ہمیں یقین ہے کہ آپ فیمینسٹ ہیں!
فیمینزم سے جڑے طعن و تشنیع کے تمغے وصول کر کے بڑی بٹیا سے دل کا حال بیان کیا تو وہ جان عزیز قہقہہ لگا کر کہنے لگیں،
"سارے جہاں کا درد جگر میں سمیٹنے والی میری ماں، آپ فیمینسٹ نہیں ہیں”
"کیا….. کیا … کیا کہہ رہی ہو؟ کیوں میری کمائی ڈبو رہی ہو؟”
(للہ فارن فنڈنگ نہ سمجھ لیجیے گا )
وہ مزید ہنسی،
” اماں، آپ ایک محلوں میں رہنے والی خاتون اور ایک جھونپڑی کی مکین کے حقوق کا ایک ہی چھتری تلے مطالبہ کیسے کر سکتی ہیں؟ کیونکہ دونوں کے مسائل یکساں ہیں ہی نہیں۔
ایک کے لئے دو وقت کی روٹی دل کا روگ ہے تو دوسری کو کسی اور بندش کا سامنا۔
ایک نے سکول کا منہ ہی نہیں دیکھا اور دوسری یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تو ہے لیکن گھر سے نکلنے پہ پابندی۔
ایک کے ورثا بچپن گزرنے کا انتظار کیے بنا اسے اگلے مرد کے حوالے کردیتے ہیں۔ دوسری پہ کم عمری میں یہ ظلم تو نہیں ہوتا لیکن مرضی کی شادی پھر بھی نہیں کرنے دی جاتی۔
ایک روزانہ شوہر سے پٹ کر زخموں پہ ہلدی تھوپتی ہے اور دوسری شوہر کی بے وفائی کا زخم سہتی اور ذہنی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔
ایک کو ایام میں سینیٹری پیڈز خریدنے اور ایام پہ بات کرنے کی پابندی کا سامنا ہے تو دوسری کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ پیڈز خریدنا تو دور کی بات، استعمال کے لئے فالتو پرانا کپڑا بھی کہاں سے لائے؟
اماں، عورتوں کی اکثریت غربت کی لکیر سے کہیں نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بالائی طبقے کی عورت کی زندگی میں غربت اور جہالت تو نہیں لیکن بے شمار دوسری قسم کے مسائل ہیں۔ پدرسری نظام دونوں طبقات میں اپنا کھیل مختلف طریقوں سے کھیلتا ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ بالائی طبقے کی عورت کے مسائل اہم نہیں۔ وہ بھی اہم ہیں لیکن ایک لفظ فیمینزم سے دونوں کے مسائل کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔
آپ کو غربت اور جہالت کے شکنجے میں جکڑی اس عورت کا غم ایک زمانے سے ستاتا ہے جس کے پاس قدم رکھنے کو نہ اپنی زمین ہے اور نہ ہی اپنا آسمان۔ وہ عورت جو جھونپڑی میں پیدا ہوتی ہے اور زندگی کے تھپیڑے کھاتے وہیں کسی اور جھونپڑی میں کسی اندھیری رات میں دم توڑ دیتی ہے۔ دنیا کو نہ اس کی آمد کی خبر ہوتی ہے اور نہ رخصت ہونے کی۔ کسی کے دل پہ ملال بھی نہیں ٹھہرتا۔
آپ کو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی عورت کے ساتھ کیا جانے والا سلوک بھی احتجاج پہ مجبور کرتا ہے، آپ کی آنکھ ان کو بھی انسان سمجھتی ہے، اپنے برابر کا انسان!
آپ کو ان کا غم بھی ستاتا ہے جو قدرت کے کارخانے کی ایسی پیداوار ٹھہرے، جہاں نہ جانے کس مرحلے میں صنفی پہچان ہی دھندلی پڑ گئی۔ اپنا جسم بنانا تو ان کے اختیار میں تھا ہی نہیں لیکن پدرسری معاشرے نے ان کی طرف سے آنکھ بند رکھتے ہوئے انہیں بے سہارا بنا دیا۔ وہ رب کائنات کی بنائی ہوئی ایک ایسی مخلوق بنے جن کی منفرد جسمانی ساخت نے ان کو انسانوں کی بستی میں اجنبی بنا دیا۔
یہ انسان کیا چیز ہے بھلا؟ خدا کو سجدہ بھی کرتا ہے اور اس کی تخلیق کو رد بھی کرتا ہے۔
تو پیاری ماں، جان لیجیے کہ آپ انٹر سیکشنل فیمینسٹ ہیں۔ تشدد کا شکار، زندگی کی چکی میں پستے ہوؤں مجبور لوگوں اور پدرسری نظام کے ہاتھوں درگت بننے والوں کے حقوق کی علمبردار!
باقی تحقیق خود کر لیجیے گا، خدا حافظ!”
فون کھٹ سے کب کا بند ہو چکا تھا اور ہم سکرین کو گھورے چلے جا رہے تھے!
پچھلا مضمون تمہید تھا اس کتھا کی جو آج ہم سنانے چلے ہیں!
عورت مارچ کے حوالے سے بے تحاشا مباحث اور الزامات کی بارش نے ہمیں سوچنے پہ مجبور کیا کہ کم فہم تو مخالف بھی نہیں دکھتے، سو کیا وجہ ہے کہ دونوں ایک ‘ پیج’ پہ نہیں!
بٹیا کو اپنے اضطراب سے آگاہ کیا۔ اس نے اپنے مخصوص انداز میں ہمارا مسئلہ ویسے ہی چٹکی بجاتے ہوئے حل کر دیا جیسے اوائل عمری سے کرتی آئی ہے۔
اب فیمینزم اور میرا جسم میری مرضی سے بیزار صاحبان دانش کو ہم یہ مژدہ سنانے کے لئے بے چین ہیں کہ ہم نے اپنی بٹیا کی ہدایت پہ نتحقیق کر کے آپ سب کی بےچینی اور اضطراب کا توڑ ڈھونڈ لیا ہے۔
اگر عدم مساوات پہ آپ کا جی کڑھتا ہے، اگر صنفی امتیاز آپ کو ناگوار گزرتا ہے، اگر طبقاتی فرق آپ کے جی کا روگ ہے، اگر تشدد اور زیادتی آپ کو بےقرار کرتی ہے تو جان لیجیے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں!
ارے ارے ٹھہریے، انکار میں نہ تو سر ہلائیے اور نہ ہی طبعیت میں ناگواری پیدا کیجیے۔ دیکھیے ہم تو تشخیص کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں۔
"اگر آپ مساوات پہ یقین نہیں رکھتے اور اکثریت کی مشکلات کو ‘ان کی مشکل’ یا ‘ان کی قسمت’ یا ‘اقدار و روایات’ کے مسئلے کے طور پہ دیکھتے ہیں اور بہت سی چیزوں پہ بائی ڈیفالٹ اپنا حق سمجھتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ مسئلہ آپ کی ذات اور آپ کا فہم ہے”
یہ ہے انٹر سیکشنل فیمینزم!
کولمبیا یونیورسٹی میں قانون کی استاد پروفیسر کمبرلے کرینشا نے 1989 میں اس خیال کی بنیاد رکھی،
"انٹرسیکشنل فیمینزم اس عدسے کی طرح ہے جو ناانصافیوں، عدم مساوات اور تفاوت کے ان زاویوں کو اجاگر کرتا ہے جو آپس میں بری طرح الجھے ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کو متاثر بھی کرتے ہیں اور بڑھا بھی دیتے ہیں "
اس کو یوں سمجھیے کہ ایک طرف اگر ایک عورت غربت کی چکی میں پس رہی ہے تو وہی عورت سکول جانے سے محروم رہی، وہی شوہر سے بھی پٹی اور وہی اپنی مرضی سے بچے پیدا کرنا بند نہیں کر سکتی، بلکہ اپنے بچوں پہ کسی قسم کا اختیار بھی نہیں رکھتی۔
ذات برادری، مذہبی فرقہ بندی، دولت اور سہولیات کی بنیاد پہ کھڑے گئے کلاس سسٹم، غربت اور صنفی امتیاز کے گرداب میں پھنسی ہوئی عورتوں کے مسائل اجاگر کرنا انٹر سیکشنل فیمینزم میں آتا ہے۔
یہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو واضح کرتا ہے کہ عدم مساوات کی جنگ جیتنے کے لئے نہ صرف صنفی امتیاز بلکہ ہر قسم کی زیادتی اور ناانصافی پہ احتجاجی تحریک چلانی چاہیے۔
مثال کے طور پہ عیسائی عورتوں کو مہترانی یا خاکروب کا کام کیوں سونپا جائے؟ ان کے مذہبی عقائد پہ تنقید یا مذاق کیوں اڑایا جائے؟ وہ اپنی زندگی اور سلامتی پہ تحفظات کا شکار کیوں رہیں؟
چک جھمرے، بدو ملہی یا احمد نگر چھٹہ میں رہنے والی بچی لاہور گرامر سکول، کنیئرڈ کالج یا کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کیوں نہ جائے؟
ٹرانس جینڈر کو والدین کیوں عاق کریں؟ معاشرہ ان کی بے بسی کا مذاق کیوں اڑائے؟ کیا نارمل زندگی گزارنے کا حق صرف انہی کو ہے جن کی جنسی پہچان مبہم نہیں؟
چھوٹی بچیوں کو گھر کی ملازمہ کیوں بنایا جائے؟ ان کا تعلیم پہ استحقاق کیوں نہ مانا جائے اور غریب گھرانے کی بچی ہونے کی وجہ سے ان کا استحصال کیوں کیا جائے؟
دیہات سے تعلق رکھنے والی ہمارے گھر کی منتظم اعلیٰ نسیم آپا جنہیں ہمارے بچے آنٹی نہ صرف کہتے ہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں کہ ہمیں اکثر باتوں کا علم ان کی زبانی ہوتا ہے، اکثر آہ بھر کر کہتی ہیں کہ کاش میں بھی آپ کی طرح پڑھی لکھی ہوتی لیکن نہ گاؤں میں سکول کی سہولت تھی اور نہ والدین کے پاس وسائل!
ایسی سب ناانصافیوں پہ آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے!
صاحبان دانش، ہمارا خیال ہے کہ آپ تک ہماری بات پہنچ گئی ہو گی!
تو پھر کیا خیال ہے، کب کہلوا رہے ہیں اپنے آپ کو انٹرسیکشنل فیمینسٹ!

