قرارداد مقاصد: جب ریاست ’مشرف بہ اسلام‘ ہوئی
مارچ کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں اہم واقعات اور مختلف حوالوں سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 72 سال قبل مارچ ہی کے مہینے میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے اپنے بجٹ اجلاس میں قراداد مقاصد منظور کر کے ریاست کو ”مشرف بہ اسلام“ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا۔ قیام پاکستان کے بعد برطانوی پارلیمان کا بنایا ہوا ”حکومت ہند کا قانون مجریہ 1935ء“ پاکستان کا عارضی آئین بنا۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ذمے پاکستان کے لیے آئین بنانے کا کام تھا۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی ان اراکین پر مشتمل تھی جو غیر منقسم ہندوستان میں 1946ء کے انتخابات میں ان علاقوں سے منتخب ہوئے تھے جو بعد میں پاکستان کی جغرافیائی حدود میں شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ کچھ مسلم اراکین ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ اگرچہ ان اراکین کی کل تعداد 69 بنتی تھی لیکن گورنر جنرل محمد علی جناح نے قبائل اور ریاستوں کو نمائندگی دینے کے لیے اس کی تعداد میں 10 اراکین کا اضافہ کیا۔ کئی وجوہات کی بنا پر نشستوں پر موجود اراکین کی حقیقی تعداد اصل سے کم ہی رہی۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں مسلم لیگ برسر اقتدار پارٹی تھی جبکہ پاکستان نیشنل کانگریس کے 11 اراکین کے ساتھ ساتھ خان عبدالغفار خان اور مولوی فضل الحق حزب مخالف میں شامل تھے۔ اسمبلی کے ذمے مملکت پاکستان کے لیے آئین تشکیل دینا اور ملک کے لیے قانون سازی کرنا دونوں امور تھے۔
12 مارچ 1949ء میں اس اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کر کے آئین سازی کے لیے بنیادی خاکہ ترتیب دے دیا۔ قبل ازیں دستور ساز اسمبلی کے رکن مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس قرارداد کا مسودہ تیار کیا اور وزیراعظم پاکستان نواب زادہ لیاقت علی خان نے 7 مارچ 1949ء کو اسے دستور ساز اسمبلی کے سامنے پیش کیا۔
یہ قرارداد کافی بحث و مباحثے کے بعد 12 مارچ 1949ء کو منظور ہوئی۔ قائد اعظم کے دست راست نواب زادہ لیاقت علی خان نے قرارداد مقاصد پیش کرتے ہوئے اس کے حق میں بہت سے دلائل دیے بقول ان کے یہ قرارداد ان خالص اصولوں اور اساس پر مشتمل ہے جن پر پاکستان کا دستور استوار ہو گا۔ قرارداد مقاصد کا مکمل متن یہ ہے:
”اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد و خودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔ جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔ جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔
جس کی رو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاق بنائیں گے، جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات و اقتدار کی حد تک خودمختاری حاصل ہو گی۔ جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون و اخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہار خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت کی آزادی شامل ہو گی۔ جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقات کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔
جس کی رو سے نظام عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہو گی۔ جس کی رو سے وفاق کے علاقوں کی صیانت، آزادی اور جملہ حقوق بشمول خشکی و تری اور فضاء پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، تاکہ اہل پاکستان فلاح و بہبود کی منزل پا سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امن عالم اور بنی نوع انسان کی ترقی و خوش حالی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کر سکیں۔”
پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان نے قرارداد مقاصد کا مسودہ دستور ساز اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس لئے حاصل کیا گیا کہ ہندوستان کے مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کے خواہش مند تھے۔ آپ نے قرارداد مقاصد کے مندرجات جیسے اسلامی جمہوریت، اقلیتوں کے حقوق، اسلامی ریاست کے مندرجات، وفاقی طرز حکومت، بنیادی انسانی حقوق وغیرہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور قرارداد کے حق میں پرزور دلائل دیے، قرارداد کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں آزادی کے حصول کے بعد دوسرا اہم واقعہ ہے، قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد حکومت پاکستان نے آئین کے بنیادی اصولوں کے لیے کمیٹی بھی قائم کی۔
دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف چٹوپادھیا نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے قرارداد مقاصد کے مختلف نکات پر بھرپور تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا یہ اجلاس سالانہ بجٹ پر بحث کے لیے مختص تھا اور اجلاس بلاتے ہوئے اراکین کو کسی قرارداد کے پیش ہونے کا نہیں بتایا گیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ حاضر اراکین کی تعداد انتہائی کم ہے اور اتنے اہم فیصلے کے لیے زیادہ سے زیادہ اراکین کا اجلاس میں موجود ہونا ضروری ہے۔
دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں مشرقی پاکستان سے پاکستان نیشنل کانگریس کے رکن نے تجویز پیش کی کہ ریاست اور اس سے شہریوں کا تعلق سیاست کا حصہ ہے جبکہ انسان اور خدا کا رشتہ مذہب کے زمرے میں آتا ہے، سیاست کو انسانی عقل اور تجربات کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے جبکہ مذہب پر عمل کرنا ایمان کا حصہ ہوتا ہے لہٰذا قرارداد مقاصد کے پہلے پیراگراف کو نظر انداز کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاست اور مذہب کو یکجا کیا گیا تو پھر سیاست پر تنقید نہیں ہو سکے گی۔
پہلے پیراگراف میں الفاظ ”مقرر کردہ حدود“ پر تبصرہ کرتے ہوئے حزب اختلاف کے ایک ممبر نے کہا کہ ان حدود کی وضاحت قرارداد میں نہیں ہے لہٰذا یہ حدود کیا ہیں؟ ان کی تشریح کون کرے گا اور اختلاف کی صورت میں اس کی وضاحت کون کرے گا؟ چونکہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں اس لیے ریاست کو تمام مذاہب کا احترام کرنا چاہیے۔
پاکستان نیشنل کانگریس کے ایک دوسرے رکن نے مطالبہ کیا کہ الفاظ ”پسماندہ طبقوں“ کے بعد ”مزدور طبقہ جات“ بھی شامل کیا جائے، اسی طرح دوسرے اپوزیشن اراکین اور مسلم لیگ کے پنجاب سے رکن میاں افتخار الدین نے قرارداد مقاصد کے متن میں کئی ترامیم پیش کیں۔
اپوزیشن کے تمام اعتراضات کو رائے شماری کے لئے پیش کیا گیا لیکن ایوان نے تمام ترامیم کو دس کے مقابلے میں اکیس ووٹوں سے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد ایوان نے قرارداد مقاصد کی منظوری دے دی۔ تمام مسلمان اراکین اسمبلی (ماسوائے میاں افتخار الدین کے) سب نے فرقہ پرستی سے آزاد ہو کر اس قرارداد کا ساتھ دیا حتیٰ کہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان سمیت دیگر قادیانی اراکین (جن کو اس وقت تک قانونی طور پہ غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا تھا) نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا) ۔ دوسری طرف حزب مخالف کے اقلیتی اراکین (جو سارے ہندو تھے) نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔
قرارداد مقاصد کے منظور ہونے سے ملک میں موجود سیاسی تناؤ میں کچھ وقت کے لیے کمی آئی، ایک طرف علماء کی سفارشات کو قرارداد میں شامل کیا گیا تو دوسری طرف جمہوریت، وفاقی حکومت، بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق جیسے نکات سے بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے دانشوروں کو مطمئن کیا گیا۔ عام آدمی کو اسلامی فلاحی ریاست کے قیام سے تسلی ہوئی اور یوں بیرونی خطرات کا مقابلہ اور اندرونی خلفشار کو رفو کرنے کی کوشش کی گئی۔
1956ء اور 1962ء میں جب ملک کے لیے آئین بنائے گئے تو قرارداد مقاصد کو ان کے افتتاحیہ میں رکھا گیا لیکن ان دستوروں میں وفاقی طرز حکومت کے خلاف مرکزی حکومت کو اختیارات دیے گئے۔ دونوں آئینوں میں ایک ایوانی مقننہ قائم کیا گیا اور سینیٹ کے قیام کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ سینیٹ کی تخلیق کا بنیادی مقصد تمام وفاقی اکائیوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی دینا ہوتا ہے۔ 1955ء میں جب مغربی پاکستان کو ون یونٹ سکیم کے تحت ایک صوبہ بنایا گیا تو یہ صوبائی خود مختاری پر حملہ تھا۔ اسی طرح جب 1958ء میں مارشل لا نافذ ہوا تو جمہوریت کا یہ قتل اصل میں قرارداد مقاصد کی موت کے برابر تھا۔
2 مارچ 1985ء کو پاکستان کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صدر جنرل محمد ضیاءالحق کے صدارتی فرمان کے تحت آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے قرارداد مقاصد کو آئین پاکستان میں شامل کر لیا گیا۔ صدارتی فرمان 14 کے تحت آئین کی دفعہ 2 کے بعد اس کے ضمیمہ کے طور پر آرٹیکل 2 (اے ) کے نام سے شامل کر لیا گیا۔ صدارتی فرمان میں کہا گیا تھا کہ ”ضمیمہ میں نقل کردہ قرارداد مقاصد میں بیان کردہ اصول اور احکام کو بذریعہ ہذا دستور کا مستقل حصہ قرار دیا جاتا ہے اور وہ بحسبہ مؤثر ہوں گے۔“


