زرداری سے بھی بھاری سیاست کے گُرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ سال سے ملکی سیاست میں آصف علی زرداری کے نام کا سکہ بول رہا ہے۔ انہیں مفاہمت کا بے تاج بادشاہ، یاروں کا یار اور نباض وقت کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ کمال استقامت، ثابت قدمی اور جگر کاوی سے گیارہ سال تک جرم بے گناہی کی سزا کاٹنے کے بعد انہوں نے اپنے بدترین ناقدین اور نظریاتی مخالفین سے بھی مرد حر کا قابل فخر خطاب پایا تھا۔ اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورت حال کے بعد انہوں نے طاقت کے سرچشموں کو آنکھیں دکھانے کے بجائے ان کی چشم ابرو کے اشارے کے مطابق اپنی سیاست کو ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی۔

میثاق جمہوریت کے بعد جب نواز شریف کالا کوٹ پہن کر یوسف رضا گیلانی کو نااہل کروانے عدالت عظمٰی جا پہنچے تو زرداری کے دل پر آری چل گئی۔ پھر جب اینٹ سے اینٹ بجانے کے متنازع بیان کے بعد نواز شریف نے زرداری سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر کے انہیں بے سہارا چھوڑ دیا تو زرداری اور ان کی پارٹی کو ایک اور جھٹکا لگا۔ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ کی جانوں کی قربانی دے کر بھی کبھی اس انتہا تک نہیں پہنچی تھی جہاں معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ جائیں۔ سو زرداری صاحب نے بھی طاقت کے سرچشموں کی منشا کے مطابق سیاسی کھیل کا آغاز کر دیا۔ یوں آنکھیں دکھانے والے نے پہلے پیٹھ دکھائی اور پھر سیاست میں ہاتھ دکھانا شروع کر دیے۔

ڈان لیکس کے بعد طاقت وروں نے سبز باغ دکھائے اور زرداری کی پیٹھ اس طرح تھپتھپائی کہ موصوف نے بلوچستان میں نون لیگ کی حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپا اور نون لیگ دیکھتی رہ گئی۔ 2018 کے الیکشن کے بعد بھی خود کو خطروں کا کھلاڑی کہلانے والا زرداری طاقتوروں کے بھرّے میں آ گیا اور صدارتی الیکشن اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقعے پر نواز شریف اور اپوزیشن کی تجاویز کو نظرانداز کر کے پی ٹی آئی کی اس طرح مشکل صورت حال میں مدد کی کہ سب نے نعرہ لگایا کہ عمران زرداری بھائی بھائی۔ مگر تھوڑے ہی عرصے بعد ضرورت پوری ہونے کے بعد طاقتوروں نے حسب عادت آنکھیں بدلیں۔ وزیراعظم کا لہجہ بدلا۔ نیب کا پٹہ کھولا گیا اور نون لیگ کی طرح پی پی کی قیادت کے خلاف بھی کارروائیاں ہونے لگیں۔ زرداری اور ان کی ہمشیرہ کے علاوہ خورشید شاہ کو بھی پابند سلاسل کر دیا گیا۔

تب زرداری کو نواز شریف کی باتیں یاد آئیں اور انہوں نے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی ٹھانی۔ پی ڈی ایم بنائی گئی۔ چھبیس نکاتی ایجنڈا طے کیا گیا اور ناجائز اور نااہل حکومت کو چلتا کرنے کے لیے استعفوں سمیت آخری حد تک جانے کے فیصلے ہوئے۔ پی ڈی ایم کے پہلے ہی جلسے میں جب لندن میں بیٹھے نواز شریف نے ادارے کی شخصیات کے نام لے کر انہیں للکارا تو مفاہمت کے بادشاہ کو دانتوں پسینہ آ گیا۔ ہرچند بلاول بھٹو نے ازالے کی بہت کوشش کی مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ پی پی کا مفاہمانہ رویہ دیکھ کر طاقتوروں نے نون لیگ اور جے یو آئی کا زور توڑنے کے لیے مفاہمت کے بادشاہ کو ایک مرتبہ پھر لولی پاپ دینے کی کوشش کی۔

اسمبلیوں سے استعفے دینے کے لیے پر تولتی اپوزیشن کو یوں رام کیا کہ اپوزیشن ضمنی اور سینیٹ کے الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہو گئی۔ بادشاہ گروں نے جادو کی چھڑی گھمائی اور اپوزیشن نے نہ صرف چاروں صوبوں میں ضمنی الیکشن جیتے بلکہ سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کے مقابلے میں یوسف رضا گیلانی کو مرد میدان بنوا کر مفاہمت کے بادشاہ کے غبارے میں مزید ہوا بھر دی گئی۔

دوسری طرف ساری زندگی کرکٹ اور حسینوں کی زلفوں سے کھیلنے والا وزیراعظم سیاسی غلطیوں پر غلطیاں کرتا رہا۔ وہ سیاسی نفسیات اور حرکیات سے نابلد ہو کر اپنی وزارت عظمٰی کو اپنی سیاسی بصیرت اور جادوئی شخصیت کا کرشمہ سمجھنے لگا۔ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے جا بے جا اسے للکارنے اور دبانے لگا۔ سیاست میں جوڑ توڑ کے ہنر سے نا آشنا وزیراعظم کو زعم تھا کہ وہ صادق و امین اور دیانت داری کا پیکر ہے، اس لیے کرپٹ سیاست دانوں سے ہاتھ ملانا اور مکالمہ کرنا اس کی توہین ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی مرتبہ قومی امور پر وزیراعظم کی جگہ بادشاہ گروں کو اپوزیشن سے مذاکرات کرنا پڑے۔

سیاسی امور سے یکسر بے بہرہ وزیراعظم کو بارہا سمجھایا گیا کہ سیاست میں ملک کی تمام اپوزیشن کو متحد کرنا کامیابی نہیں بلکہ پرلے درجے کی حماقت ہے مگر اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ وہ سیاست اور کار حکومت کو بھی کرکٹ کا کھیل سمجھتا رہا۔ اس نے سمجھا جس طرح اس سے پہلے اس کے کام ہوتے رہے ، اب بھی ہوتے رہیں گے اور اس کا کام صرف اپوزیشن کا للکارنا، لتاڑنا اور نفرت کا پرچار کرنا ہے۔ وہ اسی زعم اور خودسری میں مبتلا تھا کہ بادشاہ گروں نے سینیٹ الیکشن میں اس سے ہاتھ اٹھا کر اسے اپنی اوقات یاد دلا دی۔ چیئرمین کے انتخاب سے دو روز قبل وزیراعظم کی بد حواسیاں اور گھبراہٹ اس انتہا تک چلی گئی تھی کہ اس نے اسمبلیاں توڑ کر نئے الیکشن کروانے کی کھلی دھمکی دے دی۔

ہے تو سر پھرا اور غصے و انتقام کا بہت تیز آدمی۔ جب بادشاہ گروں نے الیکشن کے بعد نون لیگ کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ اقتدار سنبھالنے کا ہولناک نقشہ چشم تصور سے دیکھا تو ان کے ہاتھ پاوٴں پھول گئے۔ غیر سیاسیوں اور بادشاہ گروں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین الیکشن کا محفوظ انتظام کیا۔ پی ڈی ایم کے قلعے میں اس طرح نقب لگائی کہ سب چکرا کے رہ گئے۔

آج جب کہ حکومتی اتحاد جشن فتح منا رہا ہے تو پی ڈی ایم اتحاد کی یہ حالت ہے کہ کچھ لوگ اپنی صفوں میں غدار تلاش کر رہے ہیں۔ کچھ سینیٹ الیکشن کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلینج کرنے کے مخمصے میں ہیں۔ ہر کوئی اپنے ہی دوستوں کو شک بھری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ بد حواسیوں، غلط فہمیوں اور بد گمانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ مریم نواز کی ضمانت کی منسوخی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جا چکی ہے۔ نون لیگ کے ایک دھڑے کو پنجاب میں عدم اعتماد کا جھنجھنا دے دیا گیا ہے۔ مولانا نون لیگ سے شاکی، نون لیگ پی پی سے شکوہ کناں۔

بلاول بھٹو اور طلال چودھری کے درمیان لفظی جنگ کچھ اور قصہ سنا رہی ہے۔ پی پی استعفے دے یا سندھ حکومت بچائے؟ لندن میں بیٹھا جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا دعویدار الگ اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ ادھر مولانا حیران، لب بستہ اور دلگیر بیٹھے ہیں۔ خطروں کا کھلاڑی اور سب پہ بھاری زرداری الگ زخم سہلا رہا ہے اور ”غیر سیاسی“ دور بیٹھ کر اپنے موٴثر اور کارگر وار کے ہمہ جہت اثرات دیکھ کر لطف لے رہے ہیں۔ ویسے ”غیر سیاسیوں“ نے اپنی صرف ایک چال چل کر اناڑی وزیراعظم کو سیاست اور سب پر بھاری زرداری کو سبق سکھا دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply