کیا پنجاب میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا امکان ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی سیاست میں سیاسی برتری کے لیے ہمیشہ سے پنجاب کی سیاسی بالادستی کی اہمیت رہی ہے۔ ایک بنیادی نکتہ ہمیشہ موجود رہا ہے کہ جو بھی جماعت پنجاب میں سیاسی بالادستی حاصل کرے گی وہی قومی سیاست کے معاملات میں اپنی بالادستی کی بنیاد پر دیگر سیاسی مخالفین پر برتری کی بنیاد پر فوقیت حاصل کرے گی۔ اسی لیے سیاسی بڑی سیاسی جماعتوں کی ساری سیاسی جنگ ہمیں پنجاب کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک دفعہ پھر پنجاب کی سیاست میں کافی گرم جوشی کا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔

پی ڈی ایم جو حکومت مخالف اتحاد ہے اس نے اپنی نئی سیاسی حکمت عملی میں پنجاب کو بنیاد بنا کر پنجاب کی حکومت کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ڈی ایم کے اہم رہنما آصف علی زرداری کے بقول ہمیں مرکزی حکومت کے خاتمہ سے قبل پنجاب کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہو گا اور اسی بنیاد پر عمران خان کی حکومت سیاسی طور پر کمزور بھی ہو گی اور ان کی سیاسی رخصتی بھی ممکن ہو سکے گی۔

پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے پچھلے تین برس میں کئی سیاسی تجزیہ نگاروں نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تبدیلی کی تواتر سے خبریں پیش کیں، مگر وزیراعلیٰ عثمان بزدار بدستور اقتدار پر موجود ہیں۔ ایک بار پھر سیاسی پنڈت بڑی شدت سے خبریں دے رہے ہیں کہ خود وزیراعظم نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی تبدیلی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی وزیراعلیٰ کو تبدیل کر کے کسی اور فرد کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ لیکن اس کے برعکس پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں عثمان بزدار کی حکومت کا خاتمہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے پاس تین آپشن موجود ہیں۔ اول وہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی مدد سے پی ٹی آئی کے مقابلے میں اپنی حکومت بنانے کی کوشش کرے۔ دوئم وہ اس کھیل میں پی ٹی آئی کے اندر سے ایک باغی یا فارورڈ بلاک سامنے لائے جو پی ڈی ایم کی کھل کر حمایت کرے۔ سوئم وہ وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرے اور ان کی جگہ کسی نئے وزیراعلیٰ کو منتخب کرے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر خود پارٹی کے داخلی محاذ سے بھی ہمیشہ سے تحفظات رہے ہیں۔ ایک گروپ پی ٹی آئی کی سطح پر موجود ہے جو چاہتا ہے کہ ان کی جگہ ایک مضبوط وزیراعلیٰ لایا جائے۔ لیکن وزیراعظم عمران خان کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال کی بنیاد پر یا پارٹی میں پہلے سے موجود مختلف گروپ بندیوں یا وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا عمل ان کے لیے اور زیادہ سیاسی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

وزیراعظم عمران خان بنیادی طور پر مرکز سے بیٹھ کر پنجاب میں حکومت کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایک کمزور وزیراعلیٰ ہی ان کی ضرورت بھی ہے۔ اگرچہ پنجاب جہاں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ چیلنج اگر کسی جماعت سے ہے تو وہ مسلم لیگ نون ہی ہے۔ ایسے میں وہ ایک مضبوط وزیراعلیٰ کی مدد کے ساتھ مسلم لیگ نون کو سیاسی طور پر کمزور کر سکتے تھے مگر ان کی حکمت عملی اس کے برعکس ہے۔ اس لیے فوری طور پر وزیراعلیٰ کی تبدیلی مشکل نظر آتی ہے اور اگر ان کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو نئے وزیراعلیٰ کے نام پر نیا سیاسی پنڈورا کھل سکتا ہے جو پارٹی کے مفاد میں نہیں۔

پی ڈی ایم جو پنجاب میں تبدیلی چاہتی ہے ، ان کے سامنے ایک نکتہ چوہدری برادران ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر چوہدری برادران پنجاب میں سیاسی تبدیلی کے لیے پی ڈی ایم کی سیاست کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کے عوض ان کو کیا ملے گا۔ کیا پی ڈی ایم اور بالخصوص مسلم لیگ نون چاہے گی کہ پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی جیسا مضبوط فرد کو وزیراعلیٰ کے طور پر قبول کیا جائے۔ کیونکہ مسلم لیگ نون کو ڈر ہے کہ پرویزالٰہی کو وزیراعلیٰ کے طور پر قبول کرنا ان کی اپنی جماعت کے لیے سیاسی خود کشی ہو گی۔ کیونکہ اس صورت میں مسلم لیگ ق دوبارہ پنجاب میں اپنے قدم جما سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وزیراعلیٰ مسلم لیگ نون سے آنا ہے تو کیوں مسلم لیگ ق اس کھیل میں ان کا ساتھ دے گی۔ مریم نواز کہہ چکی ہیں کہ پنجاب ان کا ہے اور مستقبل میں بھی ان ہی کا رہے گا۔ چوہدری برادران کو ماضی میں مسلم لیگ نون کے ساتھ سیاسی معاملات کا کافی تلخ تجربہ ہے اور وہ بھی مسلم لیگ نون پر بہت زیادہ آسانی میں اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے جو لوگ بھی چوہدری برادران کو بنیاد بنا کر پنجاب کو سیاسی طور پر فتح کرنا چاہتے ہیں اس کا امکان کم ہے۔

اسی طرح مسلم لیگ نون کبھی کسی ایسے فارمولہ کی حمایت نہیں کرے گی کہ عثمان بزدار کو تبدیل کر کے پی ٹی آئی یہاں ایک مضبوط وزیراعلیٰ لائے۔ کیونکہ مسلم لیگ نون کا تو سیاسی بیانیہ یہی ہے کہ موجودہ کمزور اور نالائق وزیراعلیٰ کی موجودگی میں مسلم لیگ نون بدستور ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر موجود ہے۔ مسلم لیگ نون ایک ایسے کھیل کو ہی مدد دے سکتی ہے جس کے نتیجے میں دوبارہ پنجاب کا اقتدار ان کی جماعت کو ملے۔ یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ مسلم لیگ نون پی ٹی آئی کے بعض لوگوں کو اگلے انتخابات کی ٹکٹ کی یقین دہانی پر فارورڈ بلاک بھی بنانا چاہتی ہے تاکہ اس عمل سے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر کمزور کیا جا سکے۔

البتہ اس ساری سیاسی مہم جوئی میں چوہدری برادران کو کافی فائدہ ہوا اور پی ٹی آئی کو بھی احساس ہوا ہے کہ چوہدری برادران اہم ہیں اور ان کی مدد کے ساتھ ہی مرکز اور پنجاب میں حکومت چلائی جا سکتی ہے۔ چوہدری برادران نے کمال ہوشیاری سے اپنے سیاسی کارڈ کھیلے ہیں اور دونوں فریقوں یعنی حکومت اور پی ڈی ایم کو اپنی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ مسلم لیگ نون میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی بلاوجہ پنجاب کو فوقیت دے کر ان کی سیاست کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔کیونکہ چوہدری برادران اور آصف زرداری کے درمیان بھی بہت اچھا تعلق ہے اور دونوں پنجاب میں اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اسی طرح پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور شریف خاندان سمجھتا ہے کہ ہمیں اپنی ساری توجہ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت یا عمران خان پر لگانی چاہیے اور پنجاب کو بنیاد بنانے پر ان دونوں جماعتوں میں پیپلز پارٹی یا زرداری کارڈ پر تحفظات بھی موجود ہیں۔

اس وقت اگرچہ مسلم لیگ نون کا بڑا حریف پی ٹی آئی ہے اور وہ اسے ہر صورت میں پنجاب سے سیاسی طور پر دربدر کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ مسلم لیگ نون میں یہ تجویز بھی رکھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ ق کو دوبارہ ایک کر دیا جائے تاکہ وہ ایک بڑی طاقت کے طور پر پنجاب پر بالادست ہوں۔ لیکن اس صورت میں بھی چوہدری برادران کو مرکز یا پنجاب میں کیا ملے گا جو وہ اپنی جماعت کو مسلم لیگ نون میں ضم کر دیں۔اس لیے یہ تجویز بھی عملی بنیادوں پر ممکن نظر نہیں آتی۔

بظاہر یہ لگتا ہے کہ حالیہ مہم جوئی جو پی ڈی ایم کی پنجاب میں دیکھنے کو مل رہی ہے ، اس کا ایک بڑا مقصد وزیراعظم عمران خان پر زیادہ سے زیادہ سیاسی دباؤ بڑھانا ہے یا آصف علی زرداری کمال ہوشیاری سے اس پنجاب کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ نون اور جے یو آئی کو ان معاملات میں الجھا کر مرکزی مزاحمت سے روکنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ فی الحال پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں مرکز میں عمران خان حکومت کے خاتمے پر سنجیدہ نہیں۔ کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ایسی صورت میں ان کو سندھ حکومت کی بھی قربانی دینی پڑے گی جو ان کو قبول نہیں۔ اس لیے پنجاب کی موجودہ سیاسی مہم جوئی میں کچھ نئے ہونے کے امکانات محدود ہیں اور فوری طور پر بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *