سینیٹ انتخابات کے بعد کا منظرنامہ
سینیٹ کے انتخابات کا حال سب کے سامنے ہے۔ ایک گروپ کو ڈاکٹر حفیظ شیخ کی فکر تھی دوسرے کو یوسف رضا گیلانی کی۔ دیگر کی کوئی فکر، نہ جدوجہد، نہ لینا نہ دینا۔ جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ اسلام آباد کی دو سیٹوں پر حکومت کا فیورٹ امیدوار شکست کھا گیا اور پی ڈی ایم کے فیورٹ کے گلے میں پڑے ہار۔ انہیں کے ساتھ حکومت کی امیدوار خاتون کے گلے میں پڑے ہار اور پی ڈی ایم کی خاتون امیدوار کے نصیب میں آئی شکست۔ یوسف رضا گیلانی پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے جب کہ خاتون نون لیگ کی امیدوار تھیں۔
پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی، نون لیگ کی امیدوار کو گھاس نہیں ڈالی۔ اسی طرح حکومت نے تمام طاقت ڈاکٹر حفیظ شیخ کے لیے لگائی پھر بھی وہ شکست کھا گئے البتہ ان کی خاتون امیدوار کامیاب قرار پائیں۔ سیاست اسی جوڑ توڑ کا نام ہے۔ یہ بات تو تھی سینیٹ اراکین کے انتخاب کی ، اب آتے ہیں سینٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کی طرف۔ یہ مرحلہ بھی اختتام کو پہنچا۔ چیئرمین شپ کے لیے پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی جب کہ مولانا عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار تھے۔
حکومتی اتحاد کی جانب سے صادق سنجرانی چیئرمین اور مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار تھے۔ دونوں امیدواروں کے حامی ایک دوسرے پر لفظوں کی گولہ باری کرتے رہے۔ جوڑ توڑ، خرید و فروخت، اثر و رسوخ، تعلقات، دوستیاں، علاقہ، زبان، الغرض ہر وہ عمل جس سے ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جاسکتا تھا، کیا گیا۔
ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اپنے تجزیے میں بہت درست لکھا کہ ” سیاسی اخلاقیات کا زوال ہے۔ اس رجحان کے آگے بند کس طرح باندھا جائے“ ۔ سیاست کی اقدار اس قدر زمین بوس ہو چکی ہیں کہ ان کے راہ راست پر آنے کے تمام دروازے کم از کم سیاست دانوں کی جانب سے بند دکھائی دے رہے ہیں۔ منتخب ایوانوں کے اراکین جب قیمت وصول کر کے آئیں گے تو قیمت ادا کرنے والوں کو کتے نے کاٹا کہ وہ کروڑوں دے کر کسی کو رکن بنائیں اور بعد میں وہ انہی کے توسط سے سو گنا وصول نہ کریں، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ ماضی میں یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ خاص طور پر سینیٹ میں تو پیسہ چلتا رہا ہے۔ عمران خان نے شور مچایا تو اس جانب توجہ دکھائی دے رہی ہے۔ ورنہ سینیٹر ہمیشہ وہی ہوا کرتا تھا جس کے پاس دولت ہوتی یا دولت مند اس کے لیے اپنا پیشہ استعمال کیا کرتے تھے۔
الزام کس کو دیا جائے، سیاست دانوں کویا نظام کو۔ نظام اگر درست ہو، قانون موجود ہو، قانون پر عمل درآمد بلا تفریق کیا جائے تو اس سیاسی زوال سے بچا جا سکتا ہے۔ سیاست دان اپنی روش نہیں بدلیں گے۔ اس لیے ہر سیاست دان اپنے آپ کو نیک پارسا اور دوسروں کو اس قابل ہی نہیں سمجھتا کہ وہ انسان بھی ہیں، سیاست دان سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ جس کسی بھی درجہ دوم کے لیڈر کو سنیں افلاطون اور ارسطو بنا ہوا ہے۔
میڈیا نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ بس کوئی منفی طرز عمل کا حامل دوسرے یا تیسرے درجے کا سیاسی کارکن مل جائے اسے چینل پر بٹھا کر ارسطو اور افلاطون بنا دیتے ہیں۔ اسلام آباد کی سینیٹ نشست پر جو کچھ ہوا، وہ بھی قوم نے دیکھا، ڈسکہ میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے لیے جو کچھ ہوا وہ بھی قوم نے دیکھا، سنجرانی صاحب کے سابقہ انتخابات کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس بار بھی اپوزیشن کے 14 اراکین ادھر سے ادھر ہو جائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ چاہے کسی کے بھی آدمی ہوں لیکن وہ ایک سنجیدہ، پڑھا لکھا، نیک انسان ہے۔ اس نے اپنے انتخابات میں وہ جدوجہد نہیں کی جو صادق سنجرانی نے کی۔ سنجرانی نے محنت کی، اس کے پیچھے حکومت اور اس کے اتحادی بھی تھے۔ باوجود اس کے کہ سینیٹ کے ووٹوں کی تعداد کے اعتبار سے پی ڈی ایم کے اراکین کی تعداد کچھ زیادہ تھی لیکن اس طرح تو یوسف رضا گیلانی صاحب کے مقابلے میں ڈاکٹر شیخ کے اراکین کی تعداد بھی زیادہ تھی لیکن جیتا کون؟ جب یوسف رضا گیلانی کم ووٹ ہونے کے باوجود فتح مند ہو سکتے ہیں تو سنجرانی صاحب یوسف رضا گیلانی کو شکست کیوں نہیں دے سکتے اور ایسا ہوا۔
سنجرانی ایک چھوٹے صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، ماضی قریب میں وہ آصف علی زرداری صاحب کا انتخاب تھے، کیا معلوم پرانا تعلق قائم ہو۔ اس لیے سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ یوسف رضا گیلانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کی شکست کے بعد حکومت اور حکومتی اتحادیوں کا مورل ہائی ہو جائے گا۔ ادھر مولانا صاحب کا امیدوار ایک کم معروف سینیٹر سے واضح شکست کھا گیا ، اسی طرح جیسے سینیٹ کے انتخاب میں نون لیگ کی خاتون امیدوار کو شکست ہوئی۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں میں آپس میں معاملات صاف ستھرے نہیں۔
غفور حیدری کا اعلان مولانا نے اس وقت کیا جب حکومت کی جانب سے پرویز خٹک نے غفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین کی پیش کش کی۔ وہ دراصل سیاست تھی، پرویز خٹک کا اپنا فیصلہ تھا، پارٹی یا عمران خان کا نہیں تھا۔ اس کا اثر فوری یہ ہوا کہ پی ڈی ایم نے عبد الغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین نامزد کر دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے پوری قوت یوسف رضا کے سینیٹ کے انتخاب اور اسی کے چیئرمین بنائے جانے پر لگائی ، اس نے دیگر امیدواروں پر توجہ ہی نہیں دی، نون لیگ پنجاب میں افہام و تفہیم کے نتیجے میں حصہ بقدر جثہ لے کر زبانی جمع خرچ کرتی رہی، اس نے بھی اپنی خاتون رکن کے لیے کوئی خاص محنت نہیں کی اور نہ عبد الغفور حیدری کے لیے جان کھپائی جس کا نتیجہ سامنے آچکا۔ کل ووٹ 98 تھے۔ چیئرمین کے انتخاب میں صادق سنجرانی کو 48 جب کہ یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے، 8 ووٹ کینسل ہوئے۔ ان آٹھ میں سے 7 اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ ان کے ہیں اور غلط طریقے سے کینسل کیے گئے ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی کو 54 جب کہ عبدالغفور حیدری کو 44 ووٹ ملے۔ یہاں وہی کچھ ہوا جو سینیٹ کی اسلام آباد والی سیٹ پر ہوا تھا۔ یہی جمہوریت ہے، جمہوری نظام میں ووٹ گنے جاتے ہیں اور سینیٹ میں ووٹ گنے گئے۔ علامہ اقبال نے سچ کہا
جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
عمران خان تو مسلسل یہ کہتا رہا کہ الیکشن پر قانون سازی کر لو اور سیکریٹ کے بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعہ انتخاب کر لو لیکن کیوں کہ عمران خان کہہ رہا تھا اس لیے اس کی بات تو کیسی بھی ہو اس عمل کیسے کیا جاسکتا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اگر میری بات نہ مانی تو آنسوؤں سے روؤ گے اور چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن کے بعد یہی کچھ صورت حال اپوزیشن کی دکھائی دے رہی تھی۔ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے نے اپنے والد بزرگوار کو جتوانے کے لیے جو ترکیب مخالف سینیٹرز کو سکھائی تھی وہی ترکیب آج انہیں کے خلاف استعمال ہو گئی۔
ٹی وی اینکر دنیا نیوز کامران خان کے ٹویٹ کے مطابق ”ووٹ کیسے مسترد کروایا جاتا ہے یوسف گیلانی کے بیٹے کلاس لیتے تھے ، لگتا ہے شاندار سبق اپنے ووٹرز کو پڑھایا ، ابو کو ہی فارغ کروا دیا ، جیسی کرنی ویسی بھرنی“ ۔ کامران خان اپنے ٹویٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ”سب سے اہم خبر یہ ہے کہ سینیٹ میں دراصل اکثریت ہی پی ٹی آئی اتحاد کی ہے، اپوزیشن کے سات اراکین حکومتی اتحاد میں شامل ہو چکے ہیں ،انہی سات اراکین نے غفور حیدری کے بجائے مرزا آفریدی کو ووٹ دیے۔اب سینیٹ میں حکومت 54 اپوزیشن 44 کا تناسب ہے“ ۔
اب پی ڈی ایم کی حکمت عملی کیا ہو گی؟ لانگ مارچ، استعفے۔ اس مسئلہ پر پی ڈی ایم اندر سے تقسیم ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی شروع ہی سے ضمنی انتخابات، سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش مند جب کہ نون لیگ اور مولانا اس کے مخالف۔ اب مرحلہ لانگ مارچ کا ہے ، پی پی اب بھی لانگ مارچ میں حصہ لے سکتی ہے لیکن اگر مارچ اسلام آباد میں ہوا، کہیں پنڈی کی بات ہوئی تو پی پی کسی بھی طرح اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرے گی، اسی طرح پی پی استعفے دینے کے حق میں بالکل ہی نہیں ہو گی۔ دیکھتے ہیں اخلاقیات سے گری ہوئی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔


