس کو کنٹرول کرنا ضروری ہے کیونکہ کورونا کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ یہی جلسے جلسوس ہیں۔ اگر ہم یہ شعبدہ بازی کنٹرول کر لیں تو کورونا پر قابو پا سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے