ہمارا تصورِ ذات کیسے بنتا ہے(قسط 7)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ہر انسان کو زیادہ نہیں تو کبھی نہ کبھی تو چیلنجز کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ پچھلی قسط میں ہم نے انہیں ”Threats to self“ کا یعنی ذات کو لاحق خطرات سے تعبیر کیا ہے۔ آپ کے مشاہدے میں آیا ہو گا کہ لوگ بہت بڑی بڑی مشکلات سے گزرتے ہیں۔ مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی ذات بھی قائم رہتی ہے۔ ہم اس حصے میں یہی جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر وہ کون سی تراکیب ہیں یا وہ کون سے اعمال ہیں جو ہمیں ذات کو لاحق خطرات سے نجات دلانے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ یہ مضمون اس حوالے سے نہایت اہم ہے کہ آپ ان اعمال کو اپنا کر بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔

ان چیلنجز سے نپٹنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان ’خطرات اور چیلنجز‘ سے براہ راست نپٹا جائے ( اس کا تذکرہ ہم اگلی قسط میں تفصیل سے کریں گے ) جب کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان خطرات سے پیدا ہونے والے منفی جذبات سے بچا جائے۔ مثلاً کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کو آپ روک نہیں سکتے مثال کہ طور پہ کسی قریبی دوست کی موت ۔ تو اس صورت حال میں آپ نے منفی جذبات (Negative emotions) سے ہی نپٹنا ہوتا ہے۔ یہاں ہم ان Coppin mechanism کا ذکر کریں گے جنہیں عمومی طور پہ لوگ استعمال کرتے ہیں یا جن کو استعمال کر کے آپ منفی اثرات کم کر سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ استعمال ہونے والا عمل مصیبت اور پریشانی سے فرار (Escape) ہے۔ چیلنج سے فرار ہماری بہت زیادہ مدد کرتا ہے کہ ہم اپنی ذات کی خامیوں پر پردہ ہی پڑا رہنے دیں۔ اس لیے ہم انگریزی کا لفظ Distraction یعنی توجہ کو کسی دوسری چیز پر مبذول کر لینا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ عمومی طور پہ آپ نے سن رکھا ہو گا کہ اگر کوئی بندہ بہت زیادہ پریشان ہو تو اسے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ خود کو مصروف کر لے ، اس طرح اس کا دھیان اس واقع کی طرف نہیں جائے گا جو کے پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔

اسی طرح Break ups کے بعد مشورہ دیا جاتا ہے کہ چند دن کسی دوسرے شہر کی سیر کے لیے چلے جاؤ ، اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ بندے کی توجہ مسئلے سے ہٹ جائے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایک طرح کی Distractions ہی ہیں۔ ہم ان پہ بہت زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں خاص طور پہ جب ہم پریشان ہوتے ہیں۔ چند تجربات میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ امتحان میں فیل ہونے کے بعد ان طلبا میں ٹی وی دیکھنے کا زیادہ رجحان پیدا ہو گیا ان کے برعکس جو طلباء کے جو امتحان میں پاس ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ نشہ آور ادویات اور منشیات بھی Self awareness کم کر کے Escapism اور Distraction میں مدد کرتی ہیں۔

آپ نے یہ رجحان ان طلبا میں ضرور دیکھا ہو گا جن کے امتحان میں کم نمبر آتے ہیں کہ بھئی ”نمبر ہی سب کچھ نہیں ہوتے!“ ذات کو لاحق خطرات سے نکلنے کا یہ دوسرا طریقہ ہے۔ ہوتا یہ ہے کے اس طریقے میں کہ ہم جس شعبے میں ناکام ہوتے ہیں ہم اسے کم اہمیت دینا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کے جن شعبوں میں ہم اچھے ہوتے ہیں ان کی تعریف کرتے ہیں۔ ان کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ہم بار بار ذات کی ان خصوصیات پہ زور ڈالتے ہیں جو ہم میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں کہ یہ ہمارے اندر زیادہ ہیں۔

مثال کے طور پہ ایک طالب علم جو کہ کرکٹ کا ایک اچھا کھلاڑی ہے ، امتحان میں کم نمبر آنے پہ کہے گا کہ میرے نزدیک تو نمبروں کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ اصل اہمیت ہے صحت مند جسم کی اور میں ایک کھلاڑی ہوں اور صحت مند بھی ہوں وغیرہ وغیرہ۔

” Graham Greene“ ایک مشہور ناول نگار ہیں۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا تھا:

Sometimes I wonder how all those who do not write, compose , or Paint can manage to escape the madness the melancholia the panic fear which is inherent in the human situation

یعنی ناول نگار حیران ہے کہ وہ لوگ جو لکھتے نہیں ہیں ( یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جذبات کا اظہار نہیں کرتے ) وہ پاگل پن سے فرار کیسے حاصل کر لیتے ہیں ۔ یعنی آپ جیسا بھی محسوس کر رہے ہیں اس کا اظہار بہت ضروری ہے ۔ آپ Paint کر سکتے ہیں یا کسی قریبی دوست سے بات کر کے اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں ۔ خاص طور پہ لکھ لینے سے ہمارے جذبات کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ شاعر حضرات شدت غم میں زیادہ لکھتے ہیں۔ اگر آپ اس طریقہ کو اپناتے ہیں تو آپ خود اس کا فائدہ دیکھ لیں گے۔ جب یونیورسٹی کے کچھ طلبا کو کہا گیا کہ وہ اپنی زندگی کے تکلیف دہ واقعات لکھیں تو دیکھا گیا کہ اس کے بعد ان کے جسم میں مدافعاتی نظام زیادہ اچھے سے کام کرنے لگا۔ یہ ممکن ہے کہ تکلیف دہ (Traumatic ) لکھتے وقت آپ اچھا محسوس نہ کریں لیکن اس کے دیرپا اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوں گے۔

جب انسان بہت زیادہ پریشان ہو تو کسی کی مدد کر دینے سے بھی پریشانی دور ہو جاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ عام طور پہ گھروں میں یہ روایت ہوتی ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو صدقہ دیا جاتا ہے۔ دراصل صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو شخص پریشان ہے ( پریشانی کی وجہ بیماری کے علاوہ بھی ہو سکتی ہے ) اپنے ہاتھ سے کسی کی مدد کرے ، چاہے وہ مدد مالی ہو یا پھرServices کی شکل میں ہو۔ Shelly Taylor نے اس مظہر کو Tend and Befriend کے نام سے تجویز کیا ہے۔ عمومی طور پہ یہ طریقہ مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ استعمال کرتی ہیں۔

اس قسط میں ہم نے منفی جذبات جو کہ ذات کو لاحق خطرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ، سے نپٹنے کے حوالے سے کچھ Coping Strategies کا ذکر کیا ہے۔ اگلی قسط جو کہ اس سلسلے کی آخری قسط بھی ہے، میں ہم مسئلے سے براہ راست نپٹنے کے حوالے سے بات کریں گے۔

(جاری ہے۔۔۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply